وما ارسلنک الارحمة اللعالمین
ـ 20 فروری ، 2012
ڈاکٹر راشدہ قریشی ۔۔۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے.... عالمگیر مذہب ہے اور سلامتی ہی سلامتی ہے۔ تحریک پاکستان جب عروج پہ تھی تو برصغیر پاک و ہند کی فضائیں پاکستان کا مطلب کیا لااِلہ الا اللہ سے گونجتی تھیں اور اس کلمة اللہ کے صدقے ہی سے 14اگست 1947ءکو مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کی تقسیم سے مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنی قومیت کی اساس توحید، ایک اللہ پہ ایمان، ایک رسول کی پیروی، ایک کتاب و شریعت کی متابعت پہ رکھ لی۔ اخوت دینی، مذہبی فکر و تصور اور حاکمیت الٰہی پہ مبنی پاکستان ایسی ریاست کا معرض وجود ہوا جو کہ انیسویں صدی کا ایک عظیم واقعہ ٹھہرا کیونکہ ریاستیں عمومی طور پر جغرافیائی، نسلی یا لسانی اکائیوں سے تشکیل پاتی ہیں۔ مسلمانان ہند جناح کی سرپرستی میں سرور کونین کے اصل راستے میں بے شمار قربانیاں دے کر اس سر زمین کا وجود عمل میں لائے جسے ہم ”پاکستان“ کہتے ہیں جبکہ نبی کریم نے خود اسلام کی عالمگیریت کے تصور کے عین مطابق مسلمانوں کی ایک ایسی عالمی ریاست قائم کرکے دکھائی جو تاقیامت مسلمانوں کیلئے عملی نمونہ ہے۔ دنیا کی کل آبادی کا 28 فیصد حصہ اُمت مسلمہ پر مشتمل ہے جو اپنے اپنے قبیلے و ریاست میں آباد ہونے کے باوجود نبی کریم کی رعایا ہے۔ یورپ کی طرف دیکھ لیجئے، سوئٹزرلینڈ کی مٹھی بھر آبادی میں اس وقت جرمن، فرانسیسی اور اطالوی موجود ہیں۔ امریکہ جو اس وقت گلوبلائزیشن کے نعرے میں خود کو دنیا کا چودھری سمجھتا ہے.... کوئی اکائی ہی نہیں رکھتا بلکہ یہ مختلف قومیتوں و نسلوں کا مجموعہ ہے خود ہندوستان میں رنگ و نسل، ذات پات، زبان، رسم الخط، دین و مذہب، تہذیب و تمدن میں کوئی ہم آہنگی نہیں۔ یہ بڑی اہم، خوش آئند اور قابل فخر بات ہے کہ یہ صرف اور صرف دین اسلام ہے جس نے نہ صرف ایشیائی خطے کے رہنے والوں کو بلکہ پورے عالم کے دین محمدی کے کو ماننے والوں کو ایک عالمی اسلامی ریاست میں سمو دیا ہے۔ یہ دین اسلام کا اعجاز ہے جو کہ ہمیں غیر مذہب سے رواداری و حقوق انسانیت کے احترام کا درس دیتا ہے۔ اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے غیر مذاہب کے ساتھ صلہ رحمی کا درس دیا۔ عربی و عجمی، گورے و کالے، ذات پات و رنگ و نسل کے فرق کو مٹا دیا تاہم ہمیں وقت کے تقاضوں اور زمانے کی چال ڈھال پہ ہر طور نظر رکھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ آج جہاں ہم خصوصی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ جس عظیم عالمی اسلامی ریاست کا قیام رہبر کامل کی قیادت اعلیٰ کا ثمر مسلمانوں کو چودہ سو سال سے زائد عرصے قبل حاصل ہوا تھا اس کی بنیادوں کو وہ کیا سیم و تھور ہے کہ کمزور کر رہی ہے۔ سائنس کی دنیا میں چلتے ہیں، تعلیمی میدان کو پرکھتے ہیں، صنعت و حرفت کا جائزہ لیتے ہیں، زرعی پیداواری نظام کو بھانپتے ہیں، قدرتی توانائی کی افزائش کا معائنہ کرتے ہیں، زندگی کے گزارنے کے بہترین وسائل کی دریافتوں پہ نظر ڈالتے ہیں تو یہ اک قوم جو قوم رسول ہاشمی ہے، پیچھے ہوتی چلے جا رہی ہے۔ باکمال ذہانتوں، بے مثال صلاحیتوں کے باوجود وہ قوم جس کا مقدر حکمرانی تھا غلامی کی طرف کیونکر آ رہی ہے.... شاید ابوجہل و ابولہب کے چیلوں کی چالیں آج ناکام بنانے کیلئے ہمیں وہی صداقت و شجاعت کا سبق دہرانا ہو گا اور ربیع الاوّل ولادت رسول امین کا مہینہ ہم سے متقضی ہے کہ ہم اس عہد کی تجدید کریں جو عہد بحیثیت قوم رسول ہاشمی ہم نے اپنے اور اپنے خدا کے محبوب سے باندھ رکھا ہے.... آئیے نظام مصطفی کو رائج کریں، باطل و کفر کا راستہ روکنے کیلئے سینہ سپر ہو جائیں، حیاءو شرم کے اوڑھنے اوڑھ لیں اور ہر مظلوم کی انفرادی و ریاستی ہر سطح پہ داد رسی کیلئے آگے بڑھیں۔ الحمد اللہ ہر روز کسی نہ کسی محفل میلاد و سیرت النبی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ ملک شاہ محمد محسن مرحوم سابق ایم این اے کے صاحبزادے ملک عظمت کے اور ڈاکٹر بودلہ صاحب کے گھروں میں منعقدہ میلاد کی محفلیں نہایت روح پرور تھیں۔ قربان اینڈ ثریا ایجوکیشنل ٹرسٹ کی ہیڈ انتظامیہ مسز عابدہ طارق محمود کی محفل میلاد نے ایمان تازہ کر دیا ، غزالہ سعد رفیق (ایم پی اے) کی نعت خوانی نے بے حد سرور دیا، ایک اچھی بات جو قربان اینڈ ثریا ایجوکیشنل ٹرسٹ کے بانی و سرپرت اعلیٰ قربان علی نے کی وہ بات میں اپنے قارئین تک پہنچانا چاہوں گی۔ جناب قربان علی نے کہا ”اس کائنات کا خالق و مالک اللہ ہے، اس نے زمین پہ انسان کو اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے اور اللہ نے اس حضرت انسان کو زمین پر امن و آشتی کا گہوارہ بنانے اور عقل و شعور بانٹنے اور دین حق کی تبلیغ کا کام سونپا ہے۔ اسی لیے اللہ بزرگ و برتر نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءعلیہ السلام بھیجے اور اپنے پیارے نبی آخر الزماں کو معلم اعظم کا درجہ دیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک علم حاصل کرتے رہے اور قرآن و سنت پہ عمل کرتے رہے، دنیا پہ حکومت کرتے رہے۔ صنعت و حرفت و سائنس میں ترقی کی لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے قرآن و سنت پر عمل کرنا چھوڑا ان کا زوال شروع ہو گیا۔ آج مغربی ممالک دنیا پہ ہر میدان عمل میں حکمران ہیں اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے دین کو اپنے معاملات میں اپنا لیا ہے۔ تعلیم کو عام کیا جو کہ دین اسلام کا امتیاز ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن و سنت سے اپنا ناطہ مضبوط کریں اور معلم اعظم کے ارشاد کے مطابق تعلیم کو عام کریں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں