بھولے بادشاہو، اپنے وزیر خزانہ سے ہی پوچھ لیتے
سعید آسی ـ 19 اکتوبر ، 2009
مخدومِ ملتان شاہ محمود قریشی نے امریکہ سے کیری لوگر بل پر صدر اوبامہ کے دستخطوں کا تحفہ لے کر ملک واپس آتے ہی جس جذباتی انداز میں کیری لوگر بل پر قومی اسمبلی میں جاری بحث سمیٹی، شائد وہ اس پر وصول ہونے والی داد و تحسین کی بنیاد پر خود کو دوسرے مخدومِ ملتان وزیر سید یوسف رضا گیلانی سے سبقت لے جاتا ہوا زیرک سیاستدان محسوس کر رہے ہوں گے۔ ان کی تقریر کے دوران سید یوسف رضا گیلانی کی باڈی لینگوئج سے بھی یہی اندازہ ہو رہا تھا کہ ان دونوں مخدومینِ ملتان کی آپس میں دیرینہ سیاسی مقابلہ بازی چل رہی ہے۔ سوئے اتفاق، وہ ہمیشہ ایک ہی سیاسی پلیٹ فارم پرچاہے وہ مسلم لیگ کا ہو یا پیپلز پارٹی کا، اپنی باہمی مقابلہ بازی کے جوہر دکھاتے ہیں جبکہ تیسرے مخدومِ ملتان جاوید ہاشمی اب سیاسی پلیٹ فارم کے انتخاب کے معاملہ میں ثابت قدم ہو چکے ہیں مگر اس پلیٹ فارم پر وہ اپنے پارٹی قائدین کو بھی لیڈ کرتے نظر آتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی سے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خاں کی خفیہ ملاقات سب سے پہلے مخدوم جاوید ہاشمی کی تنقید کی زد میں ہی آئی تھی جو سیاستدانوں کی جانب سے فوج کو سیاست میں دخل دینے کی دعوت کو گناہِ عظیم گردانتے ہیں اور اسی پاداش میں وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے رگڑے میں آ کر کم و بیش پانچ سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے ہیں۔
کم و بیش اتنی ہی قید وبند کی صعوبتیں دوسرے مخدومِ ملتان سید یوسف رضا گیلانی کے حصے میں بھی آئیں جو ’’چاہ یوسف سے صدا‘‘ کی صورت میں ان کی سیاسی زندگی کا زیور بنیں جبکہ مخدومِ ملتان شاہ محمود قریشی ہمیشہ مزے میں رہے ہیں۔ اقتدار والی طاقت و اختیار کی چاشنی ان سے کبھی دور نہیں ہوئی۔پیپلزپارٹی صعوبتوں سے بھرپور سیاست کی سختیاں برداشت کر رہی تھی، تب بھی مخدوم شاہ محمود قریشی ضلع ناظم ملتان کی حیثیت سے طاقت و اختیار کی چاشنی سے محروم نہیں تھے۔ اب شائد تھوڑا سا ’’کمپلیکس‘‘ ان کی چاشنی والی سیاست کو پریشان کرتا ہوگا کہ ان کے مدمقابل دوسرے مخدوم سید یوسف رضا گیلانی ان سے بڑے منصب وزارت عظمیٰ پر فائز ہیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے مد مقابل اس مخدومِ ملتان کی موجودگی میں قومی اسمبلی کے فورم پر اپنے فنِ تقریر کے جوہر دکھائے جس پر وزیراعظم کا ’’رسپانس‘‘ ان کی باڈی لینگوئج سے بخوبی دیکھا جاسکتا تھا۔
مگر مخدوم صاحب، یہ محض سیاسی مقابلہ بازی ہی رہی۔ حقیقت میں آپ نے کیری لوگر کے قانون کے ذریعے قوم کو امریکی غلامی میں دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ تو ایوان اقتدار کی بلند فصیلوں میں موجود سربستہ رازوں میں سے ہی ایک راز ہوگا کہ کیری لوگر بل کے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اچانک امریکہ جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جبکہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی یہ واضح اعلان کر چکے تھے کہ قومی آزادی اور خودمختاری کا سودا کرکے کیری لوگر بل کی شرائط ہر گز قبول نہیں کی جائیں گی اور ان شرائط کے بارے میں حتمی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کا ہوگا جس سے اوبامہ انتظامیہ کو آگاہ کردیا جائے گا۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ پارلیمنٹ کے فیصلہ کی نوبت آنے سے پہلے ہی مخدوم شاہ محمود قریشی بریف کیس ہاتھ میں تھامے امریکہ جا پہنچے اور قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہی وہاں سے اوبامہ کے دستخط شدہ کیری لوگربل کے قانون کا ’’تحفہ‘‘ لے کر سیدھے قومی اسمبلی کے منتخب ایوان میں آ دھمکے۔
دعویٰ کر رہے تھے ’’میں نے امریکی حکام کو باور کرا دیا ہے کہ آپ کو فوجی آمروں سے معاملات کرنے کی عادت پڑی ہوئی ہے اس لئے آپ یہ عادت ترک کرکے اب جمہوری حکمرانوں سے معاملات بنانے کی عادت ڈالیں‘‘ کیری لوگر بل کو امریکی قانون کا درجہ دلوا کر وہ قومی اسمبلی کے فورم پر جس جوشیلے انداز میں اس قانون کو پاکستان کیلئے نعمت غیرمترقبہ قراردے رہے تھے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے واشنگٹن انتظامیہ کو یہ یقین دلا کر کیری لوگر بل پر صدر اوبامہ کے دستخطوں کا تحفہ حاصل کیا ہوگا کہ بھلے بادشاہو، آپ ہر وقت فوجی آمروں کی جانب ہی کیوں دیکھتے رہتے ہو۔ ہم ان سے بڑھ کر آپ کے مفادات کا تحفظ نہ کریں تو جوچاہیں ہمیں سزا دیں۔ اور کیری لوگر بل کے ساتھ نتھی کیا گیا وضاحتی بیان اللہ اللہ…؎ یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے کیری لوگر بل کے مضمرات کے بارے میں اگر فی الواقع آگاہی حاصل کرنا ہوتی تو اپنے ہم پلہ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین سے ہی پوچھ لیتے جو اس بل کو پاکستان کی آزادی و خودمختاری کیلئے یہ کہہ کر زہر قاتل قرار دے چکے ہیں کہ اس میں شامل ایک شق کے تحت ہمیں خود کو دہشت گرد ریاست تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر یہ شق بدستور بل میں موجود ہے جو اب لازماً امریکی قانون کا درجہ حاصل کر چکی ہوگی تو اس کے بعدہماری آزادی و خودمختاری کا کیا بنے گا جس پر کسی قسم کی سودا بازی نہ کرنے کا وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی عہد کر چکے ہیں۔ کیا انہوں نے محض باڈی لینگوئج کے ذریعے اپنے ردعمل کا اظہار کرنا ہے جبکہ ان کے اعلان کے برعکس کیری لوگر بل پر حتمی فیصلہ کیلئے ان کا طلب کردہ قومی اسمبلی کا اجلاس مخدوم شاہ محمود قریشی کی تقریر کے ساتھ ہی بغیر کسی حتمی فیصلہ کے برخاست بھی کیا جا چکا ہے۔ جناب مخدومینِ ملتان کی اس سیاسی مقابلہ بازی میں وطن عزیز کو ہارنے کا رسک تو ہم ہر گز نہیں لے سکتے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں