شہباز شریف صاحب! دہشت گردی کہیں بھی نہیں ہونی چاہئے!

فضل حسین اعوان ـ 16 مارچ ، 2010
آج پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ لاہور میں 12 مارچ کو ہونے والے دو خود کش دھماکوں اور بعد ازاں رات گئے تک بم حملوں نے شہر اور شہریوں کو لرزا اور دہلا کے رکھ دیا۔ جس علاقے میں 60 افراد موت کی آغوش میں چلے جائیں، کوئی نعش سلامت نہ بچی ہو، سوا سو انسان اپنے اعضا سے محروم ہو کر معذور ہوگئے ہوں وہاں کئی روز تک صفِ ماتم تو بچھی رہے گی۔ اس روز رات گئے تک پورا شہر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر تھا۔ انہوں نے جہاں چاہا کارروائی کی۔ کچھ معلوم نہیں کہ کارروائی کے پیچھے کون ہے۔ طالبان ایسے واقعات کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں۔ حمید گل صاحب ایسے واقعات کا ذمہ دار بھارتی بدنام خفیہ ایجنسی را کو قرار دیتے ہیں جس میں را کو بلیک واٹر کا تعاون حاصل ہے۔ساتھ ہی جنرل حمید گل نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے حکمران امریکہ سے ڈرتے ہوئے بھارت کا نام نہیں لیتے تاہم وزیر دفاع احمد مختار نے تھوڑی سی جرات کر کے کہہ دیا کہ دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد مل گئے ہیں۔ حکومت ان شواہد کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سے قبل وزیر داخلہ رحمان ملک اور دیگر وزراءبھی بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کا نہ صرف الزام لگا چکے ہیں بلکہ ٹھوس ثبوتوں کی موجودگی کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔ ان ٹھوس ثبوتوں اور شواہد کو نہ جانے کیوں سنبھال کر محفوظ رکھا جا رہا ہے۔ ان ثبوتوں کے تناظر میں ایسی ہی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی جیسی بھارت نے ممبئی حملوں کے فوری بعد بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام لگا کر پاکستان کو بدنام کرکے کی تھی۔ معاملہ اقوام متحدہ میں لے جا کر پاکستان کی رفاہی اور فلاحی تنظیموں پر پابندی لگوائی۔ حافظ محمد سعید ان کے ساتھیوں اور دیگر کئی افراد کی ملک بھر سے گرفتاریاں کی گئیں۔ ممبئی حملوں کے بعد ہم بھارت کی نسبت کئی گنا زیادہ جانی و مالی نقصان سے دوچار ہو چکے ہیں۔ حکومت کو بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت مل چکے ہیں تو پھر خاموشی چہ معنی دارد۔ کیا ہمارے حکمران ملکی و قومی مفادات، سالمیت اور سلامتی کا تحفظ کرنے کے بجائے صرف ڈنگ ٹپانے اور پیسے بنانے کے لئے ہی اقتدار میں آتے ہیں؟
آج پاکستان امریکہ کی جنگ لڑتے لڑتے عدم استحکام اور پاکستانی عوام خوف کا شکار ہیں۔ ایک ناگہانی مصیبت اور مرگ ناحق ان کے تعاقب میں رہتی ہے۔ ملک کا ہر حصہ بارود کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اس سب کا سبب کیا ہے؟
پاکستان دہشت گردی کی امریکی جنگ میں کودنے سے قبل خود کش دھماکوں اور بم حملوں سے محفوظ تھا۔ پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بنتے ہی ملک میں ہر طرف تباہی اور بارود کی بو پھیل گئی۔ یہ اس جنگ کا بھی ردعمل ہو سکتا ہے جو پاکستان میں امریکہ کی خوشنودی کے لئے لڑی جا رہی ہے۔ ڈرون حملوں میں بے گناہوں کو قتل، مذاکرات کی دعوت دیکر طالبان کو بلا کر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اس جنگ کے آغاز اور اسے جاری رکھنے میں عام پاکستانی کا ہاتھ ہے نہ حساس اداروں کے نچلے درجے کے اہلکاروں کا۔ یہی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں.... جو اس جنگ کا کمایا کھا رہے ہیں اپنے بنک اکاونٹ بڑھا رہے ہیں پاکستانیوں کا خون بیچ رہے ہیں وہ خود بالکل محفوظ ہیں اگر مقامی کوئی تنظیم پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے تو وہ یقیناً بھارت کے بہکاوے میں آ کر ایسا کر رہی ہے۔ ضرورت بھارتی ایجنٹوں اور پاکستانی مذکورہ تنظیموں کو الگ الگ کر دینے کی ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب مقامی عسکریت پسند تنظیموں کے تحفظات دور کئے جائیں وہ باہمی بات چیت اور مذاکرات سے ہی ممکن ہے لیکن حکومت نے مذاکرات کو شجر ممنوعہ قرار دیکر آخری دہشت گرد کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے جو افسوسناک ہے اور عاقبت نااندیشانہ فیصلہ ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے غیر ملکی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مشرف کے سامنے ڈٹ گئی طالبان کا بھی یہی موقف ہے تو انہیں پنجاب میں دہشت گردی نہیں کرنی چاہئے۔ شہباز شریف کے بیان سے کسی بھی سیاسی لیڈر نے اتفاق نہیں کیا۔ پاکستان میں کسی کی طرف سے کہیں بھی دہشت گردی نہیں ہونی چاہئے۔ پنجاب کے سوا مرکز اور دیگر صوبوں کی حکومتوں کا موقف اگر مشرف کی حمایت میں ہے تو عام پاکستانی کو اس جرم کی سزا کیوں دی جائے۔ شہباز شریف نے اگر ان تنظیموں کو کوئی مشورہ دینا ہے یہ دیں کہ وہ عام آدمی کو بارود، آگ اور آہن کا نشانہ بنانے کے بجائے پاکستان پر یہ جنگ مسلط کرنے والوں سے ”بات“ کریں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں