بلوچستان میں اندرونی بیرونی سازشیں

ـ 12 فروری ، 2012
قیوم نظامی
نامور مو¿رخ لکھتے ہیں کہ کبھی روس گرم پانیوں تک رسائی کے لیے بلوچستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے خواب دیکھا کرتا تھا۔ افغان مجاہدین نے روس کے ان خوابوں کو چکنا چور کر کے رکھ دیا۔ بلوچستان محل وقوع اور قدرتی معدنیات کے اعتبار سے دنیا کا اہم ترین علاقہ ہے۔ بلوچستان ایران، مڈل ایسٹ، جنوب مغربی ایشیاءاور سینٹرل ایشیاءسے جڑا ہوا ہے۔ ان تمام علاقوں میں قیمتی خزانے پوشیدہ ہیں۔ عالمی طاقتیں بلوچستان میں دلچسپی لیتی رہی ہیں بدقسمتی سے آج بلوچستان عالمی طاقتوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ پاکستان کا یہ اہم اور حساس صوبہ اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہوچکا ہے۔ بلوچستان کے قبائلی سردار عرب شیوخ کا سٹیٹس حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے وہ عالمی طاقتوں سے سودے بازی کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ جون 2006ءمیں امریکی دفاعی تجزیہ نگار کرنل رالف پیٹر نے آرمڈ فورسز جرنل میں ایک نقشہ شائع کیا تھا جس میں ایرانی ، پاکستانی بلوچستان اور افغانستان کے مخصوص علاقے پر مشتمل گریٹریا آزاد بلوچستان دکھایا گیا تھا۔ اس وقت جنرل پرویز مشرف پاکستان کا حکمران تھا جو اقتدار کے نشے میں مست تھا۔ اس نے پاکستان کے کئی فضائی اور عسکری اڈے امریکہ کو دے رکھے تھے لہذا اس نے امریکی عزائم کا کوئی نوٹس نہ لیا۔
ایک افسوسناک رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کمیٹی نے بلوچستان کے مستقبل کے بارے میں جائزہ لیتے ہوئے آزاد بلوچستان کی بات کی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی کے نمائیندوں نے امریکہ اور برطانیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر بلوچستان آزاد ہوجائے تو گوادر رپورٹ پر چین کا اثرورسوخ ختم کر دیا جائے گا اور ایران پائپ لائن کو بلوچستان سے نہیں گزرنے دیا جائے گا۔ امریکی کانگریس کمیٹی میں باضابطہ طور پر بلوچستان کی آزادی پر غوروخوض انتہائی اشتعال انگیز اقدام ہے جس پر وزارت خارجہ کی جانب سے شدید رد عمل آنا چاہیئے تھا مگر صد افسوس کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک بار پھر پاکستانی قوم کو شرمندہ اور مایوس کیاہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یہ وضاحت کہ امریکی کانگریس کمیٹی کو امریکی انتظامیہ کی تائید اور حمایت حاصل نہیں ہے اور امریکہ بلوچستان کو پاکستان کا حصہ دیکھنا چاہتا ہے۔ عالمی رائے عامہ کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے اور منافقت پر مبنی پالیسی ہے۔ پاکستان نے نیٹو سپلائی بند کر رکھی ہے اور نئی خارجہ پالیسی زیر غور ہے ان حالات میں امریکن کانگریس کا یہ حربہ پاکستان کا بازو مروڑنے کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔
بھارت میں درجنوں علیحدگی پسندی کی تحریکیں چل رہی ہیں کئی ریاستوں پر بھارت کی مرکزی حکومت کی رٹ ہی نہیں ہے۔ کیا امریکی کانگریس بھارت کی کسی ریاست کے مستقبل کے بارے میں غور وخوض کرنے کی جرات کرسکتی ہے۔ بھارت کے حکمران اور عوام قوم پرست ہیں وہ کبھی دنیا کی کسی طاقت کو اپنی قومی خودمختاری میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان میں امریکہ نواز بااثر افراد امریکہ کو اپنا آقا تصور کرتے ہیں۔ امریکہ اپنے ان دوستوں بلکہ ایجنٹوں کے ذریعے ہی پاکستان میں قدم جماتا ہے۔ بیرونی سازشیں اندرونی معاونت سے ہی کامیاب ہوتی ہیں۔ بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لازم ہے امریکہ نواز افراد پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور انہیں سیاسی و معاشی طور پر بے اثر کر دیا جائے اور ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔کشمیر میں حق خوداریت کا مسئلہ ابھی تک اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے مگر امریکن کانگریس نے کبھی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بحث نہیں کی اور نہ ہی ڈرون حملوں پر اس کی غیرت جاگتی ہے مگر بلوچستان جو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا آئینی صوبہ ہے اسکی نام نہاد مبینہ آزادی پر بحث کے لیے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ تیار ہوجاتی ہے۔
پاکستان کے مقتدر حلقے جان لیں کہ پاکستان دشمن اندرونی اور بیرونی عناصر بلوچستان کے احساس محرومی کی وجہ سے ہی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر بلوچستان کی پس ماندگی کو ختم کرنے کے لیے نظر آنے والے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔قائد اعظم نے بلوچستان کا نظم و نسق براہ راست اپنے ہاتھ میں رکھا تھا ۔وہ خصوصی توجہ دے کر بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانا چاہتے تھے تاکہ بلوچ عوام کو مطمئن کیا جاسکے۔ فوج اور سول اداروں میں ہزاروں بلوچ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے مگر صوبائی اور مرکزی قیادت اسقدر نا اہل ہے کہ مثبت اقدامات کو بھی اُجاگر کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ زیادہ تر سیاسی رہنما گونگے اور بہرے ہیں ان پر میڈیا کی چیخ و پکار کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ وہ بلوچستان کے مسئلے پر بات ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو ان چہرے سے سنجیدگی اور فکر مندی ظاہر نہیں ہوتی۔ جناب نواز شریف نے بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا مگر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وزیرداخلہ رحمن ملک کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت ہورہی ہے مگر چار سال گزرجانے کے بعد بھی وہ بیرونی عناصر کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ حرام کا مال کھانے والے کبھی وطن کا دفاع نہیں کرسکتے۔
بلوچستان میں را اور موساد آگ بھڑکانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔پنجابیوں کو قتل کیا جارہا ہے جبکہ بلوچی بھی قتل اور لاپتہ ہورہے ہیں مگر ریاست کے سربراہ اپنی ساری توانائیاں این آر او کیس پر صرف کر رہے ہیں۔ بلوچستان فری فار آل بن چکا ہے۔ قطر کے تیل کے وزیر سے چھ کروڑ روپے لوٹ لیے گئے ہیں ۔ کیا یہ کثیر رقم بلوچ علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں میں تو نہیں پہنچ گئی۔ اندرونی اور بیرونی سازشوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار اعلیٰ سطحی کمیشن بنانے کی ضرورت ہے۔ سینٹ کے اراکین نے امریکہ کو سخت الفاظ میں پیغام بھیجا ہے ۔ قومی اسمبلی بھی اپنا آئینی کردار ادا کرے اور بلوچستان کے مسئلے پر خصوصی اجلاس کر کے بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرے۔ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو بریفنگ کے لیے بلایا جائے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وزیراعظم پاکستان سے جواب طلبی کی جائے۔بلوچستان قومی سلامتی کا انتہائی حساس مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ہمارا نمبر ون مسئلہ ہونا چاہیئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں