پنجاب یونیورسٹی میں جناب قائداعظمؒ کی تصاویر کی نمائش کا افتتاح

علامہ چوہدری اصغر علی کوثر وڑائچ ـ 11 مارچ ، 2010
بانی¿ پاکستان حضرت قائدِاعظم محمد علی جناحؒ اور تحریکِ پاکستان کے دوران ان کے ساتھ کام کرنے والے مشاہیر تحریکِ قیامِ پاکستان کی تصاویر کی دو روزہ نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کا افتتاح نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین جناب مجید نظامی نے 10 مارچ 2010ءکو صبح ساڑھے دس بجے پنجاب یونیورسٹی (قائداعظم کیمپس) کے ”مین کوریڈور“ میں کیا اور وہ نمائش 11 مارچ کو بھی جاری رہے گی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ¿ امور طلباءنے نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے اشتراک سے مسلمانانِ ہندوستان کے بطلِ جلیل کے ان معرکوں کی تصویری یاد تازہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے جو اسلامیانِ برصغیر کے رہبر فرزانہ جناب قائدِاعظم نے 23 مارچ 1940ءسے لے کر 14 اگست 1947ءتک سرانجام دئیے جبکہ پاکستان کا وجود مسعود منصہ¿ شہود پر وجود پذیر ہوا اور طشتِ عالم پر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان کا نقش ابھر کر عالمی تبدیلِ جغرافیہ کے منظر کا ثبوت بن گیا۔ ان تصاویر میں جناب قائداعظم اپنے ان تمام رفقائے تحریکِ آزادی کے ساتھ نظر آ رہے ہیں جو آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے جنابِ قائداعظم کی عظیم الشان قیادت میں عیار فرنگی حکمران اور مکار ہندو بنئے اور ہندو کانگرس سیاسی پارٹی کے ایجنٹ مسلمانوں کو پچھاڑ کر پاکستان قائم کر دینے کے لئے اسلامیانِ برصغیر کے روح پرور قائداعظم کے ساتھ شبانہ روز کام کر رہے تھے۔ جناب مجید نظامی یوں تو تحریکِ قیامِ پاکستان ہی سے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے کام کر رہے ہیں، مگر جب سے انہوں نے نوائے وقت کی عنانِ امور سنبھال کر اپنے برادر بزرگ اور برصغیر کے یگانہ¿ روزگار صحافی اور تحریکِ قیامِ پاکستان کے دوران بطور ایک نوجوان رہنما شام و سحر کام کرکے جناب قائداعظم کو تقویت پہنچانے والے جناب حمید نظامی کے کٹھن فریضہ کو سرانجام دینے کی ذمہ داری سنبھالی اس کام کو اپنا مشن بنا لیا اور حتماً جب وہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین کے طور پر میدان میں اترے تو نظریہ¿ پاکستان، دو قومی نظریہ اور پاکستان کے قیام کے عظیم مقاصد کے حصول کے باب میں بانی¿ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کے افکار و تعلیمات کو عام سے عام تر کر دینے کے انتظامات کرتے رہنا اپنا فریضہ سمجھ لیا۔ زیرِ تبصرہ نمائش بھی اصولاً ان کے ایما پر ہی منعقد کی گئی تاکہ پاکستان کی وہ نوجوان نسل جو پنجاب یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہے مگر جنابِ قائداعظم اور ان کے یگانہ¿ روزگار ساتھیوں کی نادر تصاویر دیکھنے سے محروم چلی آ رہی ہے وہ اس نمائش سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکے چنانچہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی تجویز پر جناب مجید نظامی نے اس گراں قدر اور بامقصد نمائش کا افتتاح کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور آج وہ جب پنجاب یونیورسٹی پہنچے تو وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران، نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد، پروفیسر ڈاکٹر سرفراز حسین مرزا، آئی ٹی کالج پنجاب یونیورسٹی کے پرنسپل ڈاکٹر منصور سرور، اوری اینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر معین شعبہ¿ امور طلباءکے ڈائریکٹر افتخار چودھری، شعبہ¿ تہذیب و تمدن و طرزِ عمل کے ڈین ڈاکٹر مغیث الدین شیخ اور پنجاب یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز خواجہ طاہر جمیل کے علاوہ متعدد دیگر پروفیسرز حضرات اور طلباءجناب مجید نظامی کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ اس وقت طویل کوریڈور کے ایک حصے میں ان مطبوعات کا سٹال بھی آراستہ کر دیا گیا تھا جو نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے خود شائع کی ہیں اور جن کا مقصد ملت پاکستان اور پاکستان کی ہر نئی نسل کو نظریہ¿ پاکستان، دو قومی نظریہ اور پاکستان کے قیام کے عظیم مقاصد سے آگاہ کرنا ہے۔ جناب مجید نظامی نے ماہرین تعلیم کے جَلَو میں سبز فیتے کو قینچی سے دولخت کر کے بھرپور کلیپ اور اس نمائش کا افتتاح کرنے کے بعد اعلان کیا کہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سٹال پر جتنی کتابیں اور کتابچے موجود ہیں وہ پنجاب یونیورسٹی کے طلباءو اساتذہ میں مفت تقسیم کر دئیے جائیں اور میں خود اپنی گرہ سے ان کی قیمت ادا کر دوں گا۔ اس اعلان کو بھی تالیوں کی گونج میں قابلِ ستائش گردانا گیا۔ پھر جناب مجید نظامی نے وائس چانسلر اور دیگر تمام علمی و تعلیمی و نظریاتی شخصیات کے ساتھ جنابِ قائداعظم اور ان کے ایک ایک ساتھی کی تصویر کو دیکھا اور پورے طویل کوریڈور کا راﺅنڈ لگایا مگر اس نمائش سے باہر آنے سے پہلے یونیورسٹی نیوز چینل کی درخواست پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے اور پنجاب یونیورسٹی نے جناب قائداعظم اور دیگر مشاہیر تحریکِ قیامِ پاکستان کی نمائش کا اہتمام کیا ہے اور ایشیا کی اس عظیم ترین اور قدیم ترین یونیورسٹی کے طلبا و طالبات و اساتذہ کو مستفید و مستفیض ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس وقت مجھے یہ دیکھ کر دلی مسرت ہو رہی ہے کہ میرے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے ایک سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد اور موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کھڑے ہیں اور یہ دونوں شخصیات بھی پاکستان کے اساس نظریات کے فروغ و ترویج میں اسی طرح دلچسپی لے رہے ہیں جس طرح میں یا دیگر حقیقی فرزندان پاکستان دلچسپی لیتے ہیں۔ بلاشبہ ہم سب کو تو یہ احساس ہے اور اس عظیم احساس کو ہم نے اپنی آئندہ نسلوں تک پہنچاتے رہنے کا فریضہ ادا کرنا ہے کہ اگر خدانخواستہ، خدانخواستہ پاکستان جناب قائداعظم کی عظیم الشان قیادت سے معرضِ وجود میں نہ آتا تو برصغیر میں مسلمانوں کا کیا حال ہوتا۔ اس کی ایک جھلک ان مسلمانوں میں دیکھی جا سکتی ہے جو قیامِ پاکستان کے بعد بھارت ہی کے شہری بن گئے اور اب ہندو کی چیرہ دستیوں کا سامنا کر رہے ہیں لہٰذا ہمیں اس حقیقت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا ہو گا کہ دنیا میں آزادی سب سے بڑی نعمت ہے اور غلامی سب سے بڑی لعنت ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل و کرم سے ہمیں ہندو کی غلامی سے محفوظ رکھے، مگر میں بھارت کو بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ فرزندانِ اسلام نے پہلے بھی ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک برصغیر پر حکومت کی تھی اور اگر بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم پھر بھارت کو ازسرِ نو فتح کرکے اس پر اپنا حاکمانہ تسلط قائم کر لیں گے اور پاکستان مکمل طور پر بھارت پر حاوی ہو جائے گا کیونکہ پاکستان کے گھوڑے بلاشبہ بھارت کے ”کھوتوں“ کے مقابلے میں بہترین ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں