تم کیسے مسیحا ہو
پروفیسر سید اسراربخاری ـ 11 مارچ ، 2010
دو طرح کی خبریں روز چھپتی ہیں کہ کسی ہسپتال میں عملے کی غفلت کے باعث کوئی فوت ہو گیا اور فلاں جگہ پر پولیس نے فلاں کی چھترول کی یہ قاتلانہ مسیحائی اور پولیسانہ چھترول کے باوجود واقعات رک کیوں نہیں رہے۔ آج کی تازہ خبر ہے کہ لاہور کے اک مہنگے اور اعلیٰ ترین ہسپتال میں نرس نے ایک اڑھائی سالہ بچی کو ایسا انجکشن لگا دیا کہ اس نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی، اب اس کا باپ ارباب بست وکشاد کے سامنے دہائی دیتا جا رہا ہے مگر اس طرح کی کتنی دہائیاں ہیں جو روز دی جاتی ہیں مگر وہ حکومت تک نہیں پہنچتیں، عرش تک ضرور پہنچ جاتی ہیں اور بروزِ قیامت ان مہذب قاتلوں کو کیا سزا ملے گی یہ تو عرش والا ہی جانے اس طرح کے واقعات پہلے شاذونادر ہی ہوا کرتے تھے مگر اب یہ روزانہ کا معمول بن گئے ہیں یا تو یہ بات ہے کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف اپنے فن میں ماہر نہیں یا پھر انہوں نے غفلت کی ایسی مدھرا پی رکھی ہے کہ انہیں ہوش ہی نہیں کہ کس مریض کو کون سا ٹیکہ لگانا ہے اور کیسے اس کا علاج کرنا ہے۔ گویا لوگ بے چارے پیسے دے کے موت خریدتے ہیں اور یہ کاروبار روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ہمیں تو محکمہ صحت والے بھی غلط ٹیکہ لگانے والی نرس کی طرح لگتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہسپتالوں، کلینکوں میں بیٹھے علاج کرنے والے سبھی ایسے ہیں مگر جب کسی برائی کی کثرت ہو جائے گندم کے ساتھ گھُن بھی پس جاتے ہیں۔ زندگی بڑی مہنگی جنس ہے اور بڑی خوشگوار نعمت ہے اس سے کسی کو غفلت کے باعث یا نااہلی کے باعث ضائع کر دینا ظلمِ عظیم ہے۔ اخلاقیات کی جتنی ضرورت شفاءخانوں میں ہوتی ہے اتنی تو کہیں بھی نہیں ہوتی شاید یہی وجہ ہے کہ عوام الناس جب نماز پڑھ کے دعا مانگتے ہیں تو کہتے ہیں۔ یا اللہ ہسپتالوں اور تھانوں سے بچا، مریض بے چارے کیا کریں وہ مجبور ہو کر زندگی کی تلاش میں شفاءخانوں کا رخ کرتے ہیں اور مسیحاو¿ں کو اس طرح سے دیکھتے ہیں کہ جیسے وہ ابھی ان کو زندگی دے دیں گے مگر جواب میں موت ملتی ہے ہم کسی ایک ہسپتال کا نام نہیں لیتے لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ چلو سرکاری ہسپتالوں میں تو لاپرواہی ہی کا کھاتہ اس لئے کھلا ہوا ہے کہ وہاں علاج مفت ہوتا ہے مگر جو شہر کے مہنگے ترین ہسپتال ہیں اور ہزاروں روپیہ بٹورتے ہیں وہ بھی زندگی کے نام پر موت بانٹنے لگے ہیں۔ کم از کم وہ علاج کا حق تو ادا کریں۔ مریضوں کو موت کی نیند سلانے والے کسی قاتل کو کبھی پھانسی نہیں دی گئی وگرنہ یوں زندگی سے کھیلنے کا یہ کاروبار عام نہ ہوتا۔ صدر پاکستان ان دنوں بڑے اچھے اچھے کام کر رہے ہیں وہ ایک اچھا کام یہ بھی کر دیں کہ ہسپتالوں کو اچھا کر دیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سے بھی درخواست ہے کہ وہ ہسپتالوں میں شفاءکے نام پر موت دینے والوں کو از خود طلب کریں وگرنہ یہ بچرّ خانے اسی طرح انسانی زندگیوں سے کھیلتے رہیں گے اور بہانے بناتے رہیں گے۔ پاکستان کے ڈاکٹروں نے دنیا بھر میں نام پیدا کیا اس نام کو چند پاکستانی ہسپتال پائمال کر رہے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں