اقتدار یا مچھلی بازار

ـ 11 مارچ ، 2010
تہمینہ شیر درانی
کہا جاتا ہے کہ اقتدار کا نشہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتا اور جس کسی کو یہ لت لگ گئی۔ پھر وہ کبھی بھی اس سے باہر خود کو قبول نہیں کرتا۔ بدقسمتی سے اس سرزمین پر بہت کم ایسے حکمران آئے جنہوں نے اقتدار کو مخلوق خدا کی خدمت کا ذریعہ جانتے ہوئے عبادت کا درجہ دیا جبکہ ایسے حکمرانوں کی فراوانی رہی جنہوں نے اقتدار کو طاقت کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔ ہماری بدنصیبی ہے کہ پاکستان کی 62 سالہ تاریخ میں حکمرانوں کی اکثریت نے اس سرزمین کے ساتھ وہ کھیل کھیلا کہ جس پر ہر محب وطن‘ عقل و شعور کے مالک خون کے آنسو روتے رہے اور رو رہے ہیں۔ اقتدار کے نشے میں چور حکمرانوں نے قومی غیرت اور خودداری کا جنازہ نکالتے ہوئے‘ لوٹ کھسوٹ کا کچھ ایسا بازار گرم کئے رکھا کہ جس سے انکے ساتھیوں اور اقرباءنے تو خوب عیاشی کی جبکہ اس پاک سرزمین کو قرضوں کے لامتناہی سلسلے میں مبتلا کرکے ناصرف وطن عزیز کی جڑیں کھوکھلی کیں بلکہ اس کی آزادی و سلامتی تک غیروں کے آگے گروی رکھ دی۔
عوام کو حسین و دلفریب و دلکش نعرے دے کر ایوان اقتدار میں داخل ہو کر عوام سے منہ پھیرنے والے محسن کش حکمران یقیناً اس مٹی سے وفا نبھانی بھی نہیں جانتے۔ اسی لئے انکے اور انکے ساتھیوں کے اذہان میں لوٹ مار کرتے ہوئے کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ جن لوگوں نے انہیں اس منصب تک پہنچایا ہے۔ اور جس وطن کی بدولت وہ آج حکمران بنے بیٹھے ہیں۔ ان کے ذمے ان کا بھی کوئی حق ہے۔ اقتدار اور دولت کے نشے میں مست رعونیت کا عملی نمونہ یہ شہنشاہ جب مخلوق خدا کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہوئے شاہراہوں سے سے گزرتے ہیں۔ تو عام آدمی تو جو تکلیف ان کے لمبے چوڑے حفاظتی سکواڈ اور پروٹوکول سے اٹھانا پڑتی ہے۔ وہ ایک بچے کی رکشے میں پیدائش پر میڈیا میں خبر آجانے پر اسکے والدین کو پیسہ اور مراعات دینے سے کم نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کی داد رسی کون کرے گا۔ جو موت و حیات کی کشمکش میں پروٹوکول یا حفاظتی دستوں کے گزرنے کے دوران ٹریفک رکنے پر موت کی آغوش میں جا سوتے ہیں یا پھر دیگر تکالیف اٹھاتے ہیں۔ مسئلے کا حل بچے کے والدین کو پیسہ دے کر خاموش کرا دینا نہیں بلکہ اس سلسلے میں م¶ثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت و حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایوان اقتدار میں بیٹھے ہوئے رب ذوالجلال کا شکر بجا لانے کے بعد اقتدار تو امتحان سمجھتے ہوئے۔ آزمائش پر پورا اترنے کی کوشش کریں کہ ”گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔ سدا عیش دوران دکھاتا نہیں۔ ناکہ اقتدار کو مقدس فریضہ سمجھتے ہوئے اقتدار کو مچھلی بازار بنا دیا جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں