حکومتی کارکردگی اور عوامی امیدیں

ـ 11 مارچ ، 2010
عزیر احمد
2008ءکے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی حکومت میں آئی تو عوام کو امید پیدا ہوئی کہ اب ان کے نہ صرف مسائل حل ہونے جا رہے ہیں بلکہ پرویز مشرف دور کے لگائے ہوئے زخموں پر مرہم بھی رکھا جائے گا۔ موجودہ حکومت کی سب سے زیادہ خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو روایتی کے بجائے ایک مثبت سوچ رکھنے والی اپوزیشن ملی۔ میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے دو سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کی کوئی کوشش کی نہ اس حوالے سے کسی بھی طرف سے کی گئی کوششوں کا حصہ بنی۔ حکومت کو عوامی مسائل کے حل کے لیئے اپوزیشن کی اس مثبت سوچ سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے تھا لیکن بد قسمتی سے حکومت نے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تعاون کیلئے بڑھایا ہوا ہاتھ ہر موقع پر جھٹکا اور اس کے مثبت رویے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ایک موقع پر مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں حکومت توڑ کر گورنر راج بھی نافذ کردیا گیا۔ اسکے باوجود بھی مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کی مرکزی حکومت کے خاتمے کی کوشش نہیں کی۔ غیرآئینی اور غیرقانونی طور پر ختم کی گئی صوبائی حکومت کو عدلیہ نے بحال کرکے آئین اور قانون کا بول بالا کرتے ہوئے اس غیرآئینی اقدام کی بیخ کنی کی۔
پیپلز پارٹی کو حکومت میں آئے دو سال ہوگئے۔ اس دوران نہ صرف پرویز مشرف کی دہشت گردی کیخلاف جنگ جیسی ملک دشمنی پر مبنی پالیسیاں جاری ہیںبلکہ مہنگائی کا دور دورہ ہے‘ بجلی اور گیس کی مزید قلت پیدا کی گئی ہے اور بلوں میں ناقابل برداشت اضافہ کردیا گیا‘ تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر کم ہو رہی ہیں جبکہ پاکستان میں بڑھائی جا رہی ہیں۔ آٹے اور چینی کی قلت پر قابو پایا گیا تو قیمتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ اب عام آدمی کیلئے زندگی اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ رینٹل پاور پلانٹس صرف پیسے بنانے کیلئے منگوائے گئے۔ ہر سودے میں کمیشن کی داستانیں عام ہیں۔ بھارت نے پاکستان آنیوالے دریاﺅں پر 62 ڈیم تعمیر کرلئے جس سے پاکستان میں پانی کی شدید کمی ہوگئی‘ فصلیں تباہ ہورہی ہیں‘ مزید ایک سال یہ صورتحال رہی تو ملک قحط کے جال میں پھنس جائیگا لیکن اس پر حکومت خاموش ہے۔ جمہوری حکومت دعوے جتنے مرضی کرتی رہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس کے کریڈٹ پر ایک بھی کارنامہ نہیں جس پر فخر کر سکے ۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی نا کامیوں کو بھی کامیابیوں کی فہرست میں شامل کر دکھایا۔فرماتے ہیں” آئینی مدت پوری کرنے کے بعد عوام کے سامنے پیش ہوں گے جو ہمارا اور ہماری حکومت کا احتساب کرنے کے مجاز ہیں اور ان کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کریں گے“ ۔ اس کا مطلب کہ جو بھی حکومت کرتی رہے اس پر مزید تین سال کوئی انگلی نہ اٹھائے۔مزید کہا ” آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔
دہشتگردی کے حوالے سے کہا ”آج جب میں آپ سے مخاطب ہوں تو میں رب العزت کا شکرگزار ہوں کہ اس کے فضل و کرم سے ہم اپنی کوششوں میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں۔ آپ خود مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کا دعویٰ کہاں تک درست ہے ؟۔جس دن خطاب کر رہے تھے بالکل اسی دن ہنگو میں خود کش حملہ ہوا جس میں ڈیرھ درجن انسانی جانیں جاتی رہیں۔ دو روز قبل لاہور میں دہشت گردی کی واردات میں 14 افراد جاں بحق 100 کے قریب زخمی ہو گئے۔ مرکزی حکومت خلوص نیت سے کام کرے تو بہت سے عوامی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو این آر او کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عمل کرے۔ حکمران اپنے بیرون ممالک موجود اثاثے اور بینک اکاﺅنٹس واپس لے آئیں تو آدھے سے زیادہ عوامی مسائل اس سے حل ہوجائینگے۔ باقی اپوزیشن سے مل کر ہوسکتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں