قیامت !
ـ 11 مارچ ، 2010
بشریٰ زبیر تارڑ
ہرطرف قتل و غارت گری‘ انسانی حقوق کی پامالی‘ زلزلے ‘ سمندری طوفان اور آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ ظالم ظلم کر کے انسانیت ہتک کر رہے ہیں۔ ماڈل ٹاﺅن میں حساس ادارے کے دفتر پر حملے نے ایک قیامت برپا کر دی۔ ہر طرف خون اور اعضا بکھرے ہوئے تھے خود ہمارا گھر دھماکے سے لرز کر رہ گیا۔ سکتہ طاری تھا چند لمحوں کے لئے کچھ دکھائی دیا نہ سجھائی۔ خدایا ایک قیامت تھی۔ حکومتی پالیسیوں کے باعث یہ عالم ہے کہ اپنی ہی عوام کے خون سے گلیوں کو جنازہ گاہیں بنا دیا گیا ہے۔ خود ایوان صدر میں بیٹھ کر مشاورت ہوتی ہے لیکن کسی میں یہ جرا¿ت رندانہ ہے کہ اوباما سے صاف کہہ دے کہ ڈرون حملے کس لئے کر رہے ہو؟ کیوں ماﺅں کے جگر گوشے‘ شیر خوار بچے شہید کر رہے ہو۔ رات کے اندھیرے میں اپنے فوجی دفنانے والے امریکیوں سے پوچھا جائے کہ خود کو سپر پاور کہتے ہو اور ایک اسامہ بن لادن نے تمہیں اتنا نروس کر دیا ہے۔ ہلیری تو 100جہازوں پر ہی ٹل گئی تھی لیکن ہزاروں خاندان روزانہ تباہ ہو رہے ہیں۔ خواہ وہ بھارتی دہشت گردی سے شہید ہوں یا امریکی ڈرون حملوں کا شکار ہوں۔ یہ قیامت ہی تو ہے۔
ہمارے ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بنے رہنے والے حکمرانوں کو اس عوام نے ہی منتخب کیا ہے اور یہ ایسا چپکے ہیں کہ محلات سے باہر آنے کا تصور بھی ان کے لئے محال ہے اور یہ سب عوام کا کمال ہے محترم چیف جسٹس صاحب کو بھی یہی عوام‘ وکیل اور کچھ محترم سیاستدان اللہ کی رضا سے کوشش کر کے لائے تھے۔ محب وطن بے بس ہیں اور غدار وطن لندن‘ امریکہ میں اپنی بے ڈھنگی لیاقت کے جوہر دکھا کر ملک کا نام مزید بدنام کرنے پر تلے ہیں۔ وعدوں کی خلاف ورزی سنگین جرم ہے۔ مسلمانوں میں بھی ایکدوسرے کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ جمہوریت کی روح زخمی اور بے قرار ہے یا تو اسے مکمل طور پر مرنے دیجئے تاکہ اس کی ناقابل برداشت اذیت ختم ہو جائے یا پھر اسے شعور کا جام صحت پلائیے کیونکہ اسلام باشعور قوم کا مذہب ہے۔ ابر رحمت برس پڑے گا انشاء اللہ جبر کی حکومت ختم ہو گی۔ قبر جمہوریت کے گورکن کو مایوس کرنا ہے تو ذاتی خواہشات اور ڈالرز کی امداد کو اس کھودی ہوئی قبر میں دفنا کر بھول جاﺅ۔ تاکہ اے اندھے! بہرے گونگے لوگو تم قیامت میں پروردگار کے حضور سرخرو ہو سکو کیونکہ نشانیاں تو اندھوں کی بھی محسوس ہو رہی ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں