دہشت گردی اور حکمرانی خراٹے!

توفیق بٹ ـ 11 مارچ ، 2010
ابھی کل ہی کسی چینل پر نیب کے ایک ملزم وفاقی وزیر فرما رہے© تھے”ہماری حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اُس نے دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا “۔ ٹھیک چوبیس گھنٹے بعد دہشت گردوں نے وزیر صاحب کے اس دعوے کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا۔ مجھے یقین ہے وزیر صاحب اس پر بھی شرمندہ نہیں ہوئے ہوں گے کہ پاکستان میں حکمرانوں کے شرمندہ ہونے کی روایت زندہ ہوتی تو اسی فیصد حکمران ویسے ہی ڈوب کر مر چکے ہوتے۔ان وزیر وں شذیروں کو کیا خبر دہشت گرد کون ہیں ، کہاں سے آتے ہیں، ان کے عزائم کیا ہیں اور معصوم جانوں کے ساتھ یہ کب تک کھیلتے رہیں گے؟ وزیروں شذیروں،حکمرانوں اور افسروں جیسی ”آسمانی مخلوق“ کو اس کی خبر رکھنے کی ضرورت بھی نہیں کہ دہشت گردوں کا نشانہ زیادہ تر عوام ہی بنے اور بنتے بھی عوام ہی رہیں گے۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے دہشت گردوںنے”آسمانی مخلوق“ کے ساتھ باقاعدہ اتحاد کر رکھا ہے کہ ایک دوسرے کے مفاد ات کا تحفظ کریں گے۔ سو نہ حکمران دہشت گردوں کو زیادہ تنگ کرتے ہیں اور نہ ہی دہشت گرد حکمرانوں کو دونوں نے عوام کو نشانہ بنا رکھا ہے اور دونوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ۔دونوں کے عزائم ایک جیسے ہیں۔ ایک عوام کو بارود سے مارتے ہیں ،دوسرے مہنگائی، ناانصافی ، بھوک،دھونس دھاندلی اور ظلم سے موت توموت ہے کوئی غم سے مرے یا بم سے ایک ہی بات ہے۔دہشت گردوں کے دلوں میں غم سے مرنے والوں کیلئے یقینا کچھ ہمدردی ہو گی۔ وہ یہی سمجھتے ہوں گے سسک سسک کر مرنے والوں کو ایک ہی جھٹکے میں اُڑا کر رکھ دینا زیادہ بہتر ہے۔ شاید اُنہوں نے ناصر کاظمی کا یہ شعر سنا ہو گا۔
موت سے تیرے درد مندوں کی
مشکل آسان ہو گئی ہو گی
حکمرانوں اور دہشت گردوں نے شاید یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ عوام کی مشکلیں اب اسی طرح آسان کرنی ہیں !
دہشت گردی کے حالیہ واقعے کے بعد بھی حکمرانی انداز میں ذرا تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔وہی دہشت گردی اُس کے فوراََ بعد وہی افرا تفری ، وہی” عیادتی ڈرامہ“ ،ہلاک اور زخمی ہونے والوں کیلئے وہی امدادی چیک وہی سیاسی بیانات اور اُس کے بعد وہی روایتی خاموشی ۔جو اب تک کئی بے گناہوں کی جانیں لے چکی اور کسی کو معلوم نہیں یہ سلسلہ کہاں جا کر رُکے گا ، رُکے گا بھی یا نہیں ؟ کہ حکمران اور افسران صرف اپنی فکروں میں مبتلا ہیں، حالانکہ اپنی فکر میں مبتلا ہونے کی اُنہیں ضرورت ہی کیاہے؟وہ تو صرف اقتدار انجوائے کرنے عارضی طور پر یہاں آتے ہیں اور ملک و قوم پر ذرا سا مشکل وقت آنے پر بھاگ جاتے ہیں۔ان کے اصل ممالک وہی ہیں جہاں ان کی اولادیں اور جائیدادیں ہیں۔پاکستان تو ان کیلئے ”چرا گاہ“ ہے۔ جہاں یہ صرف ”چرنے “ آتے ہیں اس” نیک جذبے “کے ساتھ کہ لٹو جی تے پھٹو جی خوبصورت شاعرہ پروین شاکر نے جانے کس” محبوب“ کیلئے کہا تھا کہ
وہ تو خوشبو ہے ہواﺅںمیں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
یہ شعر وہ اپنے حکمرانوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کہتی تو یوں کہتی ”وہ تو بدبو ہے ہواﺅں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول(عوام) کا ہے پھول کدھر جائے گا“۔”بدبو دار حکمرانوں“ نے پاکستان کے ماضی اور حال کو اتنا آلودہ کر دیا کہ آلودگی سے مستقبل بھی محفوظ دکھائی نہیں دیتا۔ آج اگر کسی کا باپ تخت نشین ہے تو کل بیٹا ہو گا ،آج چاچا ہے تو کل بھتیجا ہو گا، آج بابا ہے تو کل بے بے ہوگی،آج ماما ہے تو کل بھانجا ہوگا،آج سوہرا ہے تو کل جوائی ہو گا، اور بہن ہے تو بھائی ہو گا۔ عوام کسی اُمید میں مبتلا ہیں تو اصل میں غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔یہ غلط فہمی صرف ایک ہی طریقے سے دور ہو سکتی ہے کہ وہ خود کو بدل لیں ۔ اس جذبے کے ساتھ کہ خدا اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے آپ اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔ اور عوام بدل گئے تو حکمران بھی بدل جائیں گے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ” جیسی قوم ہوگی ویسے ہی اُ س کے حکمران بھی ہو ں گے©©“۔سو حکمرانوں کو بدلنے کیلئے خود کو بدلنا پڑے گا، بدل سکیں تو ٹھیک ورنہ سب کہانیاں ہیں بابا !
اب تو یوں محسوس ہوتا ہے ”خفیہ ایجنسیوں“ کا صرف ایک ہی کام رہ گیا ہے یہ کہ صوبا ئی حکومتوں کو آگاہ کر دیں اتنے دہشت گرد فلاں فلاں شہر میں داخل ہو گئے ہیں ۔ پھر عوام جانیں اور دہشت گرد جانیں۔ المیہ یہ ہے چند روز دہشت گردی نہ ہو تو پہلے سے خراٹے لیتے ہوئے حکمران یہ سوچ کر مزید خراٹے لینے لگتے ہیں کہ دہشت گردی اب مکمل طور پررُک گئی ہے اور مزید کوئی سانحہ نہیں ہو سکتا۔ کل کسی چینل پر ایک صوبائی وزیر انتہائی”لائٹ موڈ“ میں فرما رہے تھے کہ ”دہشت گردی کے اِکا دُکا واقعات تو ہوتے رہیں گے“۔لگتا تھااُن کا جملہ ادھورا ہے۔وہ کہنا چاہتے ہیں”دہشت گردی کے اِکا دُکا واقعات تو ہوتے رہیں گے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے“؟ حقیقت یہ ہے اُن کے جان ، مال و اولاد کل بھی محفوظ تھے آج بھی محفوظ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔اس ملک کو بنانے کیلئے قربانی عوام نے دی تھی اور بچانے کیلئے بھی عوام ہی دیں گے ۔حکمران صرف صرف اس قربانی کا گوشت کھائیں گے اور وہی کریں جو اُن کی خصوصی شناخت ہے یعنی لٹو جی تے پھٹو جی !
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں