کسک

ـ 11 مارچ ، 2010
امیر نواز نیازی
ناول ادب کی وہ صنف ہے، جو غالباً سب سے زیادہ لکھی اور پڑھی جاتی ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہم شوق رکھنے کے باوجود اس عیاشی سے بڑی حد تک محروم رہے کہ طالب علمی کے زمانے میں جب ایسے شوق اور جذبے عروج پر ہوتے ہیں ہمارے گھر والوں نے ہم پر پابندی عائد کر رکھی تھی کہ ان کے خیال میں ناول پڑھنے سے جہاں ذہن پراگندہ ہو جاتا ہے، وہاں پڑھائی میں بہت نقصان ہوتا ہے چنانچہ ہم جو سائنس کے سٹوڈنٹ تھے، ہمارے لئے ایسے سارے مشاغل شجر ممنوعہ قرار پائے تھے یہاں تک کہ نسیم حجازی کے ناول جو ان دنوں اپنی مقبولیت کی بلندیوں پر تھے ہم نے گھر والوں سے چھپ چھپ کر پڑھے۔ کالج کے زمانے میں ہم نے چوری چوری کچھ افسانے بھی لکھے، جو کالج میگزین میں بھی چھپے تو ان سے شہ پا کر ہم نے ایک ناول لکھنا بھی شروع کیا اور آدھا لکھ پائے تھے کہ اس پر ہمارے والد گرامی کی نظر پڑ گئی تو ہماری ایسی سرزنش ہوئی کہ ہم آج تک اسے نہیں بھول پائے اور یہی کسک آج تک دل میں موجود ہے کہ کاش ہم وہ ناول مکمل کر پاتے اور پھر جب تعلیم کی پابندیوں سے آزاد ہوئے اور عملی زندگی میں قدم رکھا تو اس قدر مصروف ہو گئے کہ کام، کام اور کام کے علاوہ اور کوئی کام نہ کیا اور یوں ناول جیسی نعمت سے مسلسل دور رہے اور جب سرکاری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوئے یعنی چھٹکارا حاصل ہوا اور کچھ فرصت کے لمحے میسر آئے تو اپنی آنکھوں کی بصارت کو آمادہ شرارت پایا اور اب صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اب ہماری آنکھیں مسلسل ڈاکٹروں کی تجربہ گاہ بنی ہوئی ہیں اور ہم لکھنے پڑھنے کو بڑی حد تک خیرباد کہہ چکے ہیں تو اچانک اگلے روز ”وطن عزیز“ ”میانوالی“ سے ”کسک“ کے نام سے ایک خوبصورت ناول نظر آزما ہوا تو ہم اسے نظرانداز نہ کر سکے کہ میانوالی سے منسوب ہر چیز اور وہاں سے آنے والی ہر سوغات اب ہمیں آنکھوں کا سرمہ اور دل کا سرور لگتی ہے۔ چنانچہ magnifying glass کی مدد سے سو صفحات پر مشتمل یہ ناول ایک ہی دن میں پڑھ ڈالا۔ ہمارے نزدیک ایک اچھے ناول کی یہی خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ شروع ہوتے ہی قاری کو اپنی گرفت میں لے لے اور ختم ہونے پر کہانی کا ”ہینگ اوور“ کئی دنوں تک قاری کے ذہن کو ”ہانٹ“ کرتا رہے تو ہم نے ”کسک“ کو بدرجہ اتم اس خوبی کا حاصل پایا۔ ناول کی کہانی، موضوعاتی لحاظ سے معاشرے کی پابندیوں اور خاندانی روایتوں اور رسم و رواج میں جکڑے ایک پٹھان گھرانے کی کہانی ہے جو واقعات اور حالات میں اس قدر مربوط اور منسلک ترتیب دی گئی کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو۔ ناول کے تمام کردار اپنی اپنی جگہ پورے قدوقامت، وضع قطع اور عادات و خیالات کے ساتھ واضح اور منفرد نظر آتے ہیں۔ قارئین کرام ہم یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس ناول کی مصنفہ گورنمنٹ کالج برائے خواتین میانوالی میں اردو کی پروفیسر ہیں۔ کتاب پر ان کا چھپنے والا ان کا نام آر۔کے نیازی پڑھ کر ہم بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے تھے کہ ناول نگار کوئی مرد ہی ہیں لیکن کتاب میں تعارفی مضامین پڑھ کر ہی ہم پر یہ کھلا کہ ناول نگار ایک خاتون ہیں تو اس پر بھی ہمیں خوشی ہوئی کہ میانوالی کی خواتین اب زندگی کے ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں تو یہاں دکھ بھی ہوا کہ آگاہی کے اس طشت ازبام جہان رنگ و بو میں مصمم وہ آج بھی اپنا نام مخفی رکھنے پر مجبور ہیں آخر میں ”کسک“ کیلئے علامہ اقبال کا یہ شعر
کانٹا وہ دے کے اس کی کھٹک لازوال ہو
یا رب وہ درد جس کی کسک لازوال ہو
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں