اسلامی جمہوریہ پاکستان اور تصور حاکمیت

ـ 11 مارچ ، 2010
مجید غنی
اگر موجودہ آئین کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں واضح طور پر درج ہے کہ پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان اور پاکستان کے سربراہ کا مسلمان ہونا بنیادی شرط ہے اور حلف وفاداری میں اسلام کی پاسداری کا ذمہ لیا گیا ہے اس آئینی صورتحال کے ساتھ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سینٹ کا ہر رکن (ماسوائے غیرمسلم ارکان) اسلام کے نفاذ کی ذمہ داری کے ساتھ منتخب ہوا ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ ملک میں نفاذ اسلام کے حوالے سے کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آتی اور افراتفری کے اس دور میں ذاتی اقتدار کے حصول اور طوالت کے لےے ہر معقول اور غیر معقول طریق کار اختیار کیا جارہا ہے۔ ہر دور حکومت میں برسر اقتدار لوگوں کی توجہ صرف اس طرف مرکوز رہتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اختیارات کے مالک بن جائیں اور ان اختیارات کے غلط استعمال سے اپنے دوستوں اور عزیزوں وغیرہ کو نوازیں اور مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کو کچل دیں۔ دوسری طرف حزب اختلاف کے لوگ حکومت کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں کسی آئینی یا غیر آئینی اقدام سے گریزاں نہیں ہوتے۔ عوام کے مسائل اس طرح برقرار ہیں اقتدار کی اس کشمکش کی وجہ سے جمہوریت آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود نہیں۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور سودی نظام کے شکنجے میں ہیں۔ ہماری اعلیٰ اخلاقی اقدار مٹ رہی ہیں۔اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک میں اسلام کا نام صرف دکھاوے کے لےے لیا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ دار آج تک آنے والے وہ حکمران ہیں جنہوں نے اسلام کو صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لےے استعمال کیا اور منصب اقتدار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک انتہائی اہم ذمہ داری سمجھنے سے قاصر رہے اور ملک میں صحیح معنوں میں نفاذ اسلام نہ کر سکے۔ اسلامی نظام کسی فرد واحد کی استبداری و جابرانہ حکومت کا حامی نہیں۔ اس نظام میں اختیارات کا استعمال اللہ تعالیٰ کی مرضی کے عین مطابق کیا جاتا ہے حکومت عام تصور کے برعکس صرف عوام کو نہیں بلکہ اللہ کو بھی جوابدہ ہے۔ اقتدار اعلیٰ خدائے بزرگ و برتر کی ذات کو حاصل ہے اور سب عوام اس کی مرضی کی پابند ہیں۔ ایک صحیح معنوں میں اسلامی مملکت کے حکمران خود کو عوام کے خادم اور اپنے ہر عمل کے لےے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ذات کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں اگر یہ سوچ حکمرانوں کے دلوں میں گھر کر جائے تو ہمارے سارے مسائل حل ہو جائیں گے کیونکہ پھر ہر کام کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بنیادی حیثیت اختیار کر لے گی۔ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قرار داد مقاصد کو بنیاد بنا کر آئین کی ہر شق اور ہر نافذ الوقت قانون پر قرآن و سنت کی برتری کو تسلیم کرنے کے لےے قانون سازی کی جائے اور بعدازاں فقہی امور میں تنازعات کا حل علمائے کرام سے طلب کرکے ملک میں اسلامی نظام عدل نافذ کر دیا جائے تاکہ معاشرتی برائیوں کا قلع قمع ہو سکے اور ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔ حکیم الامت اور دیگر عالمی اسلامی شخصیات کا احیائے دین کا وہ نظریہ جس کا بیج پاکستان کی صورت میں بویا گیا اس کو پروان چڑھانے والا ہرفرد تاریخ اسلام میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اقتدار ناپائیدار ہوتا ہے لیکن اس کا بہترین استعمال اس کو لافانی بنا دیتا ہے کیونکہ موت فرد کو ہوتی ہے ملت ہمیشہ زندہ رہتی ہے جو شجر ملت کو طاقتور بناتا ہے امر ہو جاتا ہے جو اپنی ذات تک محدود رہتا ہے پتے کی طرح سوکھ کر جھڑ جاتا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں