پاکستان- یہودی اور امریکی اہداف
ـ 11 مارچ ، 2010
پروفیسر محمد یوسف عرفان
امریکی آنکھیں یعنی CIA اور دیگر انٹیلی جینس ایجنسیاں حکمرانوں کی مرضی اور نیت دیکھ کر رپورٹ تیار کرتی ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ امریکی معیشت، عسکری اخراجات اور شکست کے باعث روبہ زوال ہے نیز یہودی امریکہ سے پیسہ نکال کر چین میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ نیز عالمی یہودی غیر ملکی سرمایہ کاری کی پاکستانی پالیسی کے تحت کراچی اور گوادر جیسی سونے کی چڑیا پر بھی بھرپور نظر جمائے بیٹھے ہیں اور آئندہ آنے والے دور میں امریکی و عالمی یہودیوں کا اثرورسوخ چین میں بڑھ جائے گا۔ اس وقت یہودی یورپ اور امریکہ پر ہمہ رنگ تسلط قائم کرنے کی طرح ایشیا پر بھی قبضہ جما رہے ہیں جس کے لئے ایشیا کا دل کابل اور اسلام آباد پر قبضہ ضروری ہے۔ اس کے لئے یہودی حکمت عملی خطے میں نیشن سٹیٹNation State یعنی قومیتی ریاستوں کا قیام ہے۔ قومیتی ریاستوں کے حصول کے لئے ریاستی نظام کو ناکام بنانا ہے جس کا پہلا مرحلہ ریاست کا عوام سے دشمنانہ پالیسی اپنانا ہے جس کے باعث پاکستان کی معیشت برباد ہو کر رہ گئی ہے۔ ریاستی اخراجات پورے نہیں ہو رہے لہٰذا مہنگائی غربت اور ٹیکسوں یوٹیلٹی بلز وغیرہ ناقابل برداشت بنا دئیے گئے۔ ریاستی نظام چلانے کے لئے پاکستان کو عالمی بینکوں، اقوام متحدہ، یورپی یونین وغیرہ کا محتاج بنا کر ریاست انتظامیہ کو مفلوج کر دیا۔ آج ریاست کے ترقیاتی امور تو دور کی بات ہے ریاست عوام الناس کو بنیادی انسانی سہولتیں اور تحفظ دینے سے معذور نظر آتی ہے۔ یہ عوام اور حکومت کے درمیان دوری اور باہم بے تعلقی موجودہ نظام کی مسماری اور نئے نظام کے قیام کی نوید ہے۔ اس ضمن میں یہودی منصوبہ بندی مکمل ہے جو آئندہ پیدا ہونے والے ریاست و حکومت کے خلا کو پر کرنے کے لئے ہمہ تن تیار بیٹھے ہیں۔ کیا پاکستان کی سلامتی اور ترقی سے وابستہ اداروں نے اس خلا کو قومی نظریاتی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کوئی حکمت عملی بنائی؟۔
دشمن کا ہدف ریاستی نظام اور نظریاتی ریاست پاکستان ہے۔ ریاستی نظام کو ناکام بنانے کے لئے درج ذیل طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ -1 حکومت اور عوام کے درمیان معاندانہ پالیسیوں کی پیروی -2 ریاستی اداروں کی نجکاری اور خطے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح عالمی یہودی کمپنیوں Multination companies کا قبضہ جمانا -3 حکومتی انتظامیہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے ریاست کو عالمی بنک وغیرہ کا دست نگر بنانا -4 عوامی بہبود کے لئے مقامی حکومتوں local Government کا قیام اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تکمیل کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاروں، اداروں اور ملکوں کے ساتھ معاہدات کرنے کی آزادی دینا -5 سیاسی جمہوری جماعتوں اور اداروں کی محاذ آرائی کے ذریعے قیادت کے فقدان کے نظریے کو عام کرنا، -6 عدالتی سہاروں اور اداروں کو عملاً ناکامی سے دوچار کرنا جس کے لئے عدالتی احکامات کے نفاذ کے لئے تاویل اور تاخیر کی محاذ آرائی اپنانا مثلاً این آر او کا عدالتی فیصلہ -7 عالمی اداروں اور ملکوں کا کرپٹ، قاتلوں ، مجرموں اور غنڈوں کی سرپرستی کرنا یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس کا اجراءجس کا مطلب ہے امریکی جیلر کا پیشہ ور قاتل مجرموں اور قیدیوں کو نظریاتی ریاست اور نظام پر شب خون مارنے کے لئے برسر اقتدار لانے کے لئے سازشی تانے بانے بننا۔-8 پاکستان کے محب وطن احباب کے خلاف حکومت کی کھلی جنگ اور بلیک واٹر اور اتحادی ممالک کے ایجنٹوں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ Target killing کرنا -9 پاکستان کے ہیروز کو زیرو بنانا، مثلاً ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی توہین، تذلیل اور قیدو بند کی صعوبتیں، ٹارگٹ کلنگ اور محب وطن احباب کی بے رحم، اذیت اور شہری کے ذریعے نظریاتی وابستگی کو کمزور اور ختم کرنا۔ -10 پاکستان کے مضبوط نیشلسٹ اداروں فوج کو بے وقار اور کمزور کرنا ہے۔جس کے لئے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کفار و مشرکین کی ریاستوں کا حلیف بن کر مسلمان بھائی بہنوں کو مارنا اور ہمسایہ اسلامی ریاست افغانستان میں جارحانہ مداخلت کرنا اور ISI میں بے قاعدگیوں، بے ضابطگیوں اور سیاسی و سماجی، مذہبی و جمہوری مداخلتوں کو بریگیڈئر امتیاز کے ذریعے عوام میں بے قابو کرانا وغیرہ -11 فوج کو دہشت گردی کی جنگ کے نام پر اپنوں کو مارنے اور گرفتار کرنے پر لگانا۔ -12 ڈرون حملوں کے ذریعے ریاست کا اپنے شہریوں کو مروانا اور تحفظ دینے سے انکار کرنا، پاکستانی اقتدار اعلیٰ کی گمشدگی اور گمراہی کی نشاندہی کرنا ہے۔ -13 پاک بھارت نظریاتی دشمنی سے فائدہ اٹھا کر بھارتی ہمہ رنگ وسائل کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا، آبی جارحیت، دہشت گردی کی جنگ اور بھارت نواز قیادت کی سرپرستی وغیرہ وہ مسائل ہیں جو خطے میں پا کستان کو محدود اور منقسم کرنے اور بھارتی
بالادستی کو مضبوط کرنے کے مترادف ہیں۔ مندرجہ بالا طریق کار مشتے از خروارے ہیں وگرنہ مثالیں اور بھی ہیں۔ اس وقت نظریاتی پاکستان اور اس کے مضبوط اداروں فوج اور ISI کو محب وطن سیاسی اور عوامی تعاون اور سہارے کی ضرورت ہے تاکہ یہودی صلیبی اور برہمنی ہندو یعنی اتحادی ممالک کی جارحانہ اور خونریز سازشوں کا تدارک کیا جاسکے۔نیشنلسٹ اور میڈیائی قوتوں کا ہدف حملہ آور قوتوں کو فوجی، تجارتی معاشی، سیاسی، معاشرتی اعتبار سے نکالنا اور نظریاتی پاکستان کے لئے تن من دھن کی بازی لگانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا ہے اور خطے میں مضبوط قوت بننے کے لئے عالمی ہنود و یہود اور صلیبی ممالک سرگرم ہیں تو کیا پاکستان کو حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی سلامتی اور خطے کی عالمی طاقت بننے کے لئے مزاحمتی قوتوں کے ساتھ شیرو شکر ہوکر مخالفوں اور دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔فاذا عزمت فتوکل علی اللہ
اٹھ باندھ کمر کیوں کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں