اداروں کے مابین تصادم کا ذمہ دار کون ؟

ـ 10 مارچ ، 2010
تحریر ۔۔محمد خلیل الرحمن قادری...........
حکومت نے ججوں کی تقرری کے حوالے سے جس عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ کیا بالآخر وزیر اعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کے باعث معاملات درست ہو گئے۔چیف جسٹس آف پاکستان کی سفارشات اور مشوروں کو من وعن تسلیم کر لیا گیا اور ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن واپس لے لیا گیا یوں حکومت اور عدلیہ کے تصادم کا خطرہ ٹل گیا ور ان لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا جو ایک مرتبہ پھر ریاست کے دو اہم ستونوں کے مابین فساد ڈال کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ایک غلطی کرنے کے بعد اس غلطی پر ڈٹ جانا اور مصر رہنا، اس سے بھی بڑی غلطی ہوتی ہے جبکہ اچھا انسان وہی ہوتا ہے جو غلطی کا ارتکاب کرنے کے بعد اپنی غلطی کو تسلیم کرلے اور اس کا ازالہ بھی کر لے ۔ اس بحران کا سب سے بڑا سبب تو خود صدر آصف علی زرداری کی سوچ ہے درست ہے کہ اس میں ان کے غلط مشیروں کا بھی بڑا عمل دخل ہے لیکن غلط مشوروں پر عمل کرنے والے کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ،ان کیلئے ضروری ہے کہ ایسے مشیروں سے اپنی جان چھڑا لیں کیونکہ اب تو ان کے پارٹی کے اندر بھی ان مشیروں کے خلاف توانا آوازیں اٹھ رہی ہیں اور یہ آواز یں اس قدر توانا ہیں کہ اگر ان پر توجہ نہ دی گئی تو پارٹی میں شکست و ریخت کے امکانات یقینی ہیں صدر صاحب پر اس لیے بھا ری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پارٹی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو چلا رہے ہیں پھر اچھے یا برے مشیروں کا انتخاب بھی تو ان کی اپنی صوابد ید پر ہے مزید برآں کسی اچھے مشورے کو قبول کرنا اور برے مشورے کو مسترد کرنا ان کی ہی ذمہ داری ہے۔ بار بار پسپائی کی ہزیمت اٹھانے سے بھی ان کی طرف کئی انگلیاں اٹھ رہی ہیں ان کی قائدانہ صلاحیت بہتر فیصلے کرنے کی استعداد اور تدبر و بصیرت صرف غیروں میں ہی نہیں بلکہ ان کے اپنے حلقوں میں بھی ہدف تنقید بنی ہوئی ہے ۔ اس تصادم کی ذمہ دار کچھ وہ دیدہ و نا دیدہ قوتیں بھی ہیں جو ماضی میں بھی مختلف حیلوں بہانوں سے غیرجمہوری قوتوں کیلئے راستہ ہموار کرنے کا شرف حاصل کر تی رہی ہیں ، لیکن صاف ظاہر ہے کہ ان دیدہ ونادیدہ طاقتوں کو موثر کاروائیاںکرنے کیلئے ماحول تو حکمران خود ہی فراہم کرتے ہیں ہمارا گمان ہے کہ ہمارے وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان دونوں ان متحرک دیدہ و نادیدہ طاقتوں کے عزائم کا ادراک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ان دید ونادیدہ طاقتوں کی صفوں میں وہ دانشور بھی چھپے ہوئے ہیں جنہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کی ملا قاتوں کو بلا تحقیق نہ جانے کیا کیارنگ دئیے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا عدلیہ میں ایک جسٹس کے علاوہ انتظامی کردار بھی بنتا ہے اور اس اعتبارسے ان کا ایک درجے میں حکمرانوں کے ساتھ ربط و تعامل ناگزیربھی ہوتا ہے انہوں نے اگر پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کی ہے تو اس میں کیا قباحت ہے ؟ جبکہ وہ امریکی حکام سے بھی ملاقات کرلیتے ہیں بد قسمتی سے بعض حضرات نے یوں سمجھ رکھا ہے کہ عدلیہ اورحکومت کا دو متحارب گروہوں کی صورت میں موجود رہنا ہی ملکی مفاد میں ہے جبکہ ملکی مفاد میں تو یہ بات ہے کہ دونوں ادارے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے مکمل دیانت داری اور غیر جانبداری کے ساتھ اپنے اپنے فرائض ادا کریں۔ایسے دانشور بھی موجود ہیں جو ابھی تک صدر پاکستان کو یہ باور کروا رہے ہیں کہ مشورہ کے لغوی معنی یہ تو نہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے ہر مشورے کو من و عن تسلیم کر لیا جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں