شہ رگ

پروفیسر سید اسراربخاری ـ 10 فروری ، 2012
شہ رگ کٹ جائے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا، شہ رگ دب جائے تو وہ نیم مردہ نیم زندہ زندگی گزراتا ہے۔ قائداعظم یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ مقبوضہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور تقسیم میں اگر یہ ہم سے کٹ گئی تو ہم مر جائیں گے دبی رہی تو آدھے زندہ رہیں گے، اب نیم مردنی کی حالت آخر یہاں تک آ پہنچی کہ بھارت نے اسے جگہ جگہ سے کاٹ کر اس کا خون کشید کرنا شروع کر رکھا ہے، انجام کیا ہو گا یہ وہ جانتے تھے ہمارے حکمران جان کر انجان بنے ہوئے ہیں اور جن کے پنجے میں ان کی شہ رگ ہے اُسے پسندیدہ ترین ملک قرار دے چکے ہیں۔ جب یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا تھا سب کشمیریوں پر تاریخ کے بدترین مظالم ڈھائے جا رہے تھے، مگر کوئی نہ تھا کہ دستِ ظالم کو ولادتِ رحمة للعالمین کے مبارک دن روک لیتا۔ کیا اُن کی اُمت کے ایک حصے پر بلا کا ظلم ڈھایا جا رہا ہو تو وہ ہماری نعتیں سُنیں گے یا کشمیریوں کی چیخ و پکار؟ ہمارے پہلو میں لاکھوں کشمیری اب تک شہید کئے جا چکے ہیں، سات لاکھ بھارتی درندوں کو انہیں چیرنے پھاڑنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے، کیا ہمارے اندر مسلمانی تو کیا انسانی ہمدردی بھی نہیں رہی۔ 64 برس ہو گئے کہ بھارت ہمارے بھائیوں کو کاٹ رہا ہے، بہنوں کی عصمتیں لوٹ رہا ہے اور اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل نہیں کر رہا بلکہ اقوام متحدہ بھی انُہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک چکی ہے۔ سارے اخلاقی حربے آزمائے جا چکے ہیں مگر بھارت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور ہمارے کشمیری مسلمان بھائیوں بہنوں پر ستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے، اتحادِ ثلاثہ کو بے گناہ قبائلی پاکستانی دہشت گرد نظر آتے ہیں اور اُسے بھارت کی ریاستی دہشت گردی دکھائی تو کیا وہ اُلٹا اُس کی مدد کر رہا ہے اور اُسے اتنا مضبوط بنا رہا ہے کہ وہ پاکستان کو برباد کر سکے، اُس کے ہرے بھرے کھیتوں کو ریگستان بنا سکے اور ہم اُس کی بندوق کے سامنے ہاتھ جوڑ سکیں اور امن کی آشا جھولی میں ڈالے اُسے اُس کی زیادتیوں کے بدلے تحفةً پیش کریں۔ بھارت دشمنی کے بدلے دوستی چاہتا ہے اور ہم اُس کی یہ خواہش پوری کر رہے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمارے تمام ادوارِ حکمرانی امریکہ کی غلامی میں گزرے ہیں، کیونکہ نااہل حکمران امریکہ کی پشت پناہی سے ہی ہماری پشت پر سواری کر سکتے ہیں۔ جب بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر دستخط کرکے اُن پر عملدرآمد نہیں کیا تو اُس سے سندھ طاس معاہدہ کرنے کی کیا ضرورت تھی اور اب تو یہ بھی سُننے میں آیا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان بھارت میں ہمیشہ کے لئے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرایا جائے کیونکہ یہود و ہنود اور نصاریٰ یہ جانتے ہیں کہ جنگ کی ضرورت ہمیں ہے، بھارت کو نہیں، کیونکہ بھارت نے ہماری شہ رگ پر قبضہ کر رکھا ہے، ہم نے اُس کی کسی چیز کو پنی ملکیت نہیں بنا رکھا۔ آخر امریکہ افغانستان، ایران اور پاکستان سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیوں نہیں کرتا حالانکہ اُس کی کوئی چیز بھی کسی کے قبضے میں نہیں۔ یہ دوہرے معیار ہیں جن کو ہم من و عن قبول کئے ہوئے ہیں اور خیر سے اب تو پاکستان نے بھارت سے باقاعدہ تجارت بھی شروع کر دی ہے۔ امریکہ سے حکمرانی اور ڈالروں کی بھیک کی خاطر ہم اپنے مفادات کو چھوڑ کر اپنا ہی وطن بھارت اور یہود و نصاریٰ کے ہاتھ کیوں بیچ رہے ہیں، کیا اس ملک کے سیاستدانوں کو امریکہ کی آشیرباد کے بغیر حکومت نہیں مل سکتی؟ کیوں امریکہ کی اجارہ داری کو تسلیم کر رکھا ہے، اب یہ قوم کا فرض ہے کہ ان غلامانِ امریکہ و بھارت سے چان چھڑائیں اور کسی ایسی قیادت کو برسر اقتدار لائےں جو اپنے پاوں پر اغیار کی بیساکھی کے بغیر کھڑی ہو سکے، کیا احمدی نژاد کو امریکی یا کوئی اور طاقت برسر اقتدار لائی ہے؟ آخر ہمارے ہاں ایک طویل زمانے سے یہ امریکہ کی باجگذاری کا سلسلہ کیوں جاری ہے، کیا صدر زرداری اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ امریکہ کی اجازت کے بغیر وہ ڈرون حملے بند کرنے کے مجاز نہیں اور ایسا کرنے سے اُن کو استثنیٰ حاصل ہے، خدا کا شکر کریں کہ آج کے ہمارے حکمرانوں کو شریف یا بزدل قوم ملی ہوئی ہے اس لئے وہ جو چاہیں کریں، گذشتہ چار سالوں میں انہوں نے ملک و ملت کے ساتھ کیا کیا نہ کیا، مگر افسوس کہ یہ تیونس ہے نہ مصر، یہ بے چارا پاکستان ہے جو چند خاندانوں کے لئے ہن کمانے کی منڈی ہے اور اُن کے اصل گھر اُن کے گھر میں ہیں جو ان کی قوم کا گھر جلا رہے ہیں، آمدم برسر مطلب درد بھی بہت ہیں اور نقصانات بھی بے حساب، مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو ریگستان بنا کر چھوڑنا ہے اور مقبوضہ کشمیر پر کسی طرح بھی لچک کا مظاہرہ نہیں کر رہا، مذاکرات بات چیت سب کچھ اب حد سے گذر چکے ہیں، حاصل صفر ہے، اس لئے سیدھے سیدھے بھارت کو پیغام جانا چاہئے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے وگرنہ پاکستان کے پاس جنگ کے سوا کوئی اور آپشن نہیں، اگر امریکہ پھر سے مذاکرات کا مذاق بیچ میں لانا چاہے تو اُسے صاف کہہ دیا جائے کہ بہت ہو چکے مذاکرات، 64 سالہ مذاکرات کے بعد مذاق تو اڑایا جا سکتا ہے مذاکرات بے سود رہیں گے۔ ہمارے دریا کشمیر سے نکلتے ہیں جن پر جتنا حق بھارت کا ہے اتنا ہی ہمارا، لیکن اُس نے 62 ڈیم بنا کر ہماری رگوں کا خون نچوڑنے کا بندوبست کر لیا ہے، وہ جب چاہے پاکستان کو ریگستان بنا کر روٹی کے لئے محتاج بنا سکتا ہے۔ بھارت کسی طرح بھی مسئلہ کشمیر حل کرنے کو تیار نہیں، یہ بات اب اپنے حتمی انجام کو پہنچ چکی ہے اس لئے ہمارے علمائ، ہمارے سیاستدان، ہمارے حکمران اگر مسلمان ہونے کے ناطے اس لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کردہ ارض پاک کو بچانا چاہتے ہیں اور اٹھارہ کروڑ انسانوں کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو اعلانِ جہاد کریں کیونکہ کشمیریوں پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے اور وہ ہمیں مدد کے لئے پکار رہے ہیں اور اس حوالے سے بھی فرض ہو چکا ہے کہ اپنی شہ رگ چھڑانے کے لئے جہادِ کشمیر کے سوا کوئی راستہ نہیں، اس لئے بھارت کو ایک الٹی میٹم دے کر نعرہ تکبیر بلند کر دینا چاہئے، بدر و حنین کی داستان دہرائی جا سکتی ہے کیونکہ اس میں شک نہیں رہا کہ بھارت ہمیں جینے نہیں دے رہا، آج نہیں تو کل اس حقیقت کو سب مانیں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں