جیالوں کی شکایات
پروفیسر سید اسراربخاری ـ 9 مارچ ، 2010
جیالوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ہماری کوئی نہیں سنتا کارکنوں کو کوٹہ کے مطابق ملازمتیں مل رہی ہیں نہ ان کا کوئی کام ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے پنجاب حکومت میں شامل وزراءبھی یہی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فون پر رابطہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان اتفاق و اتحاد کا ہونا ملک کی ضرورت ہے اور یہ اتفاق و اتحاد عمل سے پیدا ہو سکتا ہے قول سے نہیں اگر ایک دوسرے کے خلاف کوئی شکایت بھی کرنی ہے تو ٹھوس دلائل پیش کئے جائیں یوں طبلے اور ستار کی نوک جھونک سے فضا کو خراب نہ کیا جائے اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میں مخلوط حکومت ہے اسے مخبوط نہیں ہونا چاہئے۔ وزیراعلیٰ نے سینئر وزیر راجہ ریاض کو اگرچہ یقین دہانی کرا دی ہے کہ جلد ہی تمام خدشات اور شکایتیں دور کردی جائیں گی اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ خدشات اور شکایات کا اقرار کرتے ہیں۔ وزیراعظم سے شکایت کرنے والے ملاقاتیوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ان کی پوری صوبائی قیادت کے خلاف بے جا مقدمات درج کرائے ہوئے ہیں کارکنوں کی سرکاری دفاتر تک رسائی نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی یہ بات ہمدردانہ غور کی طالب ہے کہ کوٹہ اور میرٹ کا فرق نہیں مٹایا جا سکتا یہ بات قابل ستائش ہے کہ کوٹہ کا مطالبہ درست نہیں کیونکہ اس طرح میرٹ پامال ہوتا ہے لیکن کارکنوں کو میرٹ کے حوالے سے بھی شکایت ہے کیونکہ ہمارے ہاں جو لوگ میرٹ پر عملدرآمد کراتے ہیں وہ بالعموم میرٹ کو کوٹہ ہی بنا دیتے ہیں اور کوٹہ کا رخ اپنی جانب پھیر دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب اگر کوٹے کے قائل نہیں ہیں تو میرٹ کو میرٹ بنانے پر تو دسترس رکھتے ہیں اس وقت تمام صوبائی حکومتوں کو شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ قائم ہیں اور شکایات کے انبار کے باوجود چل بھی رہی ہیں۔ آپ پنجاب سیکرٹریٹ میں داخل ہو کر ہر دفتر میں باخوبی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ رشوت کا بازار اسی طرح گرم اور میرٹ کی دھجیاں بھی بکھیری جا رہی ہیں تنہا وزیراعلیٰ کچھ نہیں کر سکتے یہ پوری کابینہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس طرح سے نظام حکومت کو چلائیں کہ جیالوں متوالوں میں سے کسی کو شکایت پیدا نہ ہو اور عوام الناس کے ساتھ بھی یکساں انصاف کیا جائے۔ ایک طرف ہسپتالوں اور تھانوں کو لگام نہیں دیا جارہا اور اگر اس کے ساتھ پیپلز پارٹی کے کارکن اور وزراءراضی نہ ہوں تو یہ گڈ گورننس نہیں بیڈ گورننس کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں کہ غلط فہمیاں کیسے جنم لیتی ہیں کہ وزیر قانون کے پلازہ کا معاملہ جلد از جلد نمٹایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ شکایات جب کثرت کا روپ اختیار کر لیں تو ان میں ضرور کچھ حقیقت ہوتی ہے اس لئے پنجاب کی مخلوط حکومت کو مخلوط بنیادوں پر ہی چلایا جائے اس وقت بے شمار پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر بے جا مقدمات درج کئے گئے ہیں اس کی بھی تحقیق ہونی چاہئے اور انصاف و قانون کے تقاضے پورے کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نہایت فعال انسان ہیں اور گیارہ گیارہ گھنٹے شہر کا گشت کرتے ہیں کیا ان کو پلازوں کے علاوہ تجاوزات نظر نہیں آتیں جنہوں نے تقریباً تقریباً ٹریفک بلاک کر رکھی ہے اور سڑکوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ کیا پنجاب پارلیمنٹ میں یہ قانون سازی نہیں کی جا سکتی کہ ہر دکان اس دکان تک ہی محدود رہے گی اور سڑکوں فٹ پاتھوں پر جو کاروبار ہو رہا ہے اسے بند کیا جائے تاکہ ناصرف یہ کہ شہر کا حسن بحال ہو بلکہ آمدورفت اور ٹریفک کے مسئلے بھی جنم نہ لیں ہمیں کامل توقع ہے کہ وزیراعظم جو واقعتاً وزیراعظم ہوتے جا رہے ہیں پنجاب حکومت کے جیالوں اور وزراءکی شکایات کا مداوا خوش اسلوبی وزیراعلیٰ کے ساتھ طے کر لیں گے اور اس طرح ملک کا یہ سب سے بڑا صوبہ حکومتی سطح پر پرسکون رہے گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں