تحریک انصاف اور لوٹا ازم
ـ 9 فروری ، 2012
ناوک انداز
ہم اپنی بول چال میں اکثر بہت زیادہ اختصار سے کام لیتے ہیں۔ اگر ہم اختصار کی خاطر استعمال کئے گئے الفاظ یا مجموعہ الفاظ کے لغوی معنوں پر غور کریں تو مفہوم ہی بدل جاتاہے۔ مثلاً کوکا کولا کو ہم کوک کہتے ہیں حالانکہ کوک کا لفظی مطلب کوئلہ ہے۔ اسی طرح جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں سٹور پر اگلے ہفتے سیل لگے گی تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آجکل وہ سٹور بند ہے۔ بلکہ ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اگلے ہفتے اس سٹور پر کلیرنس سیل لگے گی۔ جب کلیرنس سیل کا ذکر ہوتا ہے تو کہے بغیر ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اشیا اپنی معمول سے کم قیمتوں پر بیچی جائینگی۔ گویا سیل میں مضمر ہے کلیرنس سیل اور کلیرنس سیل میں مضمر ہے اشیا کا نارمل سے کم قیمتوں پر فروخت ہونا ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان مضمرات پر سب متفق ہیں۔ یعنی سیل کا ذکر آتے ہی ہر شخص کا ذہن ان مضمرات تک پہنچ جاتا ہے۔
لوٹا ازم بھی ’سیل‘ کی طرح ایک جامع اصطلاح ہے۔ جب بھی لوٹاازم کا ذکر آتا ہے تو ہر شخص اسکے مضمرات تک پہنچ جاتاہے۔ وہ مضمرات یہ ہیں: ایک سیاستدان جو ایک پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوا ہے وہ اقتدار یا مالی مفاد کی خاطر یا کسی بیرونی دباﺅ کے تحت اسی انتخاب پر حکومتی پارٹی یا کسی دوسری پارٹی میں شامل ہو جاتا ہے لوٹا کہلاتا ہے۔ اس لوٹا ازم کو روکنے کیلئے آئین پاکستان میں ترمیم کی گئی اور لوٹے ہونے والوں کی رکنیت منسوخ کرنے کا قانون بنایاگیا۔ لیکن لوٹاازم پر یقین رکھنے والوں نے اسکا بھی توڑ نکال لیا۔ اب وہ اپنی پارٹی چھوڑنے کی بجائے اسی پارٹی کا فارورڈ بلاک بنا لیتے ہیں یا پھر اس پارٹی کا ایک الگ دھڑا بنالیتے ہیں جیسے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ ، پاکستان مسلم لیگ ہم خیال اور یونیفکیشن گروپ وغیرہ۔
اگر ہم ان مضمرات کو سامنے رکھ کر ان سیاستدانوں کا جائزہ لیں جو اپنی سابقہ پارٹیاں چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیںکہ وہ ہر گز لوٹے نہیں ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف اقتدار میں نہیں ہے۔ لہذا یہ پارٹی کسی سیاستدان کو فوری طور پر کوئی مفاد نہیں دی سکتی۔ دوسرے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے اکثر سیاستدان تو منتخب شدہ پارلیمنٹیرین تھے وہ اپنی رکنیت سے مستعفی ہو کر آئے ہیں۔ انکی نیت پر شک کرنے کی بجائے انہیں تو سلیوٹ کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان میں پارلیمنٹ کی سیٹ چھوڑنا خاصی بڑی قربانی ہے۔ اس بات کی وضاحت کے بعد کہ اصولوں کی خاطر پارٹی بدلنا بر ا نہیں بلکہ ایک مستحسن قدم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان نے ایسے سیاستدانوں کو اپنی پارٹی میں لیکر غلطی کی ہے جن کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ اصولوں کی خاطر نہیں بلکہ اقتدار میں آنے کی خواہش میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ محض گمان کی بنیاد پر کسی کو رد کرنا نا انصافی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کی خواہش بذاتِ خود کوئی جرم نہیں ہے۔ البتہ اس خواہش کی تکمیل کیلئے اوچھے ہتھکنڈے (Foul play) استعمال کرنا یا اپنے تسلیم شدہ اور اعلان کردہ اصولوں سے انحراف کرنا جرم ہے۔ اگر کچھ سیاستدان واقعی اقتدار کی خواہش میں تحریک انصاف میں آ گئے ہیں تو عمران خان اور انکی نظریاتی ٹیم نہ تو انکو فاﺅل پلے کی اجازت دیں گے اور نہ ہی انکو تحریک کے اصولوں سے روگردانی کرنے دیں گے۔ اسلئے ایسے سیاسی ہیوی ویٹ اقتدار کی خواہش کے باوجود تحریک کے لئے سودمند ہی ثابت ہونگے۔ وہ یا تو اپنی موجودگی سے پارٹی کو اپنے کاز کے حصول میں تقویت دیں گے یا پھر پارٹی چھوڑ جائیں گے۔ اسکی ایک مثال یہ ہے کہ پاکستان میں ٹریفک سمیت ہر قسم کا قانون توڑنے والے شہری جب امریکہ جاتے ہیں تو قانون کی سختی سے پابندی کرتے ہیں کیونکہ وہاں کا ماحول انہیں مجبور کر دیتاہے۔ اسی طرح عمران خان کی سربراہی میں بننے والی تحریک انصاف کی موجودہ قیادت پارٹی میں شامل ہونے والے ہر سیاستدان کو مجبور کردے گی کہ وہ اپنی بدعنوانی کی رغبت کا گلا گھونٹ کر انصاف ‘ میرٹ اور دیانتداری کا رویہ اپنائے۔ کچھ سیاستدان الزام لگا رہے ہیں کہ بعض ہیوی ویٹ اسٹیبلشمنٹ کے دباﺅ پر تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ الزام لگانے والے قائدین کو چاہئے کہ وہ دباﺅ کے تحت تحریک انصاف میں آنے والوں کے نام بتائیں اور انکی کمزوریاں بھی بتائیں جنکی وجہ سے ان پر دباﺅ ڈالا گیا۔ ورنہ با شعور عوام ان کے اسطرح کے الزامات کو کو ئی اہمیت نہیں دیں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں