علامہ اقبال کی نگاہ میں قائداعظم کا مقام
محمد آصف بھلّی ـ 9 فروری ، 2010
مَیں نے اپنے کالم میں پاکستان کی تشکیل میں علامہ اقبال کے کردار کے حوالے سے اظہار خیال کیا تھا۔ اب میں علامہ اقبال کی نظر میں قائداعظم کے مقام کے موضوع پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ اس موضوع پر اظہار کے بغیر قیام پاکستان میں علامہ اقبال کے کردار کا باب مکمل نہیں ہوتا۔ قائداعظم کے بارے میں علامہ اقبال کے خیالات جاننے کے لئے ہمیں سید نذیر نیازی کی کتاب ”اقبال کے حضور“ دیکھنا ہو گی۔ یہ کتاب ان نشستوں کا حاصل ہے جن میں علامہ اقبال کے ہاں حاضر ہو کر سید نذیر نیازی کو گفتگو کا موقع ملا۔ ایسی ہی ایک نشست میں 7 مارچ 1938ء کو علامہ اقبال نے فرمایا ”مسلمانوں کو چاہیے کہ جناح کے ہاتھ مضبوط کریں‘ لیگ میں شامل ہو جائیں۔ مسلمانوں کا متحدہ محاذ لیگ ہی کی سربراہی میں قائم ہو سکتا ہے او ر لیگ کامیاب ہو گی تو جناح کے سہارے۔ جناح کے سوا اب کوئی شخص مسلمانوں کی قیادت کے اہل نہیں۔“ 21 مارچ 1938ءکو علامہ اقبال نے اپنی وفات سے صرف ایک ماہ پہلے بھی عبدالمجید سالک اور غلام رسول مہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”ہمارے مسائل کا حل صرف ایک ہے یونینسٹ پارٹی توڑ دی جائے۔ لیگ جو متحدہ محاذ قائم کر رہی ہے سب اس میں شامل ہو جائیں‘ سب اس کو تقویت پہنچائیں۔ مسلمانوں کی زمامِ قیادت صرف لیگ کے ہاتھ میں رہے۔ ہمیں جناح سے بہتر کوئی آدمی نہیں مل سکتا۔ جناح ہی ہماری قیادت کا اہل ہے۔“ علامہ اقبال کے قائداعظم کے حوالے سے درج بالا گراں قدر خیالات پیش کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ عقل کے جن اندھوں کو قیام پاکستان میں علامہ اقبال کا کردار نظر نہیں آتا انہیں علامہ اقبال کے الفاظ میں آئینہ دکھایا جائے۔ کچھ افراد یہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ علامہ اقبال تو پورے عالم اسلام کی بات کرتے تھے لہٰذا اگر انہیں تصور پاکستان کا خالق قرار دیا جائے گا تو یہ انہیں پاکستان تک محدود کرنے کی کوشش ہے۔ علامہ اقبال صرف تصورِ پاکستان کے خالق ہی نہیں تھے بلکہ قیام پاکستان کی عملی جدوجہد سے بھی انہیں جو گہری دلچسپی تھی اسی وجہ سے وہ قوم کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی دعوت دے رہے تھے اور قائداعظم کی قیادت کو وہ تحریک پاکستان کے لئے ہی سب سے موزوں قرار دے رہے تھے۔ قیام پاکستان کے لئے علامہ اقبال کی فکر مندی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ علامہ اقبال حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر مسلمانوں کے اتحاد کے پیغام سے دستبردار ہو گئے تھے۔ کیا پاکستان نہ بنا کر عالم اسلام کو متحد کیا جا سکتا تھا۔ اگر برصغیر کے مسلمان انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہندو¶ں کی غلامی میں چلے جاتے تو کیا وہ اس صورت میں عالم اسلام کے اتحاد کے لئے کوئی کردار ادا کر سکتے تھے؟ علامہ اقبال کا تعلق خود جس خطے سے تھا کیا وہ وہاں کے مسلمانوں کو محکوم دیکھنا چاہتے تھے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں :
محکوم کا دل مُردہ و افسردہ و نومید
آزاد کا دل زندہ و پُرسوز و طربناک
ممکن نہیں محکوم ہو آزاد کا ہمدوش
وہ بندہ¿ افلاک ہے یہ خواجہ¿ افلاک
علامہ اقبال جو محکومی کی ہر صورت کے خلاف تھے اور جو محکوموں کو مردہ دل قرار دیتے تھے وہ برصغیر کے مسلمانوں کی محکومی کو کیونکر گوارا کر سکتے تھے۔ وہ مسلمانانِ ہند کی محکومی کو ختم کرنے کے لئے ہی مسلم لیگ کے جھنڈے تلے متحدہ محاذ کی تشکیل کے داعی تھے اور اسی کےلئے سب کو جناح کے ہاتھ مضبوط کرنے کی دعوت دے رہے تھے۔ غلام دستگیر رشید کی مرتب کردہ کتاب ”آثارِ اقبال“ میں قائداعظم سے متعلق علامہ اقبال کے یہ تاریخی خیالات شائع ہوئے ہیں ”جناح کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے جو آج تک ہندوستان کے کسی مسلمان میں مجھے نظر نہیں آئی۔“ حاضرین میں سے کسی نے پوچھا کہ وہ خوبی کیا ہے تو آپ نے انگریزی میں فرمایا : He is incorruptible and unpurchaseable.قائداعظم کی قیادت میں مسلمانوں کو جمع ہونے کی دعوت بھی علامہ اقبال غالباً قائد کے انہی اوصاف کی وجہ سے دے رہے تھے کہ قائداعظم کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی قائداعظم کو کوئی بدعنوانی پر آمادہ کر سکتا ہے۔ اس برصغیر کے مسلمانوں کا مستقبل قائداعظم کے ہاتھوں ہی محفوظ ہے۔ ماہنامہ ہلال کے دسمبر 1979ءکے شمارے میں عبدالرحیم خاکی کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ انہوں نے اپریل 1936ءمیں علامہ اقبال سے ہونے والی اپنی ایک ملاقات کا احوال تحریر کیا ہے۔ عبدالرحیم خاکی لکھتے ہیں حضرت علامہ اقبال نے ہمیں فرمایا ”میں اپنی قوم کو خودی کا جو درس دے رہا ہوں اُس کا صحیح مظہر محمد علی جناح ہے۔ یہ انگریزی ماحول اور تہذیب کا پروردہ شخص بڑے ہی کام کا ہے۔ زبان اس کے دل کی فریق ہے۔ حق بات کہنے میں اسے کوئی باک نہیں۔ قوم کی رہنمائی اسے سونپ دی جائے تو بگڑی بن سکتی ہے۔ مسلم قوم کا نجات دہندہ ہونے کی ساری صفات اس میں ہیں۔“ 1936ء سے لیکر 1938ءتک مختلف مواقع پر علامہ اقبال یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ محمد علی جناح میں مسلمان قوم کے نجات دہندہ ہونے کی تمام صفات موجود ہیں اور قائداعظم‘ علامہ اقبال کی کوششوں کے بعد ہی مسلمانوں کی قیادت کے لئے دوبارہ آمادہ ہوئے اور پھر اپنی تاریخ ساز جدوجہد سے پاکستان کا قیام ممکن بنایا۔ پھر بھی اگر کوئی اقبال دشمن یہ کہتا ہے کہ پاکستان بنانے میں علامہ اقبال کا کوئی عملی حصہ نہیں تو میرے نزدیک وہ تحریک پاکستان کی تاریخ سے یکسر بے خبر ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں