کچھ اور نئے سوال! کچھ اور نئے جواب!
خالد احمد ـ 9 فروری ، 2010
جناب ضیا شاہد نے چینل- 5 کے لئے نشانِ جمہوریت جنابِ مجید نظامی کا انٹرویو کرتے ہوئے بہت سے ایسے سوال اٹھائے جن کے جواب پاکستان کی تحریک کے عینی شاہدین، ہی فراہم کر سکتے تھے لہٰذا انہوں نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی صدر جناب حمید نظامیؒ کے ذکر سے بات جناب مجید نظامی کی طرف موڑتے ہوئے کہا اس عوامی تحریک کے دوران جنوبی ایشیا کی پوری مسلم آبادی نے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی مگر ”تائیدین“ نے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے لئے نہ تو کچھ سوچا اور نہ ہی کچھ کیا! تو جناب مجید نظامی نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا پاکستان میں شامل ہونے والے علاقوں کے سوا تمام علاقوں کی مسلم آبادی اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ یہ قربانی پاکستان کے لئے دے رہے ہیں اور سرحدیں کھنیچ جانے کے بعد انہیں وہیں رہنا ہے! کیونکہ یہ ایک انتہائی پرامن اور قانونی تحریک تھی!جناب ضیا شاہد نے ”فساوات“ کا تذکرہ کیا تو جناب مجید نظامی نے دوٹوک انداز میں کہا ! فسادات کا آغاز بھارتی علاقوں سے ہوا! ماسٹر تارا سنگھ ریکارڈ پر ہیں، راج کرے گا خالصہ! باقی رہے نہ کوئی! فسادات کی آگ بھڑکی تو ادھر بھی فسادات شروع ہو گئے۔ شاہ عالمی جلا دی گئی ایک انتہائی پرامن تحریک کچھ ظالموں نے فسادات کی بھینٹ چڑھا دی۔جناب ضیاءشاہد نے جسونت سنگھ کی حالیہ کتاب کے حوالے سے ایک سوال اٹھایا تو جناب مجید نظامی نے فرمایا ”اگر جسونت جی کی یہ بات مان لی جائے کہ قائداعظمؒ پاکستان نہیں بنانا چاہتے تھے تو وہ بتائیں کہ پاکستان کیسے بن گیا؟ اور پھر مزید فرمایا کہ سردار جی نے اپنے آپ کہا ہے کہ انہیں توقع تھی کہ بھارت میں ان کی کتاب سراہی جائے گی اور پاکستان میں اس کی نندیا کی جائے گی! مگر ہوا برعکس! بھارت میں ان کی کتاب جلا دی گئی اور پاکستان میں پڑھی گئی! بات صرف یہ تھی کہ بھارتی لالے سردار جی کی یہ بات برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے کہ وہاں ”جناح پر“ کتاب لکھنے کی کوشش کی جائے! وہ تو جناح کا نام سننا ہی گوارا نہیں کرتے! کجا یہ کہ ان پر کتاب لکھی جائے حالانکہ مجھے پہلے ہی علم تھا کہ اس کتاب میں کوئی نہ کوئی شرانگیز بات ضروری ہو گی!جناب ضیا شاہد نے تحریک پاکستان کے معیشی پہلو کے حوالے سے جنرل محمد ایوب خان کے دور میں جناب نور الدین، اور ان کے قریبی مسلم لیگی ساتھیوں کے حوالے دیتے ہوئے جناب مجید نظامی سے پوچھا: آپ کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان کے اقتصادی پہلو بھی تھے، مگر مسلم قومیت کے پس منظر میں یہ پہلو ثانوی حیثیت رکھتا تھا!البتہ قیام پاکستان کے بعد یہ پہلو آہستہ آہستہ اہمیت اختیار کرتا گیا مگر اس پہلو سے اٹھایا جا سکنے والا سوال جناب ضیا شاہد نے نہیں اٹھایا اور نہ ہی جواب آسکا!مذہبی، لسانی اور علاقائی سوچ رکھنے والی سیاسی تنظیموں کے حوالے سے جناب ضیا شاہد نے ان کے آئینی جواز کی بابت سوال کیا تو جناب مجید نظامی نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ شروع شروع میں تبلیغی جماعت کا ایک وفد مجھ سے ملنے اور مجھے اجتماع میں شرکت کی دعوت دینے آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اس اجتماع میں کشمیر میں استصواب اور کشمیر کی آزادی کی بات کریں گے؟ اور کیا آپ کشمیر میں جاری جہاد کی حمایت میں تقریر کریں گے؟ اگر ایسا ہو گا تو میں بھی آ جاو¿ں گا! تو انہوں نے کہا قبلہ ہمیں واپس بھی جانا ہو گا انہیں معلوم تھا کہ وہ واپس پہنچتے ہی اندر پہنچا دیئے جائیں گے! جناب ضیا شاہد کے استفسار پر جناب مجید نظامی نے بتایا کہ تبلیغی جماعت کے تمام سرکردہ لوگ بھارت سے ہی آتے ہیں اور اجتماع کے بعد بھارت چلے جاتے ہیں۔جناب مجید نظامی نے فرمایا مذہبی لوگوں کے لئے پاکستان قابل قبول نہیں تھا تو جناب ضیا شاہد نے مولانا ابوالکلام کا حوالہ دیا اور جناب مجید نظامی نے کانگریس کے شو بوائے، کانگریس کے صدر اور پھر بھارت کے راشٹر پتی مولانا عبدالکلام آزاد .... کرنی کے بارے میں فرمایا! قصور دور نہیں ہے آپ قصور جا کر لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح کے عالم تھے اب کیا کچھ کرتے تھے! وہ تو حسین احمد مدنی کے پیروکار تھے! قائداعظمؒ نے انہیں کانگریس کا شو بوائے کہہ کر ان کے چہرے پر پڑا نقاب اٹھا دیا تھا! مولوی مودودی نے بھی پاکستان کی حمایت نہیں کی تھی، اب جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سید منور حسن کہہ رہے ہیں اب مسلم لیگی قائداعظمؒ کے مسلم لیگی نہیں رہے۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں