سفیرِ علامہ اقبال پروفیسر محمد منور مرزا کی یاد میں تقریب

علامہ چودھری اصغر علی کوثر ـ 9 فروری ، 2010
پاکستان کے ممتاز نظریاتی ماہر تعلیم پروفیسر محمد منور مرزا کی یاد تازہ کرنے کے لئے ”بزمِ اقبال“ لاہور نے 7 فروری 2010ءکو صبح گیارہ بجے جناح ہال لاہور میں ایک ایسی تقریب کا اہتمام کیا جس میں ایسی معمر و ممتاز شخصیات نے بھرپور انداز میں شرکت کی جنہوں نے اپنی زندگی عدل و انصاف فراہم کرنے، درس و تدریس کے میدانِ تعلیم میں ملتِ پاکستان کو ترقی دینے اور صحافت کے معیار و فروغ سے پاکستان کے نظریاتی مسائل حل کرنے میں بسر کی۔ 7 فروری کی صبح مطلع ابر آلود تھا۔ بوندا باندی ہو رہی تھی اور سردی میں اضافہ ہو چکا تھا مگر زندہ دلان لاہور نے منور مرزا کی یاد میں آراستہ ہونے والی اس محفل میں کشاں کشاں شرکت کی اور مرزا محمد منور کے فکر و دانش سے سالہا سال تک جو لعل و جواہر سمیٹے اس کا کچھ نہ کچھ معاوضہ اس عظیم فرزندِ پاکستان کی یاد تازہ کرکے ادا کرنے کی کوشش کی۔ اس تقریب کے صدر میاں محبوب احمد جو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہوئے ہیں اور بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے ان اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کا دماغ رکھتے ہیں جو نظم و ضبط کی تدریس کے آئینہ دار تصور کئے جاتے ہیں نہایت بروقت پہنچ چکے تھے۔ سٹیج پر جو عالی دماغ براجمان ہوئے ان میں جسٹس ریٹائرڈ منیر احمد مغل، ڈاکٹر سید سجاد حیدر، پروفیسر احمد حسین، پروفیسر بصیرہ عنبرین، سکینہ شاہین ایم پی اے، پاکستان کے ایک ممتاز صحافی اطہر جمیل، ڈاکٹر رفیق احمد اور اس تقریب کے میزبان پروفیسر مظفر مرزا موجود تھے۔ موخرالذکر مرزا محمد منور کے برادرِ خورد ہیں اور انہوں نے نہایت محنت سے ایسی شخصیات کو یکجا کیا تھا جو کسی نہ کسی انداز میں پروفیسر محمد منور مرزا کو بخوبی جانتی تھیں۔ مرزا منور اصلاً بھیرہ کے رہنے والے تھے جو ضلع سرگودھا کا ایک تاریخی شہر ہے مگر وہاں سے وہ سرگودھا منتقل ہوئے اور اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد اپنی ساری زندگی درس و تدریس کے لئے وقف کر دی۔ راقم الحروف بھی چونکہ چک 87 جنوبی ضلع سرگودھا کے ایک نظریاتی سپوت ہیں اس لئے محمد منور مرزا کو اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ اپنی علمی و فکری تگ و دو میں مصروف تھے۔ منور مرزا کو ہم نے کبھی تھری پیس سوٹ میں ملبوس نہ دیکھا۔ وہ سفید شلوار قمیص پر ”سرگودھا کٹ“ کوٹ مُزیّن کیا کرتے تھے اور جب کبھی ان کو دیکھا اسی لباس میں دیکھا۔ روزنامہ ”کوہستان“ میں ہمارے ایک دوست صحافی رانا اکرام سے ان کے گہرے دوستانہ مراسم ہوتے تھے چنانچہ ہمیں بھی رانا اکرام کے گھر پر ان محفلوں میں شرکت کا موقع ملتا رہا جن میں ڈاکٹر وحید قریشی اور غلام حسین ذوالفقار اور کبھی کبھار حفیظ جالندھری بھی ہوتے تھے۔ گفتگو ہمیشہ علمی و فکری ہوتی اور ان محافل میں بھی بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح اور مصورِ پاکستان حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے افکار و کردار اور تعلیمات و افکار کے تذکار کا اجالا ہی محفل کو منور رکھتا۔ ہم اگر منور مرزا سے اپنی ملاقاتوں اور یادوں کا دفتر تیار کریں تو کئی کتابیں مرتب ہو سکتی ہیں۔ انہی یادوں پر آج کے مقررین نے بھی اپنی تقاریر کی عمارات تعمیر کیں۔ منور مرزا کو جناب قائداعظمؒ کا شیدائی اور جناب علامہ اقبالؒ کا فدائی قرار دیا اور بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی پاکستان کی فکری، نظری اور علمی تعمیر و ترقی کے لئے وقف رکھی۔ وہ ایک بلیغ مقرر اور علامہ اقبال کے افکار کے وہ مفسر تھے کہ اقبال فہمی اور اقبال شناسی کے باب میں کئی کتابیں رقم کیں۔ وہ اردو اور فارسی زبان کے پختہ فکر شاعر تھے جب انہیں معلوم ہوا کہ ہم ”دیوانِ حریفِ حافظ“ کے عنوان سے اپنے فارسی کلام کی اشاعت پذیر کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ ٹھہرئیے میں بھی اپنا فارسی دیوان مرتب کر رہا ہوں ہم دونوں اپنے دیوان بیک وقت شائع کریں گے تاکہ زمانہ دونوں کا تقابل کر سکے مگر
وہ حسرت جو تھی ایک حسرت ہے اب تک
میں پہنچا رہا ہوں وہی بات سب تک
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں