مقبوضہ کشمیر میں ڈیموں کی تعمیر کے بھارتی منصوبے

احسان اللہ ثاقب ـ 9 فروری ، 2010
بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے گزشتہ چند سالوں کے دوران اس میں بہت تیزی آ گئی ہے۔ اس نے 1960ءکے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وادی کشمیر سے پاکستان میں بہنے والے دریاوں بالخصوص دریائے چناب پر بند تعمیر کر کے پاکستان کی زرعی زمینوں کو پانی سے محروم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارت نے دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم تعمیر کیا تھا جس کی اونچائی 474 میٹر اور پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد 37.5 ملین مکعب میٹر ہے۔ اسی طرح ایک اور ڈیم جسے کشن گنگا ڈیم کا نام دیا گیا ہے تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔ یہ ڈیم دریائے جہلم پر واقع ہے اور 330 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ حال ہی میں بھارتی حکومت نے اس کی تعمیر کے لئے مختص 33 ارب روپے کی رقم کو بڑھا کر 37 ارب روپے کر دیا ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر پر دوبارہ کام شروع کر دیا گیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت نے دریائے چناب پر مزید تین بڑے ڈیم اور دریائے جہلم پر ایک ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ بھارت مجموعی طور پر اگلے 20 سالوں میں کشمیر سے نکلنے والے دریا¶ں پر 20 ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کر چکا ہے۔ بھارتی صحافی سدھارتھ شری واستو کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ (NHPC) نے تصدیق کی ہے کہ بھارت دریائے چناب پر مزید تین ڈیم تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ان میں پکاول پروجیکٹ (1000 میگا واٹ) ‘ کیرو پراجیکٹ (600 میگا واٹ) اور کردار پروجیکٹ (520 میگا واٹ) شامل ہیں۔ علاوہ ازیں دریائے چناب پر ساول کوٹ ڈیم اور بسرار ڈیم جبکہ دریائے جہلم پر اوری دوم ڈیم تعمیر کرنے کے منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے ساول کوٹ ڈیم کا منصوبہ سب سے بڑا ہے۔ یہ 1200 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ اس کی بلندی 646 فٹ ہو گی جو کہ تربیلا ڈیم (485 فٹ) اور منگلا ڈیم (453 فٹ) سے زیادہ ہے۔ اس منصوبے پر 2 ارب ڈالر صرف کئے جائیں گے۔ یہ مقبوضہ کشمیر کے اضلاع ڈوڈا اور اودھم پور میں واقع ہے۔ 6 جنوری کو اس منصوبے کے لئے 10.7 کلومیٹر لمبی سڑک کا افتتاح کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں پاکول دول کا منصوبہ 1000 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا اور اس کے لئے 51 ارب روپے کی رقم
مختص کر دی گئی ہے۔ اسی طرح اوری دوم ڈیم دریائے جہلم پر تعمیر کیا جائے گا جو کہ 240 میگا واٹ بجلی تیار کرے گا اس کے لئے 18 ارب روپے مختص کئے جا چکے ہیں۔ بھارت کے مذکورہ مذموم ارادوں کے پیش نظر یہ بات درست دکھائی دیتی ہے کہ بھارتی قیادت پاکستان کی زرخیز زمینوں کو بنجر بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس تناظر میں نامور صحافی جناب مجید نظامی کی یہ پیش گوئی قرین قیاس ہے کہ اگلی پاک بھارت جنگ پانی کے مسئلہ پر ہو گی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ اگلے دو برس کے اندر ہو سکتی ہے کیونکہ بھارت جہاں پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا وہاں اسے بڑھتی ہوئی آبادی اور توانائی کی ضروریات کا سامنا ہے۔ بھارتی آبی جارحیت کے پیش نظر پاکستان کے ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ اس خطرناک صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور کوئی ٹھوس قابل عمل منصوبہ بندی کریں تاکہ پاکستان کی زرخیز زمینیں صحرا¶ں میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے سے گریزاں ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ بھارت مذاکرات کی میز پر پانی کا مسئلہ حل کر لے بصورت دیگر پاک بھارت ایٹمی جنگ ناگزیر ہو جائے گی۔ بھارتی رہنما¶ں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کو تباہی کی جانب نہ لے جائیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں