پارلیمنٹ .... سفید ہاتھی؟
فضل حسین اعوان ـ 9 فروری ، 2010
وزیر داخلہ رحمن ملک بدستور اپنے دعوے پر قائم ہیں کہ ملک میں بلیک واٹر کا ایک بھی اہلکار موجود نہیں۔ گزشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس پاکستان آئے تو انہوں نے بلیک واٹر کی پاکستان میں موجودگی کا اعتراف کیا۔ اس کے باوجود بھی ملک صاحب مصر ہیں کہ پاکستان میں بلیک واٹر کا وجود نہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ثابت ہو جائے کہ ایک بھی بلیک واٹر کا اہلکار پاکستان میں موجود ہے تو وہ استعفیٰ دیدیں گے۔ گزشتہ روز سرحد کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور نے بھی مان لیا کہ ان کے صوبے میں بلیک واٹر موجود ہے جو این جی اوز کی حفاظت پر مامور ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ”دہشت گردی میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ صوبے میں غیر ملکی مداخلت قبول نہیں کریں گے اور آخری دہشت گردی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی“ عوام کو تو پہلے ہی بلیک واٹر کی پورے ملک میں کارروائیوں کا علم ہے اس سے کوئی لاعلم ہے تو شاید رحمٰن ملک صاحب ہیں۔ بشیر بلور ان کو قائل کریں لیکن انہوں نے مستعفی ہونے کی جو شرط عائد کر رکھی ہے اس کے تناظر میں بلیک واٹر اہلکار اسلام آباد کی سڑکوں پر وردی پر بلیک واٹر کے سٹکر سجائے خود اپنے منہ سے بھی نعرے لگائیں کہ ہمارا تعلق بلیک واٹر سے ہے تو بھی رحمنٰ ملک ان کی موجودگی کا اعتراف نہیں کریں گی۔
کوئی بھی جنگ جیتنے کے لئے قوم کا متحد ہونا ضروری ہے۔ 65ءکی جنگ میں یہ جذبہ قوم میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میدانِ جنگ پاکستان کے ہاتھ رہا دشمن کے مقابلے میں فوج کی تعداد اور اسلحہ کی مقدار میں کئی گنا کمی کے باوجود کامیابی پاک فوج اور متحد قوم کا مقدر بنی۔ آج دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں حکومت کیوں کامیاب نہیں ہو رہی؟ کیا اس جنگ میں قوم حکومت کے شانہ بشانہ ہے؟ اس کا جواب بشیر بلور صاحب دیں تو بہتر ہے۔۔۔اس چھوٹے سے نکتے پر غور کریں؛ ناکے پر امریکی سفارتکاروں، بلیک واٹر اور ڈین کارپ کے اہلکاروں کو چند پولیس اہلکار یا فوجی جوان روکتے ہیں یہ اطلاع امریکی سفارتخانے تک پہنچنے سے قبل میڈیا پر نشر ہو رہی ہوتی ہے یقیناً یہ کام فرشتے نہیں کرتے۔ حکومت کے کل پرزے بھی جس امرا اور عمل کو قومی مفادات کےلئے زہر قاتل سمجھتے ہیں۔ اسے اپنے سینے میں دفن کر کے قومی امنگوں کا خون ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ گزشتہ ہفتے لوئر دیر میں فوجی گاڑیوں کی کڑی حفاظت میں امریکی فوجی لڑکیوں کے سکول کی افتتاحی تقریب میں شرکت کےلئے جا رہے تھے کہ ریموٹ کنٹرول بم حملے سے تین امریکی فوجی ہلاک 2 زخمی ہو گئے۔ ظاہر ہے امریکی فوجیوں کی سکول آمد کو نہایت خفیہ رکھا گیا ہو گا۔ پھر بھی ان کو تاک کر نشانہ بنایا گیا۔ اس دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی۔ آخر ان کو امریکی فوجیوں کی اس قافلے میں موجودگی کی خبر کیسے ہو گئی؟ پاکستانی طالبان جو کچھ کر رہے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط۔ وہ بہت سے لوگوں کو اپنے موقف کی صداقت پر قائل کر چکے ہیں۔ وہ جس طریقے سے لوگوں کو قائل کرتے ہیں حکومت ان سے کہیں بڑھ کر پر اثرانداز میں لوگوں کو طالبان کے نظریات کے مقابلے میں اپنے مبنی برحق موقف پر مائل کرے تو دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ آسانی سے جیتی جا سکتی ہے۔ پہل ڈرون حملوں کی افادیت سے کی جائے کہ کیسے قومی مفادات کےلئے ناگزیر ہیں۔ حکومت ایسا کر دیتی ہے تو جن کے معصوم بچے بہن بھائی اور ماں باپ ڈرون حملوں کا ایندھن بن چکے ہیں۔ وہ خود کش بمبار بن کر لاہور، پنڈی کراچی کو نہیں امریکی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کو اڑاتے نظر آئیں گے۔
ڈرون حملوں کے خلاف پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد موجود ہے۔ 27 اکتوبر 2008ءکو سینٹر حضرات پھر جوش میں آئے اور ایک مزید مذمتی قرارداد منظور کر لی۔ اس سے قبل امریکی حکام نے حکومت کو یقین دلایا تھا کہ مزید ڈرون حملے نہیں ہونگے اس روز ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سینٹرز کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ بڑے پرجوش اور جذباتی تھے۔ وزیراعظم کے ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور بیانات موجود ہیں۔ لیکن آج ڈرون حملوں کے حوالے پارلیمنٹ میں مکمل سکوت ہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں ہر پارٹی کی نمائندگی ہے لیکن اب پارلیمنٹ میں ڈرون حملوں سے بہتے خون کی بات نہیں ہوتی۔ انسانیت کے قتل پر تو محب وطن پارلیمنٹرینز کو تڑپ اٹھنا چاہئے تھا۔ اجلاس کا بائیکاٹ کرتے، کمیٹیوں میں گرمی گفتار نظر آتی۔ پارلیمنٹ میں سکوت مرگ آخر کس سقوط کا پیش خیمہ ہے ؟۔ ایسی سفید ہاتھی نما پارلیمنٹ کی کیا ضرورت ہے جو اپنے شہریوں کی بہیمانہ قتل و غارت پر خاموش ہو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں