مُنہ بولتی شکست
عطاء الرحمن ـ 9 فروری ، 2010
امریکہ کو القاعدہ اور طالبان کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑے ہوئے آٹھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ دوسری جنگ عظیم (1939ءتا 1945ئ) سے زیادہ لمبی مدت ہے۔ موجودہ جنگ کے جلد ختم ہو جانے کے آثار نظر نہیں آ رہے اگرچہ امریکی تھکے تھکے نظر آتے ہیں۔ افغانستان سے باعزت طریقے کے ساتھ واپسی کے متمنی ہیں لیکن کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی۔ دوسری جانب القاعدہ تھکی نہیں۔ طالبان کو دیکھیں تو تازہ دم نظر آتے ہیں۔ غیر جانبدار سے غیر جانبدار عالمی مبصر لکھ رہا ہے امریکہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر اور ان کے مسلح ساتھیوں پر فتح نہیں حاصل کر سکا۔ القاعدہ اور طالبان کے پاس منظم فوج نام کی چیز نہیں۔ امریکہ سے لڑنے کے لئے زمین پر ٹینک اور میزائل ہیں نہ فضاﺅں میں لڑاکا ہوائی جہاز۔ دنیا کے کسی ملک یا حکومت میں جرات نہیں کہ ان کی حمایت کے بارے میں سوچ بھی سکے۔ انہیں مالی امداد کہاں سے ملتی ہے۔ امریکی سی آئی اے سمیت واحد سپر طاقت کے تمام تحقیقی اور تفتیشی ادارے اس کا حقیقی سراغ نہیں لگا سکے۔ صرف قیاس آرائیاں ہیں جن کا انبار لگا ہوا ہے۔ سابق امریکی صدر بش نے نائن الیون کے فوراً بعد جنگ کا اعلان کرتے ہوئے ببانگ دہل کہا تھا چند مہینوں کی بات ہے دہشت گردوں کی اس طرح دوڑ لگا دیں گے کہ انہیں چھپنے کیلئے جگہ نہ ملے گی۔ آج آٹھ برس گزر جانے کے بعد کیا کیفیت ہے۔ اس کا اندازہ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے ان الفاظ سے لگا لیجئے جو انہوں نے ایک تازہ ترین انٹرویو میں ادا کئے ہیں۔ فرماتی ہیں ”دہشت گردوں نے اپنے نیٹ ورک میں پہلے سے زیادہ تخلیقی صلاحیتیں پیدا کر لی ہیں۔ ان میں خاصی لچک آ گئی ہے اور مضبوط ہوئے ہیں“ آگے چل کر مزید کہا ”بدقسمتی سے دہشت گرد ایسی جماعت کی شکل اختیار کر گئے ہیں جن کی وابستگیاں بہت گہری ہیں۔ یہ چالاک لوگ ہیں۔ ان میں جذباتی لگاﺅ ہے اور ہر دم ہماری کمزوریوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔ ہمیں بہت ہوشیار رہنا پڑتا ہے“۔ یہ ہے امریکی وزیر خارجہ کے الفاظ میں آٹھ سالہ جنگ کا حاصل۔ جس میں اس نے عراق اور افغانستان جیسے دو مسلمان ملکوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کی مشرف آمریت نے چونکہ امریکہ کا غیر مشروط ساتھ دیا۔ اس کا صلہ یہ ملا ہے کہ ہمارا ملک سخت ترین بدامنی کا شکار ہے۔ ان حالات سے عہدہ برا ہونے کے لئے امریکہ نے نئی پالیسی اپنائی ہے۔ جس کے مطابق اچھے طالبان سے مذاکرات کئے جائیں گے۔ یہ اچھے طالبان کون ہونگے۔ ایک مغربی اخبار کے کارٹورنسٹ نے اس کا اس طرح مذاق اڑایا ہے کہ ایک طالبان سپاہی جس کے ماں باپ بیوی بچے سب میزائل حملوں میں ہلاک ہو گئے اس مہربانی پر امریکہ کا شکریہ ادا کرتا ہے جس کے بعد اسے اچھا طالبان ہونے کا سرٹیفکیٹ مل گیا۔ ایسے طالبان ڈھونڈے سے نہیں مل رہے۔ نئی پالیسی کے اعلان کے معاً بعد امریکہ اور ناٹو نے ہلمند میں جو طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ایک بہت بڑے فوجی آپریشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور کسی بھی لمحے اس کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ اس کی خبر سن کر طالبان بھی بھرپور دفاع کے لئے کمربستہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے عمر کے نام سے ایسا بم تیار کیا ہے کہ ان کے بقول امریکی آلات سراغ نہ لگا سکیں گے۔ لیکن امریکہ تو اصل دو بموں اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی بابت نہیں جان سکا کہاں چھپے بیٹھے ہیں۔ سی آئی اے کی تمام تر ترقی یافتہ سائنٹفک مشینری اور اس کے جاسوسوں کی اعلیٰ درجے کی مہارت اس باب میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ وہ ہلمند میں پہلے بھی کئی آپریشن کر چکے ہیں۔ ہر مرتبہ ناکامی ہوئی۔ اس بار وہ کیونکر کامیاب ہونگے۔ یہ پالیسی نہیں جنجھلاہٹ اور شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں