امریکہ اور ایران
پروفیسر سید اسراربخاری ـ 9 فروری ، 2010
جب سے ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوا ہے اور ایران امریکہ کے تصرف سے باہر آیا ہے اُسے یہ کھُجلی ہو رہی ہے کہ کس طرح اِس مضبوط اور متحدہ اسلامی ملک کو پھر سے اُس کو سابقہ شاہ ایران کے عہد کا ایران بنا دیا جائے ایسا کرنا چونکہ اُسے بہت مشکل نظر آ رہا ہے اِس لئے وہ ایران کو کمزور کرنے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اُلجھانے میں لگ گیا ہے اب جبکہ ایرانی صدر نے یورینیم افزودہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اُس پر معاشرے کی پرواہ نہیں کی جو امریکہ اور ایران کے درمیان ہوا تھا تو امریکہ نے یہ بیان جاری کر دیا ہے کہ تہران دھوکہ دے رہا ہے پابندیوں کے تیار رہے‘ ایران کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہئے بصورت دیگر اُسے اقتصادی پابندیوں کے ذریعے عالمی برادری سے الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔ اِس موقعہ پر ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ اُن کا ملک افزودہ یورینیم کے تبادلہ پر مغرب کے ساتھ معاہدے کے بالکل قریب ہے جبکہ امریکی سینٹ نے ایرانی وزیر خارجہ کے اِس بیان کو بددیانتی کے برعکس قرار دیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایران کے حوالے سے سفارت کاری ختم ہوتی ہے تو اُس کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دینی چاہئیں فوج کی کبھی ضرورت نہیں پڑے گی جبکہ جان کیری کا کہنا تھا کہ کانگرس سینٹ اور انتظامیہ کی سطح پر ہم سب متحد ہیں جبکہ یورپ میں ہمارے اتحادی بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ ایران کے لئے ایٹمی تیاری ناقابلِ قبول ہے۔ امریکہ بظاہر یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات و معاہدات کے ذریعے ہی مسئلے کا حل ڈھونڈنا چاہتا ہے اور وہ ایران اقتصادی پابندیاں لگا کر اِس قدر مجبور کر دے گا کہ اُس کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ مکمل منافقت کر رہا ہے اور فوجی کارروائی کی تیاریاں کر رہا ہے حال ہی میں ایران میں امریکی سی آئی اے کے سات ایجنٹ گرفتار کر لئے گئے ہیں جو مقامی شہری لوگوں کو احمدی نژاد کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں پر اُکسا رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کی منافقت بھی ملاحظہ ہو کہ امریکہ کو ایٹمی ایران سے زیادہ القاعدہ سے خطرہ ہے۔ ایک طرف ایران کو ایٹمی طور پر پابند کرنے کی کوششیں ہیں اور دوسری جانب یہ کہ ہمیں ایٹمی ایران سے کوئی خطرہ نہیں واضح تضاد بیانی ہے امریکہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام عالمی برادری کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے لیکن وہ اسرائیل کو بھول گیا ہے جس نے ایران اور عرب دنیا کے خلاف 200 ایٹم بم تیار رکھے ہوئے ہیں۔ کیا وہ عالمی برادری کے لئے خطرہ نہیں یا امریکہ مسلم امہ کو عالمی برادری سے خارج سمجھتا ہے۔یہ تو اب عرب دنیا پاکستان‘ افغانستان اور شمالی ریاستوں پر ہے کہ وہ متحد ہو کر امریکہ کی مسلم دشمنی کا مقابلہ کریں۔ ایک طرف یہ کہنا کہ ہمیں ایران سے کوئی خطرہ نہیں اور دوسری جانب وہاں سی آئی اے کا جال بچھا دینا چہ معنی دارد۔ امریکہ کی یہ بھی پوری کوشش ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اختلاف پیدا کیا جائے لیکن شاید ایران نے خطرے کو بھانپ کر پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔ اِس وقت عربوں اور ایران کے آپس میں بہترین تعلقات ہیں۔ امریکہ کو یہ بات بُری طرح چُبھ رہی ہے حالات واقعات کے آئینے میں جھانک کر دیکھا جائے تو امریکہ عیسائی دنیا کو مسلم دنیا پر بالادستی قائم کرنے کی سازش کر رہا ہے اور وہ اِس کوشش میں اسرائیل کو بھی شامل کئے ہوئے ہے۔ وہی اسرائیل جس کا پروگرام نہ صرف فلسطین کو ہڑپ کرنا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ وہ بیروت سے ہوتا ہوا سعودی عرب کی سرحد تک پہنچے اِس وقت اگر مسلم دنیا کو کوئی خطرہ ہے تو وہ امریکہ کی شہہ پر امریکہ کے لے پالک اسرائیل سے ہے جس نے پاکستان کے خلاف بھارت کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں