باتیں مشاہد حسین سید کی

محمد یسین وٹو ـ 9 فروری ، 2010
سیاستدانوں اور لکھاریوں کے درمیان کئی رشتے ہیں مگر سب سے اہم تعلق خبر کا ہے۔ خبر سیاستدانوں تک لپک کر جاتی ہے۔ کبھی وہ خود سرخیوں کا حصہ بنتے ہیں تو کبھی ان کے اردگرد بکھری خبریں ان کے ذریعے صفحہ قرطاس کی زینت بنتی ہیں۔ ہم صحافی ہونے کے دعویدار تو نہیں‘ البتہ نوائے وقت میں ہر ہفتہ لکھی جانیوالی ان چند سطروں کے توسط سے لکھاری کہلوانے کے سزاوار ضرور بن چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنماءاور سابقہ صحافتی اور موجودہ سیاسی شخصیت مشاہد حسین سید چند دن پہلے لاہور آئے تو کالم نگاروں کے ساتھ ایک شام گپ شپ کی محفل منعقد کی۔ مسلم لیگ (ق) کے نوجوان جائنٹ سیکرٹری آصف چٹھہ نہایت متحرک انسان ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کو یہ بہرحال کریڈٹ جاتا ہے کہ اسکی صفوں میں مسلم لیگی گھرانوں کے نوجوان شامل ہوئے ہیں۔ آصف چٹھہ بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ سنجیدہ‘ متین اور اپنی تنظیمی ذمہ داریوں پر پوری طرح فوکس کئے ہوئے۔ آصف چٹھہ نے اطلاع دی کہ مشاہد حسین سید کسی پریس بریفنگ کے بجائے محض کالم نویسوں سے گپ شپ کے خواہشمند ہیں۔ اتوار کی شام مشاہد حسین سید سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے خاصا کھل کر گپ شپ کی اور ملکی سیاسی حالات پر اپنے مشاہدات شیئر کئے۔ مانسہرہ کے ضمنی انتخابات میں اچھی کارکردگی پر مسلم لیگ (ق) خاصی مسرور ہے۔ مشاہد حسین نے بھی تفاخر سے یہ ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت پنجاب میں بھی آئندہ اچھی کارکردگی دکھائیگی۔ مسلم لیگ (ن) سے اتحاد کے حوالے سے سوال ہوا تو وہ کہنے لگے کہ فی الوقت تو ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔ ان کی گفتگو سے ہم نے یہ تاثر لیا کہ مسلم لیگ (ق) میاں برادران سے اتحاد کے بجائے چاروں صوبوں میں اپنے علاقائی اتحادی تلاش کرنے میں زیادہ سنجیدہ ہے۔ سندھ میں مسلم لیگ (ق)‘ متحدہ قومی موومنٹ اور سندھی قوم پرستوں سے تعلقات خاصے بہتر کرچکی ہے۔ بلوچستان میں محمود خان اچکزئی کی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی پر ان کی نظر ہے جبکہ انہیں امید ہے کہ تحریک انصاف اور کہیں کہیں جماعت اسلامی سے بھی مقامی سطح پر تعاون حاصل ہوجائیگا۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات پر مشاہد حسین کی جماعت نظریں جمائے بیٹھی ہے۔ ان نتائج سے مستقبل کے منظرنامے کی کوئی جھلک نظر آسکے گی۔ عدلیہ‘ حکومت ٹکراﺅ کے حوالے سے مشاہد حسین کی رائے بڑی امید افزاءتھی۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ ٹکراﺅ نہیں ہوگا‘ نہ مڈٹرم الیکشن ہوں گے نہ ہی سسٹم خطرے میں پڑیگا۔ سپریم کورٹ کا این آر او پر تفصیلی فیصلہ ان کی نگاہ میں بڑا سوچ سمجھ کر لکھا گیا ہے۔ اعلیٰ عدالتیں ادارہ جاتی ٹکراﺅ نہیں چاہتیں۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ عالمی تعلقات کے حوالے سے پاکستان اس وقت بہتر پوزیشن میں آچکا ہے‘ خاص کر اپنے ریجن میں اسکے پاس سب سے بہترین کارڈز ہیں۔ بقول ان کے صدر اوباما کا زور دو نکات پر ہے۔ پہلی اکانومی‘ جس کیلئے اسے چین پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے‘ دوسرا افغانستان‘ جس کیلئے پاکستان کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1989ءمیں بھی یہی پوزیشن تھی مگر اس وقت ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے پتے درست طریقے سے نہیں کھیلے اور ہمیں نقصان اٹھانا پڑا۔ اگر اس بار درست حکمت عملی اپنائی گئی تو پاکستان کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہوجائیگی۔ بھارت سے تعلقات کے حوالے سے تجربہ کار صحافی اور سیاستدان کا کہنا تھا کہ ہندو قیادت کی تنگدلی کے باعث کوئی بریک تھرو ہونا ممکن نہیں۔ کہنے لگے کہ میں نے بھارت میں کئی بار کہا تھا کہ اگر آپ پاکستان سے تعلقات ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو اپنا دل بھی بڑا کریں‘ بڑے فیصلے کرنے کیلئے بڑا دل چاہئے ہوتا ہے۔ بھارتی لیڈروں کے پاس اتنا ظرف یا ہمت موجود ہی نہیں۔مشاہد حسین کی گفتگو کے دوران ہم ان کی شخصیت کا تجزیہ کرتے رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ستاروں کی چالیں ان کے حق میں جا رہی ہیں۔ رواں سال مشاہد حسین کے حق میں بہتر ثابت ہوگا اور انہیں کوئی اہم کردار مل سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ کس حد تک توقعات پر پورا اترتے ہیں؟تاہم ستاروں کی چال میں آئندہ ہونیوالے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بہتر پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔ جہاں تک شیخ رشید کی ذات کا تعلق ہے‘ آئندہ چند دنوں میں ان کے ستاروں کے نحس اثرات ظاہر ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں