بھٹو اب بھی انصاف مانگ رہا ہے

فاروق عالم انصاری ـ 8 مارچ ، 2010
پچھلے دنوں اپنے دورہ بلوچستان مےں آصف زرداری نے بھٹو کے عدالتی قتل کا ذکر پھر سے چھےڑا ہے سپرےم کورٹ کے اےن آر او کے خلاف تارےخی فےصلہ کے پس منظر مےں ےہ ذکر سے شاعری کی زبان مےں پامال خاصا معنی خےز ہے۔ ہمارے دراز قد صدر مملکت نے کوتاہ قد چےف جسٹس نسےم حسن شاہ کے چار فٹ تےن انچ قد کے ذکر سے شاعری کی زبان مےں پامال زمےن مےں سے پھڑکتا ہوا شعر نکالا ہے خالص سنجےدہ مسائل مےں غےر سنجےدہ انداز گفتگو مناسب نہےں۔ آپ اسے اےک جےالے صدر کے کھلنڈرے پن سے ہی تعبےر کرسکتے ہےں۔ جسٹس نسےم حسن شاہ سپرےم کورٹ کے واحد زندہ جج ہےں جنہوں نے بھٹو کی اپےل کی سماعت کی تھی۔ انہوں نے اپنی رےٹائرمنٹ کے بعد کچھ ےادےں اور تاثرات کے نام سے اےک کتاب لکھی۔ اس تمام کتاب مےں اےک جج وضاحتوں کے کٹہرے ہی مےں کھڑا نظرآتا ہے۔ انہوں نے اپنی اور چےف جسٹس انوارالحق کی ان کوششوں کا ذکر کےا جو بھٹو کی جان بچانے کے سلسلے مےں کی گئیں۔ بھٹو کی اپےل کی سماعت کرنے والا سپرےم کورٹ کا بنچ 9 ججز پر مشتمل تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے چاروں جج چےف جسٹس انوارالحق جسٹس اکرم، جسٹس کرم الہٰی چوہان اور جسٹس سےد نسےم حسن شاہ بھٹو کو سزا سنانے کے حق مےں تھے۔ باقی صوبوں سے تعلق رکھنے والے پانچوں جج بھٹو کو بری کرنا چاہتے تھے۔ دوران سماعت صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے جسٹس قےصر خان رےٹائر ہوگئے ۔ جسٹس وحےدالدےن اپنے عارضہ قلب کے باعث عدالتی فرائض سرانجام دےنے کے قابل نہ رہے اور سبکدوش کردئےے گئے باقی رہ جانے والے تےن ججوں کے نام ےوں ہےں جسٹس دراب پٹےل جسٹس اےم حلےم اور جسٹس سےد صفدر شاہ۔ اب بنچ مےں اکثرےت ان پنجابی ججوں کی تھی جو بھٹو کی سزا بحال رکھنے کے حق مےں تھے۔ جسٹس نسےم حسن شاہ نے اپنی کتاب مےں اےک عجےب وغرےب واقعہ لکھا ہے ان کے مطابق چےف جسٹس انوارالحق پرےشان تھے کہ پنجابی ججوں کے ہاتھوں بھٹو کی سزا بحال رکھنے کے فےصلے سے دوسرے صوبوں خصوصاً سندھ مےں منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی وحدت کے حوالے سے اےک تباہ کن نقشہ کھےنچا جا رہا تھا۔ چےف جسٹس انصاف کے تقاضے پورے کرنا چاہتے تھے اور دوسری طرف پاکستان کی وحدت پر پڑنے والے تباہ کن اثرات سے بھی بچنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بڑے غوروخوض کے بعد اےک تجوےز سوچی اور اس پر عمل درآمد مےں اےک اہم کردار ادا کرنے کے لئے سےد نسےم حسن شاہ کو منتخب کےا۔ کےونکہ وہ جانتے تھے کہ نسےم حسن شاہ کے جسٹس دراب پٹےل سے بڑے اچھے تعلقات ہےں جسٹس دراب پٹےل بھٹو کو قصوروار نہ سمجھنے والے دھڑے مےں سب سے سےنئر تھے اس ناطے وہ صورتحال سے نپٹنے کے لئے سب سے موثر کردار ادا کرسکتے تھے۔ چےف جسٹس کی طرف سے تجوےز ےہ تھی کہ صوبوں کے درمےان تلخی اور منافرت سے بچنے کے لئے سپرےم کورٹ کی طرف سے متفقہ فےصلہ سناےا جائے۔ اس تجوےز کے مطابق سب سے زےادہ قرےن عدل ےہ فےصلہ تصور کےا گےا کہ پنجاب کے ججوں کو مسٹر بھٹو کی سزا مےں تخفےف پر رضامند کےا جائے جبکہ بھٹو کے حامی جج انہےں نواب احمد خان کی موت کا ذمہ دار قرار دےنے پر اتفاق کر لےں۔ پارسی عقےدہ رکھنے والے جسٹس دراب پٹےل کے انکار پر ےہ معاملہ ختم ہوگےا۔ پاکستان مےں آمرےت اور ججوں کا کردار کے نام سے کتاب جسٹس دراب پٹےل نے رےٹائرمنٹ کے بعد لکھی۔ کےا شاندار آدمی تھے کہ انہوں نے اپنی کتاب مےں بھٹو کےس کا ذکر بھی مناسب نہےں سمجھا۔ اس مرحلے پر ےہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اےک دوسرا سےدزادہ مختلف کہانی بےان کرتا ہے جسٹس صفدر شاہ نے اپنی جلاوطنی کے دوران محترمہ بے نظےر بھٹو کو بتاےا کہ اپےل کی سماعت کے دوران چےف جسٹس انوارالحق صفدرشاہ کو اےک طرف لے گئے اور لگے سمجھانے کہ ہم جانتے ہےں بھٹو بے گناہ ہے مگر پاکستان بچانے کے لئے اسے ختم کرنا ضروری ہے۔
جسٹس نسےم حسن شاہ نے اپنی کتاب مےں ےہ نکتہ اعتراض بھی اٹھاےا ہے کہ جب بے نظےر بھٹو وزےراعظم بنےں تو انہوں نے اعلان کےا تھا کہ وہ ازسرنو ےہ مقدمہ چلوائےں گی پھر وہ دو مرتبہ بطور وزےراعظم برسراقتدار رہےں مگر انہوں نے ےہ مقدمہ ازسرنو چلوانے کی کوئی کوشش نہ کی۔ اصل معاملہ ےوں ہے کہ پےپلز پارٹی کو محترمہ کی زندگی مےں دو مرتبہ حکومت ضرور ملی لےکن انہےں اقتدار نہ مل سکا اور ےہ حقےقت عسکری حلقوں نے کبھی چھپانے کی ضرورت بھی نہےں سمجھی۔ رےٹائرڈ اےڈمرل سروہی نے اپنی کتاب ”سچ سمندر“ مےں ےہ بات صاف صاف لکھ دی ہے کہ 1988ءکے الےکشن مےں قومی اسمبلی کے نتائج سے واضح ہوگےا تھا کہ مرکز مےں پےپلز پارٹی حکومت بنائے گی اور بے نظےر بھٹو وزےراعظم بنےں گی حالانکہ چےف آف دی آرمی سٹاف اےوان صدر کے اےک اجلاس مےں صاف صاف کہہ چکے تھے کہ بے نظےر بھٹو کا وزےراعظم بننا خود ان کو اور فوج کو قبول نہےں۔ ےہی بات وہ بےگم جنرل ضےاءالحق سے بھی اےک ملاقات مےں کہہ چکے تھے۔ بے نظےر بھٹو کو اس صورتحال کا پتہ چلا تو انہوں نے چےف آف آرمی سٹاف سے ملاقات کی روداد سنائی۔ انہوں نے بےان کےا کہ بے نظےر بھٹو نے ان کی ساری شرائط تسلےم کر لی ہےں۔ ان پانچ شرائط مےں سے اےک شرط ےہ بھی تھی کہ جنرل ضےاءالحق کی فےملی کو ہراساں نہےں کےا جائے گا۔ ےہی وجہ ہے کہ ان کے خاندان سے آج تک کبھی کسی نے مالی امور مےں بھی پوچھ گچھ نہےں کی۔ چےف آف سٹاف نے ےہ تمام شرائط قبول کرلےنے کے بعد ہی بے نظےر بھٹو کو وزےراعظم کے طور پر قبول کےا تھا اب ےہ بات صاف ظاہر ہے کہ پےپلز پارٹی کو صرف حکومت ملی تھی اقتدار کبھی نہ مل سکا پھر ان کے لئے مقدمہ ازسرنو چلانا کےسے ممکن تھا۔
بھٹو نے سپرےم کورٹ مےں کہا تھا ہر وہ شخص جو گوشت پوست کا بنا ہوا ہے اس دارفانی سے اےک دن کوچ کرجاتا ہے۔ مےں زندہ رہنے کے لئے زندگی نہےں چاہتا۔ مجھے انصاف چاہئےے پےپلز پارٹی کے سربراہ اور پاکستان کے صدر مملکت آصف زرداری بھی سپرےم کورٹ مےں بھٹو کے مقدمہ کی ازسرنو سماعت کا مطالبہ نہےں کررہے۔ وہ تو بات ہی غےر سنجےدہ انداز مےں کر رہے ہےں۔ کےا پاکستان کی سپرےم کورٹ اس سلسلے مےں ازخود نوٹس نہےں لے سکتی۔ اگرچہ مرکز مےں پےپلز پارٹی کی حکومت ہے پھر بھی ان دنوں صرف عدلےہ ہی اقتدار مےں نظر آرہی ہے اور ےہ بات بھی تو ہے کہ بھٹو اب بھی انصاف مانگ رہا ہے۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں