عوام خود ہمت کرے
پروفیسر سید اسراربخاری ـ 8 مارچ ، 2010
یہ وقت اِس بات کا نہیں کہ لوگوں کو ماضی کی داستانیں سنائی جائیں تاریخ کے صفحات اُلٹے جائیں حکمرانوں سیاست دانوں کی منتیں کی جائیں ہر بات کا ذکر کیا جائے بلکہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ بیرونی دنیا کے عوام کی طرح ہمارے لوگ بھی بیدار ہو جائیں اُٹھ کھڑے ہوں اور احتساب کی زمام اپنے ہاتھ میں لے لیں اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ آگے ہونگے اور حکومت اُن کے نقشِ قدم پر ہو گی۔ اک سیاہ رات ہے جو اصلی نہیں جعلی ہے اُسے ازخود نوٹس لے کر روشن دن بنائیں ہم دن کو سو گئے ہیں اور رات طاری کر لی ہے ہمیں جاگنا ہو گا اور اِس خود ساختہ رات کو دن بنانا ہو گا دشمنوں نے ہمیں بھنگ پلا کر سُلا دیا ہے حالات کی کھٹائی کا احساس کر کے ہم یہ نشہ اتار سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ دستور ہے کہ عوام جو چاہتی ہے حکومت سے کرا لیتی ہے اِس لئے کہ حکومت عوام سے ہوتی ہے عوام حکومت سے نہیں ہوتی۔ چند لوگ ہیں جو صرف اور صرف عوام سے چھینی ہوئی رقم کی بنیاد پر حکومت کرتے ہیں اور عوام احساس کمتری کا شکار ہو کر خود کو بے بس سمجھ بیٹھتی ہے۔ عوام جب اُٹھتے ہیں تو قیادت بھی اُٹھتی ہے وہی قیادت جو اُن میں سے ہوتی ہے چوروں ڈاکوﺅں کا تعاقب کرنے میں عوام کا حصہ ہوتی۔ عوام یہ نہ بھولیں کہ اربابِ حکومت و اختیار یہ پکا پکا سمجھ بیٹھے کہ یہ عوام تو گاﺅدی ہے بے عقل ہے بزدل ہے لارے لپے کی عادی ہے اور جب V.I.P کی کاروں کا جلوس گزرتا ہے تو سڑک کے دونوں طرف کھڑے ہو کر اپنی بے بسی پر تالیاں بجاتی ہے اگر یہ جمِ غفیر کسی ایک مرتبہ ہی وی آئی پیز کے کاروان کے سامنے سڑک بلاک کر کے کھڑا ہو جائے تو یہ وی آئی پی کلچر پارہ پارہ ہو سکتا ہے سڑکیں گزرنے کے لئے ہوتی ہیں جنہیں چند لوگوں کے لئے چند لمحوں کے لئے بھی نہیں بند کیا جا سکتا مگر بات ہے ہمت کی جرات کی خدا جانے وہ کس نے اس قوم سے کشید کر لی ہے ہم کہتے تو ہیں کہ ہم ایک بہادر قوم ہیں مگر کسی دکاندار سے یہ تک پوچھنے کی ہمت نہیں رکھتے کہ یار یہ چیز اتنی مہنگی بیچ رہے ہو حکومت ہمیشہ عوام کے آدرشوں پر چلتی ہے اور ساری دنیا میں یہی کچھ ہوتا ہے اور ہمارے ہاں بالخصوص پوری مسلم امہ میں باطل قوتوں نے اپنے گماشتے مسلط کر کے ہمیں اُن کے پیچھے پیچھے چلنے پر مجبور کر دیا ہے اور ہم واقعی مجبور ہو گئے ہیں جیت ہمیشہ اکثریت کی ہوتی ہے اقلیت کی نہیں حکمران اقلیت میں ہوتے ہیں اور اکثریت کو بھیڑ بکریوں کی طرح آگے لگا رکھا ہوتا ہے کیا اِس کو بہادر قوم کہتے ہیں۔ اقبالؒ نے جب تصورِ پاکستان دیا تھا تو گویا قائداعظمؒ کو ایک باہمت قوم عطا کر دی تھی وگرنہ شاید قائداعظمؒ کبھی کامیاب نہ ہوتے یہ صرف خدا کی ذات ہوتی ہے جو ایک ہو کر م¶ثر ہوتی ہے وگرنہ انسان جب تک اکٹھے ہو کر جینا نہ سیکھیں متحد قومیں اُنہیں تنکوں کی طرح تروڑ مروڑ دیتی ہیں آج پاکستان کو لمبے چوڑے فلسفوں مرصع عبارتوں اور دردناک مناظر دکھانے کی ضرورت نہیں اُنہیں اُن کی قوت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور سادہ لفظوں میں اُن کے اندر سوئی ہوئی اُس خودی اور خودداری کو جگانے کی ضرورت ہے جو بالترتیب علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظمؒ محمد علی جناح میں موجود تھی۔ اگر یہ عوام کی کثرت اور ان کا اژدہام بن کے رہے گا پاکستان کا نعرہ بلند نہ کرتے تو قائد و اقبال تنہا کیا کر لیتے جو عوام پاکستان بنا سکتی ہے ہندوستان کے سینے پر پاکستان اُگا سکتی ہے کیا وہ مہنگائی، بدحالی، بے روزگاری، غربت اور حکمرانوں کی عیاشیاں کنٹرول نہیں کر سکتی؟ ہمیں کسی نے بتایا کہ برطانیہ میں پیاز ذرا سا مہنگا ہو گیا ساری قوم نے پیاز کا استعمال ہی چھوڑ دیا اور تاجر دکاندار ٹرک بھر بھر کر دہلیزوں پر سستا پیاز پہنچانے لگے۔ مگر ہم تو وہ غریب عیاش ہیں کہ ہانڈی میں جب تک ٹماٹر نہ پڑے اُسے نامکمل سمجھتے ہیں چاہے ٹماٹر 70 روپے کلو ہی کیوں نہ ہو۔ بھارت ہمارا پانی بند کر کے ہماری خاموشی اور مدہوشی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ہماری زراعت کو تباہ کر رہا ہے۔ ہم نے من حیث القوم کبھی اس پر ردعمل ظاہر کر کے حکمرانوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ بھارت کے گریبان میں ہاتھ ڈالیں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں