حضور نبی کریمﷺ

ـ 8 فروری ، 2012
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی
سوا چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس عرصے میں دنیا میں بڑے بڑے انقلابات آئے، صلیب و ہلال کے معرکے ہوئے، حکومتیں بنیں اور مٹ گئیں، عروج و زوال کی نئی نئی مثالیں قائم ہوئیں، کبھی خلافت کا احیاءہوا، کبھی ملوکیت کی بساط بچھی، نظام بھی ابھرے اور نظریات بھی نموپذیر ہوئے اور پھر قصہ¿ پارینہ بن گئے۔ تعبیرات اور عقائد میں اختلافات ابھرے، فرقے بنے اور ختم ہو گئے۔ یہ سب ہوتا رہا مگر حضور نبی کریم کی ذات بابرکات کی ضیاپاشیاں اپنی جگہ برقرار رہیں اور ہر دور میں اپنی لو سے انسانیت کو منور کرتی رہیں۔ انقلابات زمانہ ان کی پاکیزہ ہستیوں کی ضیاءپاشیوں کو ذرہ برابر مدہم نہ کر سکے اور ہر دور میں ان کی ذات مرکز محبت بن کر سرچشمہ ہدایت بنی رہی اور آئندہ بھی انسانیت اس سرچشمہ ہدایت کی ناموس کی حفاظت کر کے اور ان کی پیروی کر کے اپنی دنیا و عقبیٰ کو سدھارتی رہے گی۔
موجودہ فتنوں کا دور اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ حضور نبی کریم کی ذات بابرکات جو ہمارے لئے دنیا و عقبیٰ کا آخری سہارا ہے اور جن کا نام سنتے ہی ہر مسلمان کے دل کی عجیب کیفیت ہو جاتی ہے اور محبت اور عشق کا ایک ایسا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے جس کا غیر مسلم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ حضور نبی کریم سے عشق امت مسلمہ کی قوت کا اصل سرچشمہ اور خزانہ ہے اور اسلام دشمن طاقتیں اسی خزانے کو لوٹنے کے درپے ہیں۔
اقبالؒ حضور کی شان اقدس کے بارے میں فرماتے ہیں
ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو
آنکہ از خاکشِ بروید آرزو
یا ز نور مصطفی او را بہا است
یا ہنواز اندر تلاشِ مصطفی است
اس جہان رنگ و بو کی جس چیز پر بھی نظر ڈالیں، جس سے آرزوئیں اور تمنائیں جاگ اٹھتی ہیں یا تو حضرت محمدﷺ کے نور کی وجہ سے اس کو قدر و قیمت حاصل ہے یا وہ بھی ان کے نور کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
کائنات کے تمام قافلے چاہے وہ انسان ہوں یا کوئی اور مخلوق، چاند ہوں یا ستارے یا کہکشائیں سب کو اسی معنی دیریاب کی تلاش تھی جو حضور نبی کریم کی ہستی اقدس کی صورت میں ظہور پذیر ہوئی۔
اللہ رب العالمین نے بھی اپنے اس احسان کا ذکر اس طرح سے کیا ہے کہ:
(ترجمہ) درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔ (آل عمران)
ہم نے یہ وطن عزیز اسی لئے حاصل کیا تھا کہ کہ ہم اس میں نظام مصطفی کا قیام عمل میں لائیں گے
بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است
ہم نے پاکستان کو اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کا عزم کیا تھا کہ اس کو حضرت محمد مصطفیﷺ کے نور سے منور کریں گے اور ابولہب کے چیلوں کی چنگاریوں سے محفوظ رکھیں گے مگر وقتاً فوقتاً یہاں پر کچھ شرپسند عناصر جنہیں غیر ملکی امداد کی وجہ سے سوداگر عناصر کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ وطن عزیز کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کیلئے اپنی مذموم چالیں چلتے ہیں اور اس دفعہ ان کا ہدف ہمارا آخری مرکز محبت ہے۔
فتنوں کے اس دور لامرکزیت نے امت کو اس کے آخری منبع و مرجع سے محروم کرنے کیلئے ہدف بنایا ہے اور یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی پاگل سورج پانی اور ہوا کو گالی دے یا روشنی، فضا اور موسم کو برا بھلا کہہ دے۔ کسی صاف اور شفاف میٹھے پانی کے چشمے کو کیا فرق پڑتا ہے اگر اس کو لوگ گدلا اور کھارا کہنے لگیں۔ اس طرح چمکتے ہوئے سورج کو لاکھوں لوگ بھی سیاہ پتھر کہنے لگیں تو بھی اس کی ایک کرن کو نہیں روک سکتے۔ وہ بدستور چمکتا رہے گا مگر امت کا مفاد اسی میں ہے کہ اس عظیم ترین ہستی اور محبوب دوجہاں کے حقوق اور ناموس کی حفاظت اور دفاع کرے تاکہ معاشروں کا امن قائم رہے اور افراد کی اصلاح کیلئے بھی ضروری ہے کہ اس مثالی انسان کامل کے ساتھ عقیدت و محبت میں ذرہ برابر کمی نہ ہو۔ نبی کریم کی ذات مبارک ہی وہ سائبان ہے جس میں خوار و زار امت پناہ لیتی ہے، متحد ہو جاتی ہے اور سکون پاتی ہے۔ دشمن اس آخری سہارے سے امت کو محروم کرنے کے درپے ہے مگر ہمیں متحد ہو کر ایمان کی اس رمق کو بچانا ہے جسے امت کے جسد سے نکالنے کیلئے حضور کی ذات اقدس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے آقائے دوجہاں سے اس بات پر بیعت کی ہے کہ جب تک ہمارے سر ہمارے دھڑوں پر سلامت ہیں ہم آپ کے لائے ہوئے نظام اور سنتوں کو نافذ کرنے کی جدوجہد اور آپ کی ناموس کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
گر تو می بینی حسابم ناگزیر
از نگاہِ مصطفی پنہاں بگیر!
٭٭٭٭
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں