کچھ”نان ایشوز“ باتیں....

ـ 8 فروری ، 2010
محمد افضل راﺅ.............
آج پاکستان میں ایشو اور نان ایشو میں فرق معلوم کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اتنی افراتفری ہے کہ ایشو نان ایشو اور نان ایشو ایشو بن گیا ہے۔ عوام کی طاقت لے کر طاقتور بننے والے حکمران اپنے نان ایشو کو ”ہاٹ ایشو“ بنا لیتے ہیں اور اسے ایشو ثابت کرنے کےلئے اپنی عوامی ذمہ داریاں بالائے طاق رکھ دیتے ہیں جبکہ حکمرانوں کو طاقت دینے والے لاغر عوام اپنے ایشوز جو کہ حقیقتاً ایشوز ہیں، ہاتھ میں لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
جمہوری دور کے ثمرات لوگوں کو مزید مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کی صورت میں ملے ہیں اور ہمارے برسراقتدار کھوکھلے دعوے اور کبھی نہ پورے ہونیوالے وعدوں کا علم ہاتھ میں اٹھائے عوام کی خدمت کا بے سرا راگ مسلسل الاپ رہے ہیں۔ ہم نے سنا تھا کہ جب کسی چیز کی کھپت بڑھتی ہے تو وہ نایاب ہو جاتی ہے مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے، کھپت بڑھے یا نہ بڑھے چیز ضرور نایاب ہو جاتی ہے۔ شدید سردی میں بھی شدید لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ شاید ہماری حکومت کو لفظ ”شدید“ سے کچھ خاص لگاﺅ ہے اسی لئے بھیا سردی ہو یا گرمی، لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ”شدید“ کا لفظ ضرور ہوتا ہے چینی کی قلت کا ہم نے کبھی نہیں سنا تھا مگر یہ تحفہ بھی ہمیں ”جمہوری حکومت“ نے ہی عطا کیا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے کھیتوں کے سارے گنے کون”چوپ“ گیا ہے۔
اس تناظر میں حکومت وقت شاید یہ بھول گئی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے نفرت بھی ”شدید“ بڑھ رہی ہے۔ صبح سے لے کر شام تک آپ کو شاید ہی کوئی شخص ایسا ملے جو حکومت کی کارکردگی سے خوش ہو۔ یوٹیلٹی سٹورز کے پاس سے گزرو تو لمبی لائنیں نظر آتی ہیں اور یہ لائنیں ختم ہونے کا نام تک نہیں لیتی کیونکہ اندر بیٹھا عملہ صرف ”جھک“ مار رہا ہوتا ہے۔ یہی لائنیں آپ کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دفاتر کے باہر نظر آئیں گی یعنی ہر جگہ عوام ”لائن حاضر“ ہیں۔ لوگوں کو گیس اور بجلی استعمال نہ کرنے کے بھی بل دینے پڑ رہے ہیں صرف اس لئے کہ اگر بل ادا نہ کیا تو کنکشن کاٹ دیا جائے گا اور پھر کنکشن کی بحالی کے لئے خوار ہونا پڑے گا۔ لوگ خواری میں اور حکمران ”عوام خوری“ میں مصروف ہیں لیکن ان عوام خوروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس دن لوگ زہریلے ہو گئے تو ان کا سارا کھایا پیا باہر آ جائے گا اور یہ صورتحال سپریم کورٹ کے این آر او پر تفصیلی فیصلے کے بعد رونما ہوتی دکھائی بھی دے رہی ہے۔ گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور لاقانونیت، یہ تو موٹے موٹے”رجسٹرڈ مسائل“ ہیں لیکن جب آپ کو ”نان رجسٹرڈ مسائل“ کا مشاہدہ ہو گا تو عوامی خدمت کے دعوےداروں کی قلعی کھل جائے گی، پوش علاقوں سے نکل کر پسماندہ علاقوں کا رخ کیا جائے تو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا ہو گا۔ وہاں لوگ کیسے جی رہے ہیں یہ صرف وہی جانتے ہیں اور ان علاقوں سے منتخب ہونے والے حکومتی نمائندے لوگوں کے لئے عید کا وہ چاند بن گئے ہیں جو صرف الیکشن کے دنوں میں نظر آتا ہے۔ یہ نمائندے عوامی مسائل کے حل اور ترقی کے نام پر لاکھوں کروڑوں کے فنڈز منظرو کرواتے ہیں لیکن یہ فنڈز ان کی اپنی جیبوں میں جاتے ہیں اور عوام بے چارے ”کھوہ کھاتے“ اگر کوئی ہمت کر کے اس سرکاری غبن پر آواز اٹھاتا بھی ہے تو اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا ہے کہ دوبارہ کسی کی جرات نہیں ہوتی کہ وہ کچھ بول سکے۔ ہمارے ملک میں ”چیک اینڈبیلنس“ کا رواج ہی نہیں ہے۔ اگر رواج ہے تو صرف کرپشن کا اور وہ بھی بھیاء”دباکے“....Aسے Zتک سارا سسٹم کرپشن میں دھنسا ہوا ہے اور کسی کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اب دیکھیں کہ جس نے فنڈز منظور کئے وہ بعد میں پتہ ہی نہیں کرتا کہ فنڈز صحیح جگہ پر لگائے گئے یا نہیں۔ آسان کرپشن کا یہ سسٹم ہر شہر، گاﺅں، علاقے اور حلقے میں موجود ہے۔ اسی طرح کاغذی اور نام نہاد ترقی کی آڑ میں قومی خزانہ اڑتا رہتا ہے۔ ہر طرف سے بے چارے عوام ہی مارے جاتے ہیں۔ حکمران اپنے نان ایشوز پر لڑتے لڑتے عوام کے ایشوز کو بھول جاتے ہیں۔ دو ہاتھیوں کی لڑائی میں جو حال گھاس کا ہوتا ہے۔ وہی غریب عوام کا ہوتا ہے لیکن جس دن اس لڑائی میں گھاس لوہے کی ہو گئی اس دن ہاتھی اپنے اپنے زخم چاٹتے رہ جائیں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں