ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور انگلینڈ کی یو آنے میں کیا فرق ہے ؟

عائشہ مسعود ـ 8 فروری ، 2010
وہ لڑکی صحافت کو ایک مشن سمجھ کر آگے بڑھ رہی تھی .... وہ میڈیا کے تخیلاتی تصورات سے بھی دلچسپی نہیں رکھتی تھی دراصل وہ غیر معمولی اطلاعات حاصل کرکے آگے بڑھنا چاہتی تھی ....اس خاتون کا نام یو آنے تھا .... اور غیر معمولی اطلاعات حاصل کرنے والی یو آنے کیسے ہوسکتا تھا کہ نائن الیون کے بعد کی افغانستان کی صورتحال میں دلچسپی نہ لیتی.... افغانستان پہنچنے والی یو آنے کہتے ہیں کہ نجی زندگی میں پارٹیوں میں آپے سے باہر ہونے والی خاتون تھی .... اس لیے منشیات کی تجارت اور اس میں ملوث مجرموں کی پشت پناہی کرنے والوں کے راز فاش کیے تھے .... لیکن یہی یو آنے کابل پہنچتے ہی گرفتار ہوگئی تھی اور طالبان نے اسے قید میں ڈال دیا تھا .... ہماری بھی ایک خاتون ڈاکٹر عافیہ کے نام سے امریکہ کے پاس قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہی ہے .... امریکہ کی عدالت نے انہیں مجرم قرار دے دیا ہے .... طالبان نے بھی برطانیہ کی یو آنے کو مجرم ہی قرار دیا تھا کیونکہ وہ ان کے خلاف ہی کچھ کام کرنے کے لیے آئی تھی .... مگر طالبان نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ سیکرٹ ایجنٹ ثابت نہ ہوئی تو وہ رہا کر دی جائے گی .... طالبان نے اپنا وعدہ پورا کیا اور کہتے ہیں کہ لوگ بھی حیران رہ گئے تھے کہ جب طالبان نے یو آنے کو رہا کیا اورملاعمر نے انسانی بنیادوں پر اس کی رہائی کے پروانے پر دستخط کیے اسی دن امریکہ اور برطانیہ نے کابل پر پچاس50 کروز میزائل پھینکے تھے .... طالبان نے یو آنے کی رہائی کے بعد اس کے بارے میں کہا تھا کہ یو آنے بہت گستاخ اور ضدی عورت تھی .... یو آنے طالبان سے رہائی حاصل کرکے انگلینڈ پہنچی تو اس نے وہاں لوگوں کے رویوں کے بارے میں بتایا کہ .... ”کالم نگار خواتین اپنے اپنے گوشہ عافیت میں بیٹھی اپنے اپنے ناخنوں کو پالش لگا رہی تھیں“ جبکہ دوسرے چند لوگ دشنمام طرازی کررہے تھے .... کیونکہ ان سب کی خواہش یہ تھی کہ بقول یو آنے .... کہ وہ سب یہ سننا چاہتے تھے کہ طالبان نے اس پر جنسی حملے کئے ہیں .... انگلینڈ کے ان قلمکاروں اور صحافیوں کو تب اچھا لگتا کہ جب یو آنے کی لاش تابوت میں بند ہو کر آتی تاکہ طالبان کے خلاف سنسنی پھیلائی جاسکتی مگر ایک اجلاس میں یو آنے نے کہا .... ”طالبان نے مجھ سے شریفانہ سلوک کیا .... میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں اگر وہ میرے ناخن کھنیچ ڈالتے ‘ مجھے ٹھنڈے پانی میں ڈبکیاں دیتے یا گرم سلاخوں سے میرا بدن داغتے تو شاید لوگ آج سن کر خوش ہوتے .... یو آنے تو اپنی رہائی کے ڈھائی سال کے بعد یو آنے سے مریم بن گئی .... سارے کے سارے طالبان اچھے بھی نہیں ہیں .... طالبان کے کچھ گروپ مظالم ڈھانے کا کام بھی کرتے رہتے ہیں .... مگر ہماری مریم اور پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ امریکہ میں مظالم کی داستان طالبان کے ان گروپس کی دہشت گردی سے بھی زیادہ ہے .... کم ازکم وہ کسی عورت پر ہاتھ اٹھانا یا اس پر فرد جرم عائد کرکے قیدرکھنا اپنی توہین تو سمجھتے ہیں اور پھر جس طرح اس خطے کے تمام معاملات ہماری افواج اور ہمارے لوگ بہتر سمجھتے ہیں .... اسی طرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی ہمارے ملک کی عدالتوں میں بھی دیکھا جاسکتا تھا مگر ابوغریب جیل میں خواتین پر ظلم وتشد کرنے والے امریکن فوجیوں کی طرح یہ باتیں امریکہ کے اعلی حکام کو سمجھانا دشوار ہے کہ جو پرتشدد کارروائیوں میں طالبان سے چند قدم آگے ہیں .... ہمارے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ جملہ کہا ہے کہ فیصلہ توقعات کے برعکس آیا ہے اور آخری حد تک جائینگے .... مگر دنیا بھر کے سامنے یہ کیسا قانون اور کیسا انصاف ہے ؟ کہ جوایک کمزور عورت پر ظلم ڈھا رہا ہے آج دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں لب بستہ ہیں کہ جو نحیف ونزار ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے اپنی آوازیں بلند نہیں کررہی ہیں .... کبھی کسی نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گمشدہ بچوں کا دکھ محسوس کیا ہے .... ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ماں اور بہن پر کیا گزرتی ہے ان کے لیے ہر روز سورج افسردگی اور غم کی کرنوں میں ایسی روشنی لے کر گزرتا ہوگا کہ جو شام کے اندھیروں کی مایوسی میں کہیں گم ہو جاتی ہے آج وزیراعظم نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے قانونی جنگ بھرپور طریقے سے لڑینگے .... مگر دنیا بھر کے سامنے امریکہ کو طالبان کے ملاعمر اور ان کے معتمد عبداللہ منیر کی مثال دینا پڑے گی کہ جو ایک عورت کی حفاظت کا انتظام کرتے ہیں .... اس کی عزت وعصمت کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں اور پھر ایسا حسن سلوک کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہو جاتی ہے .... وہ ملا عمر اور ان کے رفقاءکا شکریہ ادا کرتی ہے یو آنے پر کتابیں لکھی جاتی ہیں ‘ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی یہ کہے کہ میری عزت اور عصمت کی حفاظت کی گئی ہے .... میرے ساتھ حسن سلوک روا رکھا گیا ہے اور پھر دنیا بھر کی مسلمان بیٹیاں اور بھائی امریکہ کا شکریہ ادا کررہے ہوں کہ انہوں نے ایک مسلمان خاتون کو باعزت اس کے ملک پہنچا دیا .... مگر ایسا ہونہیں سکتا کہ جب ان سے بھرپور لڑائی نہ لڑی جائے گی .... کیونکہ امریکہ اور طالبان میں بڑا فرق ہے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور یو آنے یعنی مریم کو سامنے رکھ کر یہ فرق محسوس کیا جاسکتا ہے !!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں