تازہ ترین:

”اصل میں دونوں ایک ہیں“

فاروق عالم انصاری ـ 8 فروری ، 2010
سلامی ضیائی مارشل لاءکی گود میں پل کر بالغ اور بالغ نظر دکھائی دینے والے میاں نوازشریف لولی لنگڑی جمہوریت کو آمریت سے بہتر قرار دے رہے ہیں۔ یہ ایک سیاست پیشہ لیڈر کی پیشہ ورانہ رائے ہے۔ کیا جمہوریت ایک ایسا عمل ہے جو دوسرے جہان میں اجر کا باعث ہو گا؟ عوام یہ سوال اب مشرف دور اور جمہوری دور کی قیمتوں کا موازنہ کرتے ہوئے سوچنے لگے ہیں۔ ہم ہر لفظ کو اپنی من مرضی کے معنی پہنانے کے عادی ہیں۔ ہمارے رہنما جمہوریت سے مراد یہی لیتے ہیں کہ بھاری بوٹوں اور خاکی وردی والے اقتدار کی شاہراہوں سے پرے ہی رہیں۔ ورنہ مروجہ جمہوری انداز میں وہ اپنی سیاسی جماعتوں تک کو چلانے کو تیار نہیں۔ کارکن بیچارے جھٹ سے بھرے اجلاس میں اپنے جماعتی قائد کو ہر دم یہ اختیار بخشنے کو تیار بیٹھے نظر آتے ہیں کہ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف بولنے والوں کا ضیاءالحق کی قبر پر ”جمہوری خراج تحسین“ یار لوگوں کو ابھی تک بھولا نہیں۔ کیا ہنسی کی بات ہے کہ ہم سیاسی جماعتیں بھی ملوکیت کے انداز پر چلا رہے ہیں۔ عاصمہ جیلانی کے والد ملک غلام جیلانی متحدہ پاکستانی میں قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔ اسمبلی کے فلور پر 62ءکے آئین پر بحث کرتے ہوئے کہنے لگے! جناب صدر ایوب خاں صاحب۔ آپ جمہوری آئین شائن کے بکھیڑوں کو چھوڑیں اور سیدھی طرح اپنی بادشاہت کا اعلان کر ڈالیں۔ آپ ظالم ہوئے تو ہم اسے اپنی تقدیر کا لکھا سمجھیں گے۔ جنگل میں جا ہاتھ اٹھائیں گے کہ یا اللہ ہم اس بادشاہ سلامت کا عہد جیسے تیسے کر کے گزار لیں گے۔ بس ہمیں ولی عہد رحمدل اور عادل عطا کر دیجیو۔ اب جیالے زرداری کی کرپشن کی داستانوں سے بددل بلاول کی بلوغت کے دن گن رہے ہیں۔ راجہ ریاض نے وفاداری کی حد کر دی۔ ان کا بلاول کے قومی اسمبلی پہنچنے میں دیری سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ تھک ہار کر اب انہوں نے قومی اسمبلی کے لئے عمر کی حد کم کرنے کا مطالبہ ہی داغ دیا ہے۔ نجانے میری آنکھوں کے سامنے وہ تصویر کیوں آ گئی جس میں ایرانی امراءشاہ ایران کی ایران سے روانگی پر اس کے پاﺅں گرے پڑے ہوئے تھے۔
کیا کیا مزیدار باتیں سننے میں آ رہی ہیں۔ لوٹی ہوئی دولت ملک واپس لانے کا مطالبہ ان دنوں میاں نوازشریف کو بڑا مرغوب ہے۔ لیکن لوٹی ہوئی دولت سے ان کی مراد صرف زرداری اور چودھریوں کی دولت ہے۔ وہ اس راز سے پردہ اٹھانے کو بھی تیار نہیں کہ وہ سعودی عرب سٹیل ملیں لگانے کے لئے سرمایہ پاکستان سے کیسے لے اڑے۔ پھر انہیں یہ بتاتے ہوئے بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ان کے دونوں بیٹے ”ماشاءاللہ“ بیرون ملک سیٹل ہو چکے ہیں اور خوب کاروبار کر رہے ہیں۔ آصف زرداری‘ میاں نوازشریف کے بیانات کی سنجیدگی سے بخوبی واقف ہیں۔ چودھری برادران اسی میں پھولے نہیں سما رہے کہ وہ ابھی تک ذکر اذکار میں نظر آتے ہیں۔ میاں نوازشریف کا مانسہرہ کے ضمنی انتخاب کا دکھ ابھی تازہ ہے۔ ق لیگ کے کارکن‘ ن لیگ کے کارکنوں سے سوال کرتے ہیں کہ مانسہرہ کے الیکشن میں دوسری پوزیشن والا کون ہے؟ کچھ سوال اتنے خودسر‘ گستاخ اور جاندار ہوتے ہیں کہ انہیں جواب کی چنداں پروا نہیں ہوتی۔ ن لیگ والے شکست سے بڑھ کر ق لیگ سے پیچھے رہ جانے کا غم لئے چپ بیٹھے ہیں
مجھے گفتگو سے بڑھ کر غمِ اذنِ گفتگو ہے
وہی بات پوچھتے ہیں جو نہ کہہ سکوں دوبارہ
دیکھئے اب راولپنڈی‘ لاہور میں کیا چن چڑھتا ہے۔ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔ میاں نوازشریف کی زرداری کی جانب لفظی چاند ماری کو چھوڑیں۔ 29 دسمبر 2007ءکو نوڈیرو بینظیر بھٹو کی آخری رسومات ہو رہی تھیں۔ میاں نوازشریف جاوید ہاشمی سمیت اپنے سبھی ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے۔ اس موقعہ پر زرداری نوازشریف ون ٹو ون ملاقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس ملاقات میں دونوں جانب سے کوئی تیسرا شریک نہیں تھا۔ یہ ملاقات ہماری سیاسی تاریخ میں بڑی اہم ہے۔ دولت کمانے کے بیسیوں گُر جاننے والے دو تاجروں کے مابین سبھی معاملات طے پا گئے۔ نوازشریف نے الیکشن کا بائیکاٹ ختم کر دیا۔ دونوں رہنماﺅں نے اس آدھ گھنٹے کی ملاقات میں طے کر لیا تھا کہ وہ ملکی سیاست میں مل جل کر اپنا کردار ادا کریں گے۔ ایک فریق حکومت کریگا اور دوسرا اپوزیشن کا کردار نبھائے گا۔ کسی تیسرے فریق کو موقعہ نہیں دیا جائے گا۔ یہ اتحاد اسٹیبلشمنٹ اور دیگر سیاسی عناصر کے خلاف ہے۔ لیکن دراصل یہ اتحاد عوام کے خلاف ہے۔ پیپلز پارٹی روٹی کپڑا مکان اور ن لیگ 97ءکی قیمتیں واپس لانے کا نعرہ بھول چکی ہیں۔ یہ ملاقات ملکی سیاست میں بڑے اثرات چھوڑ چکی ہے۔ آئندہ بھی اس ملاقات کے بہت سے ”ثمرات“ دیکھنے کو ملتے رہیں گے۔ دوست وہی جو مشکل گھڑی دوست کے کام آئے۔ پرسوں ترسوں پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کی منظوری کے وقت یہی کچھ دیکھنے کو آیا۔ پیپلز پارٹی کے راجہ ریاض اس بل کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہم زرداری کے کہنے پہ یہ زہر پینے جا رہے ہیں۔ دونوں جانب کے کارکن اپنی اپنی قیادت کے حکم پر آئندہ بھی ایسے زہر پیتے رہیں گے۔ برادرم ڈاکٹر اجمل نیازی زرداری اور نوازشریف میں انیس بیس کا فرق بیان کرتے ہیں۔ بھلا انیس بیس کا فرق بھی کوئی فرق ہے۔ جیالے اور متوالے سمجھیں یا نہ سمجھیں‘ بصیرت اور بصارت رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ زرداری اور نوازشریف‘ اصل میں دونوں ایک ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں