حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان میں ”سروے“ کی اہمیت پر مذاکرہ

علامہ چوہدری اصغر علی کوثر وڑائچ ـ 8 فروری ، 2010
حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان واقع 4‘سی‘ ایل ڈی اے فلیٹس لارنس روڈ نزد چائنہ چوک لاہور میں 6فروری 2010ءکو دو بجے بعد از دوپہر سے چھ بجے شام تک ایک ایسے مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں ”پاکستان کے بارے میں عالمی سروے‘ نتائج اور میڈیا“ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا گیا۔ صدارت کے فرائض ایس ایم ظفر ایڈووکیٹ نے ادا کئے جبکہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ اور گیلپ پاکستان اسلام آباد کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی‘ مقررین میں نوائے وقت کے چیف رپورٹر سلمان غنی‘ ٹیلی ویژن اینکر مبشر لقمان اور سیاسی تجزیہ نگار اشرف شریف شامل تھے۔ حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے روح و رواں نوائے وقت گروپ آف پبلیکیشنز کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی ہی ہیں اور وہ ادارہ جہاں میں میدانِ صحافت میں اترنے والے نوآموز قلم کاروں کی راہنمائی اور تربیت میں معاونت کر رہا ہے وہاں قومی اور بین الاقوامی مسائل کو موضوعِ سخن بنانے کے لئے مذاکرے اور سیمینار بھی کئے جاتے ہیں۔ آج ان ”سرویز“ پر تبادلہ خیالات کے لئے عالی دماغ شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا جو پاکستان کے معاملات‘ رجحانات اور فکری اور مادی تعمیر و ترقی کے بارے میں امریکی اور دیگر بین الاقوامی شہرت رکھنے والے ادارے مرتب کرتے ہیں۔ ابتداً ساونڈ سسٹم مقررین کی معاونت نہیں کر رہا تھا مگر جب ڈیڑھ گھنٹے تک تقاریر ہو چکیں تو اس ادارے کے ایک کارندے نے مائیکرو فون کو ٹھیک کر کے روسٹرم پر رکھا تو خاموش مگر شاکی سامعین کے گوش تک الفاظ و مفاہیم تقاریر پہنچنے لگے۔ اس وقت اعجاز شفیع گیلانی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ ہم اس تقریب میں ذرا تاخیر سے پہنچے تھے لہٰذا رانا ثناءاللہ‘ اشرف شریف اور مبشر لقمان کی تقاریر سماعت نہیں کر سکے تھے مگر اس ادارے کی طرف سے ان کی نقول پریس کو فراہم کر دی گئی تھیں خصوصاً سلیمان غنی نے نہایت محنت سے اپنی تقریر کی تھی جس میں بتایا کہ سروے کا بنیادی مقصد وہ ہوتا ہے کہ کسی معاملے کے بارے میں عوامی رائے کو جانچا اور پرکھا جائے۔ بالادست طبقے تک سروے کے ذریعے معلوم ہو جانے والی رائے کو پہنچایا جائے۔ حکومت اور ریاست کی حکمرانی و کارکردگی کے بار ے میں استوار ہو جانے والے لوگوں کے تصورات و آراءکو سب کے سامنے پیش کر دیا جائے اور ایک مخصوص طبقے کو بھی عوامی رائے سے آگاہ کر دیا جائے مگر مبشر لقمان نے غالباً ”گیلپ پاکستان“ کے بارے میں اپنی کسی رائے کا اظہار کر دیا تھا چنانچہ اس ادارے کے چیئرمین اعجاز شفیع گیلانی نے اپنی تقریر کے دوران مبشر لقمان پر اپنی زبان کا چابک برسانے کا آغاز کیا ہی تھا کہ مبشر لقمان کھسک گئے تاہم اعجاز شفیع نے مبشر کی موجودگی میں ان کے بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا تھا مگر ان کے جانے کے بعد بھی وہ اتنے اکھڑے رہے کہ ہمیں وہ شعر یاد آ گیا:۔
لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
اعجاز شفیع کو موضوع تو بھول ہی گیا آخر سامعین میں سے ایک صاحب نے فرمایا کہ حضرت کچھ کسی سروے کے نتائج اور میڈیا پر اس کے اثرات کے بارے میں بھی کہیئے مگر وہ موضوع پر آنے کے بجائے ڈیڑھ گھنٹے تک اپنی گداز زبان میں سخت الفاظ استعمال کرتے رہے جن کو ایس ایم ظفر نے بھی پوری توجہ سے سنا مگر وہ اپنی تقریر میں سارے معاملے کو سنبھالتے ہوئے‘ فرمایا کہ میں نے ایک طالب علم کی طرح ساری گفتگو سماعت کی ہے کیونکہ اعجاز شفیع نے اپنے آپ کو استاد کہہ دیا تھا‘ انہوں نے اپنی تقریر میں اپنا مکمل دفاع کرنے کی کوشش کی مگر وہ بھی بتا گئے کہ جب بھی سروے ہوتا ہے تو اس میں سائینٹیفک طریق اختیار کیا جاتا ہے اور آج کل ”سروے“ اور ”تھنک ٹینک“ کی بڑی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے مگر اخبار کا کام تو خبر دینا ہوتا ہے اور سروے کو بھی ایک خبر ہی تصور کرنا چاہئے اور اس کا جائزہ لے کر اس کو شائع کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے ایک اخبار یا میڈیا کو چاہئے کہ وہ کسی سروے یا خبر کو عوام تک پہنچاتے ہوئے اپنے قومی مفادات کو ضرور ملحوظ رکھے صحافت میں وہ توانائی موجود ہونا چاہئے کہ وہ ایک خبر کی صداقت کا جائزہ لے سکے۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر جو سروے کئے جاتے ہیں وہ سروے کرنے والوں کے اپنے مقاصد کے علی الرغم مکمل طور پر غلط قرار نہیں دیئے جا سکتے کیونکہ سروے نگاروں کے اپنے لوگ بھی تو وہ سروے ملاحظہ کرتے ہیں تو سروے کرنے والوں کا مقصد اپنے لوگوں کو گمراہ کرنا تو نہیں ہوتا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں