پاکستان بھارت مذاکرات سعی لاحاصل

ـ 8 فروری ، 2010
رانا اعجاز احمد خان ...............
پانی بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ پانی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ جتنا یہ انسانوں کیلئے ضروری ہے اتنا ہی جمادات اور نباتات کےلئے بھی ناگزیر ہے۔ زندگی کی بقا پانی سے جڑی ہوئی ہے۔ آج بھی ایسے علاقے ہے جہاں لوگوں کو پنیے کا پانی کئی کلو میٹر دور سے لانا پڑتا ہے۔ شہری آبادیاں خوش قسمت ہیں جن کو وافر مقدار میں پانی ہر وقت دستیاب ہے۔ اگر کسی وجہ سے دوچار گھنٹے کیلئے پانی کی سپلائی کی معطل ہو جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ ٹی وی چینل اس معاملے کو اس طرح اٹھاتے ہیں جیسے صدی کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو گیا۔ لیکن ہمیں یہ علم نہیں کہ ہم خدا کی بہت بڑی نعمت پانی کو بڑی بے دردی سے ضائع کر رہے ہیں۔ پانی کے اصل قدردان وہ ہیں جو میلوں کا سفر طے کرکے پینے کیلئے بھی جوہڑ سے پانی بھر کر لاتے ہیں اکثر یہ کام خواتین کے ذمے ہے۔ ہم شاور سے جتنا گرم پانی ایک بار نہانے کےلئے استعمال کرتے ہیں۔ پانی کی کمی والے علاقے کے 20 افراد اس سے نہا سکتے ہیں۔ ہمیں پانی کی قدر نہیں۔ انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔سندھ طاس معاہدے کے مطابق راوی‘ ستلج اور بیاس دریا بھارت کے ہاتھ بیچتے ہوئے طے پایا تھا کہ کشمیر سے آنے والے دریاوں سندھ‘ جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کا حق ہو گا۔ راوی ستلج اور بیاس دریاوں کے خشک ہونے سے ان سے سیراب ہونے والے علاقے مکمل طور پر تباہی سے اس لئے محفوظ رہے کہ کشمیر سے آنے والے دریاوں سے لنکس نہریں کھود کر ان علاقوں کو پانی کی فراہمی کی کوشش کی گئی۔ لیکن بھارت کی طرف سے ان دریاوں پر بے شمار ڈیموں کی تعمیر‘ چناب سے پمپس کے ذریعے پانی کی چوری سے بہت کم پانی پاکستان آ رہا ہے جس کی وجہ سے کروڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں متاثر ہو رہی ہیں اور نئی فصلوں کی بوائی میں مشکلات پیش آئیں گی۔ بدقسمتی سے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی وجہ سے یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے جس کے باعث کروڑوں ایکڑ اراضی کو فراہم ہونے والا پانی بغیر استعمال کے سمندر میں جا گرتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔ جس پر بھارت نے جارحانہ اور غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے۔ پانی بند کر کے دراصل بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر دبا¶ بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کی بقا کیلئے بھارت کے قبضہ سے اپنی شہ رگ چھڑانا اب ناگزیر ہو گیا ہے۔ اگر یہ بات اور مذاکرات کے ذریعے ہو جاتے تو فبہا ورنہ کوئی بھی دوسرا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ یکطرفہ طور پر بند کر دیا تھا۔ اب اچانک اسے مذاکرات یاد آگئے۔ جو وہ 62 سال سے مسلسل کرتا اور پاکستان کو چکر دیتا آرہا ہے۔ دو روز قبل بھارت نے پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آ¶ دیکھا نہ تاو۔ صدر سے مشورہ کیا نہ وزیرعظم سے۔ اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے فوراً قبول کر لیا۔ ٹی اے ڈی اے کے شوقین وزارت خارجہ کے حکام نے شیڈول بھی ترتیب دیدیا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک ہی بڑا تنازع مسئلہ کشمیر ہے، باقی چھوٹے موٹے تنازعات ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ یہ خود بخود حل ہو جائیں گے۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بھارت تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں بلکہ اس کے باعث جنوبی ایشیا کا امن بھی دا¶ پر لگا ہوا ہے جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس ہوتے ہیں۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے جو مذاکرات معطل کئے وہ مسئلہ کشمیر پر ہو رہے تھے۔ اب بھارت نے جن مذاکرات کی پیشکش کی ہے عام پاکستانی انہیں معطل شدہ مذاکرات کا تسلسل گردانتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کا بیان بھی اسی روز سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان پر مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کئے۔ مذاکرات کا محور دہشت گردی اور ممبئی حملے ہوں گے۔ بھارت دہشت گردی کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد کو قرار دیتا ہے اور ممبئی حملوں کا الزام پاکستان پر لگاتا ہے اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے۔ ایسے میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کا سوائے پاکستانی سفارتکاروں کے دلی کی سیر اور ٹی اے ڈی اے کے کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان کیلئے یہ مذاکرات لاحاصل سعی ہے۔ ایسے مذاکرات پر لعنت بھیج کر آزادی کشمیر اور اپنے حصے کے پانی کی واگزاری کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں