مثبت رویہ
فضل حسین اعوان ـ 8 فروری ، 2010
سکاٹ لینڈ کی ملکہ میری اپنے دور کی خوبصورت اور حسین و جمیل عورت تھی۔ وہ صرف 6 دن کی تھی کہ 1542 کو والد جیمز 5 کے انتقال پر ملکہ بن گئی۔ میری کی پہلی شادی ہنری 8 کے بیٹے ایڈورڈ سے ہوئی لیکن اس کے ہم وطنوں نے فرانس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کو ترجیح دی۔ اس نے فرانس میں اپنا خوشگوار بچپن گزارہ تھا۔ ایڈورڈ سے علیحدگی اختیار کرکے اس نے فرانس کے تخت کے وارث فرانسس سے شادی کر لی۔ 1559 میں وہ ملکہ فرانس قرار پائی۔ بدقسمتی سے 1560 کو فرانسس چل بسا تو فرانس کی ملکہ بیوگی کا داغ ماتھے پر سجائے سکاٹ لینڈ واپس چلی آئی۔ اس کی غیر موجودگی میں سکاٹ لینڈ پروٹسٹنٹ بن چکا تھا۔ پروٹسٹنٹ‘ کیتھولک خاتون کو اپنی ملکہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ 1565ءمیں میری نے اپنے کزن ہنری سٹاورٹ جو تخت انگلستان کا وارث تھا سے شادی کر لی۔ یہ شادی جلد ہی تلخیوں میں بدل گئی۔ میری کی اپنے سیکرٹری ڈیوڈ ریزیو سے دوستی تھی۔ ہنری اس سے خار کھاتا تھا۔ ایک دن ہنری کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔ جس میں اس کی لاش بھی پائی گئی۔ میری تین ماہ بعد ہنری کے قتل کے سب سے بڑے مشتبہ ارل آف بوتھل کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئی۔ اس پر عوام غضنب ناک ہوئے اور میری سے تخت و تاج چھین لیا گیا۔ میری کو جان بچا کر ملک سے بھاگنا پڑا اور انگلینڈ چلی گئی۔ جہاں اس نے ملکہ الزبتھ اول سے مدد کی درخواست کی۔ ملکہ الزبتھ کو خطرہ تھا کہ اس کے پروٹسٹنٹ ملک میں میری کیتھولک نظریات پھیلائے گی اور انگلینڈ کے تخت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس لئے میری کو قید میں ڈالنے کا حکم دیدیا۔ میری کو اگلے 18 سال قید میں گزارنا پڑے۔ 1586 میں ایک کیتھولک تھامس نے بے ہنگٹن کی طرف سے میری کو لکھے گئے خط برآمد ہوئے جن میں ملکہ الزبتھ کو قتل کرکے میری کو تخت انگلستان پر متمکن کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ جس پر ملکہ میری کا ٹرائل ہوا۔ اسے سزائے موت سنائی گئی اور 8 فروری 1587 کو اس کا سر لہراتے گنڈاسے‘ سے اتار دیا گیا۔ لیکن ایک ہی وار میں نہیں۔ جلاد نے پہلی بار گنڈا سے مشین کے ذریعے اوپر سے پھینکا تو وہ سر کے پچھلے حصے پر گرا دوسرا وار عین گردن پڑا لیکن گردن دھڑ سے الگ نہ ہوئی تو جلاد نے کچھ نسیں تیز دھار چھری سے کاٹیں۔
میری کوئین آف سکاٹ کے آخری الفاظ نہایت اہم اور سبق آموز ہیں۔ اس نے خواہش ظاہر کی کہ اس کے ملازموں کو رہا کر دیا جائے اور سب سے اہم یہ کہ اس نے ملکہ کے حق میں دعا کی ”اے خدا ملکہ الزبتھ کو سلامت رکھنا جو لمبے عرصے تیری خدمت کرتی رہے“ اس کے ساتھ اس نے چرچ اور اپنے بیٹے جیمز کےلئے دعا کی اور سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں اپنے بیٹے کےلئے پیغام چھوڑا کہ وہ بالکل بے گناہ ہے۔ میری کا یہی بیٹا جیمز ملکہ الزبتھ کی موت کے بعد برطانیہ کا بادشاہ بنا۔ میری کی سزائے موت کے بعد ملکہ الزبتھ بڑی افسردہ ہوئی اس کا کہنا تھا کہ اس کے سیکرٹری ڈیوی سن نے حکم عدولی کرتے ہوئے ہدایات کے برعکس ملکہ میری کو سزائے موت سے ہمکنار کرایا۔ جس پر ڈیوی سن کو گرفتار کرکے عقوبت خانے میں پھینک دیا گیا۔ یاد رہے کہ ملکہ الزبتھ کی والدہ اینے بولین کو بھی سزائے موت دی گئی تھی۔ اس وقت الزبتھ کی عمر صرف اڑھائی سال تھی۔
ملکہ میری کی کہانی بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج معاشرے کا عمومی رویہ انتقامی ہے ہمارے ہاں انتقامی سیاست کا دور دورہ ہے سیاسی مخالفت میں ایک گروہ دوسرے کی معمولی تنقید برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ سیاسی مخالفت کو دشمنی کی حد تک لے جاتا ہے۔ جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ملکہ میری جو بے گناہ تھی۔ پھانسی چڑھا دی گئی آخری لمحے بھی اس نے اپنی سب سے بڑی دشمن کے حق میں دعا کی۔ اگر ہمارے سیاستدان ملکہ میری جیسا مثبت رویہ اپنا لیں تو قومی سیاست میں درخشاں روایت قائم ہو سکتی ہے اور ارض پاک جنت نظر بن جائے گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں