عدم استحکام کے طوفان کی آنکھ
کرنل (ر) اکرام اللہ ـ 8 فروری ، 2010
کراچی میں سیدنا امام حسینؓ کے چالیسویں کے موقع پر عزاداروں پر ایک ایسی قیامت صغری برپا ہوئی جس نے کربلا کے عظیم سانحہ کی یاد یوں تازہ کردی کہ عین اسی وقت کربلا میں بھی عزاداروں کے ایک بڑے جلوس پر دہشت گردوں نے کراچی سے ملتا جلتا حملہ کیا۔
دونوں حملوں میں حیرت انگیز وحشیانہ مماثلت پائی جاتی ہے جو ہرگز اتفاقیہ قرار نہیں دی جا سکتی بلکہ اس کے پیچھے عالمی سطح پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کو مزید استحکام بنانے کے اشارے ملتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ دہشت گردی کے ان دونوں واقعات کےلئے امام حسینؓ کے چالیسویں پر عزاداروں کے جلوسوں کا انتخاب کیا گیا۔ کراچی میں بھی یکے بعد دیگرے دو گھنٹوں کے اندر دو دھماکے ہوئے اور کربلائے معلے میں یہی خوفناک کھیل کھیلا گیا۔ دونوں دھماکوں میں دونوں شہروں میں ایک جیسا مواد استعمال کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں پاکستان اور مشرق وسطی میں عراق کے اندر کربلا کا انتخاب ایک ہی ماسٹر مائنڈ نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تیار کیا ہے۔
عراق میں جہاں عالم اسلام کا ایک روحانی وابستگی کا مرکز اور امام حسینؓ کی مقدس مدفن واقع ہے اور جہاں زمین کی سطح کے نیچے تیل کا سمندر بہتا ہے اس کو دنیا میں تباہی مچانے والے انتہائی خطرناک ہتھیاروں کا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے اپنا اس ظاہری مقصد کے تحت نشانہ ستم بنایا کہ ایک ڈکٹیٹر کی حکومت سے نجات دلا کر وہاں سلطانی جمہور کا پرچم لہرایا جائے گا۔ لیکن تمام دنیاوی اور فوجی وسائل کے باوجود دنیا کی سپر طاقت اور ا س کے اتحادیوں کو عراق میں عبرتناک شکست ہوئی اور عہد عراق کو اپنی گردن میں ایک مقامی ڈکٹیٹر کی غلامی کے بعد غیر ملکی آقاﺅں کی غلامی قبول نہ کرنے پر اس جرم کی سزا ملنا ضروری تھا جس کےلئے کربلاءمیں ہونے والے حالیہ دھماکے کسی عالمی سٹریٹجی کی ایک کڑی ہے۔ جہاں شیعہ اور سنی آبادی کو آپس میں خانہ جنگی کی حالت میں رکھنا ضروری ہے تاکہ عالم اسلام میں کسی قسم کا اتحاد اسرائیل کےلئے خطرے کا باعث نہ بن سکے۔ اسرائیل کی بالادستی کےلئے یہ بھی ضروری ہے کہ عالم اسلام کی واحد نیوکلئیر طاقت پاکستان علاقے میں ایک مضبوط قوت بن کر نہ ابھرنے پائے۔
گزشتہ کئی برسوں سے کسی نہ کسی بہانے کراچی کا شہر پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شہر اور واحد بندرگاہ ہونے کے ناطے ایک سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ کراچی پاکستان کی عظیم مملکت کےلئے کونے کی ایک ایسی نازک اینٹ ہے کہ اس کے غیر مستحکم ہونے سے فاﺅنڈیشن کا تمام ڈھانچہ غیر مستحکم ہو جاتا ہے جس کے بعد بلوچستان اور صوبہ سرحد میں حالات ابتری کی طرف جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ میرے منہ میں خاک اگر ایسے امکانات کے خدشات جنم لینے لگے تو پھر پاکستان کا جغرافیہ صرف پنجاب تک محدود کر دینے کی عالمی سازشوں میں پاکستان کی اندر بھی کئی پردہ نشین اپنی دو اینٹ کی مسجد بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان عناصر کو بیرون ملک سے بھی دام دم سخن شہر ملتی رہتی ہے۔ کراچی کے تازہ ترین دھماکے خاکسار اس نتاظر کا ایک شاخسانہ تصور کرتا ہے۔ لیکن پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت ان سٹریٹجک خطرات سے بے خبر یا لاپرواہ ہو کر روم کے شہنشاہ Nero کی طرح حصول اقتدار کی خواہشات میں ڈوبے ہوئے بانسری بجا رہے ہیں جب کہ روم Nero کی آنکھوں کے سامنے جل رہا تھا۔ میرے تجزیے کے مطابق روشنیوں کا شہر کراچی آج ایک ایسے بارود کے پہاڑ کی مانند ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں بن کر پاکستان کی قومی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ پاکستان کی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے علاوہ اس خاکسار کی مملکت خداد کے تمام حب وطن پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنے تمام اندرونی اختلافات ختم کرنے کےلئے آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کےلئے خداداد قائداعظم محمد علی جناح کی کاوشوں اور لاکھوں انسانوں کی قربانیوں سے وجود میں آنے والے پاکستان کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں