تازہ ترین:

جنگ کے آثار

پروفیسر سید اسراربخاری ـ 8 فروری ، 2010
جب بنیادی مسائل پر مذاکرات ایک مذاق بن کر ناکام ہو جائیں تو جنگ کے امکانات واضع ہو جاتے ہیں اگرچہ امریکہ نے اپنی پالیسیوں سے پوری دنیا کو جنگ سے قریب تر کر دیا ہے لیکن جو تنازعات پاکستان اور بھارت کے درمیان 62سال سے لاینحل ہیں وہ جنگ کے آثار کو واضع کر رہے ہیں۔ بھارت نے اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کے ساتھ عملی طور پر ایک ایسا رویہ اختیار کر لیا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان خونریز جنگ ہو سکتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور پانی کا مسئلہ پاکستان کے لئے ایک ایسا روگ بن چکا ہے جس کا تدارک کئے بغیر پاکستان کی زندگی خطرے میں ہے۔ یوں لگتا ہے بھارت پے در پے زیادتیاں کر کے حالات کو حالت جنگ کی طرف لے جا رہا ہے خصوصاً جب سے امریکی اور اسرائیلی اثرو نفوذ پاکستان میں بڑھا ہے بھارت کے مزاج میں پاکستان کے خلاف نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوئیں ہیں اور جیسے اس کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ پاکستان کو توڑ سکتا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان کا کمزور رویہ امریکی دباو کے زیر اثر بھارت کو مزید شہہ دے رہا ہے۔ بھارت پاکستان پر زندگی کو تنگ کر رہا ہے اور اس کی ایجنسیاں پاکستان میں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ امریکہ اس صورت حال پر نہ صرف خاموش ہے بلکہ وہ اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ذریعے غیر اہم بنا رہا ہے پاکستان کی سفارت کاری اور امور خارجہ اس قدر کمزور ہیں کہ وہ دنیا کو یہ باور نہیں کرا سکے کہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ کے پوری دنیا پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں بیرونی دنیا صرف اتنا جانتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے کچھ مسائل ہیں جنہیں وہ مذاکرات سے حل کر لیں گے جبکہ دنیا کو یہ بتانا ضروری ہے کہ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں بلکہ ان کا ہدف سوائے تاخیری حربوں کے اور کچھ بھی نہیں اگر ان ملکوں کی آپس میں جنگ ہوتی ہے تو اس میں پاکستان کی صورتِ حال تنگ آمد بجنگ آمد کی سی ہو گی۔ بھارت نے پاکستانی دریاوں پر 62ڈیم بنا کر تقریباً پاکستان کا پانی بند کر دیا ہے۔ پاکستان کو اپنی زندگی کی بقا کےلئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہو گا بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ مذاکرات اک مذاق رات کے سوا اب کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور بھارت اپنی بالادستی میں روز بروز اضافہ کرتا جا رہا ہے مشرقی سرحدوں پر اور خصوصاً کنٹرول لائین پر بھارتی کارروائیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس کے ارادے اچھے نہیں ہیں اگر صورت حالات یہی رہی تو جنگ کے شعلے کسی وقت بھی بھڑک سکتے ہیں۔ بھارت شاید یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ پاکستان کے حالات اس پر حملے کےلئے سازگار ہیں۔ پاکستان جب تک ہندو کو یہ باور نہیں کرائے گا کہ وہ اپنی بقا کےلئے انتہائی اقدام کر سکتا ہے جو کہ اس کی مجبوری بھی ہے ہندو بنیاوں کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آئے گی اس وقت امریکہ کا اس خطے میں موجود ہونا وہی صورت حال ہے جو کبھی انٹرپرائز کے زمانے میں تھی ہمیں یہ بات تسلیم کرنا ہو گی کہ امریکہ ہمیں بھارت کی آسانی کےلئے کمزور کر رہا ہے اس لئے اب پاکستان کو اپنا رخ بدلنا ہو گا اور بالادستی قائم کرنے کا جواب ترکی با ترکی دینا ہو گا بصورت دیگر بھارت پاکستان کو اس قدر لاچار بنا دے گا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے پاس روایتی ہتھیار بہت کم ہیں ایسی صورت میں سوائے ایٹمی جنگ کے کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا پاکستان کو سفارت کاری انتہائی تیز کرنا ہو گی اور ہمسایہ ممالک سمیت پوری دنیا کو اصل صورت حال سے آگاہ کرنا ہو گا یہ تسلیم کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کرنی چاہئے کہ بھارتی سفارت کاری اس وقت پاکستان کے خلاف عروج پر ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ہماری وزارت خارجہ سمیت ہماری سفارت کاری صرف ”Fill in the blank“ ہے۔ ہماری عسکری قوت کو بھی امریکہ نے Engageکر رکھا ہے اور اس کا یہ کہنا آپ مشرقی سرحدوں سے اپنی فوج واپس بلا لیں بھارت کی واضع حمایت ہے خدا نہ کرے کہ حالات جنگ تک پہنچیں مگر ہندو بنیا کو یہ یقین دلانا چاہئے کہ ہماری ایٹمی قوت کوئی شو پیس نہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں