امن کی آشا اور بھارت کی بھاشا
ـ 8 فروری ، 2010
سید محمد حبیب عرفانی ...........
جنگ گروپ اور ٹائمز آف انڈیا نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جاری تناﺅ کو کم کرنے کے لیے دونوں اطراف میں کوششوں کا آغاز امن کی آشا کے نام سے کیا ہے۔ جس میں دونوں اطراف میں عوام کی کثیر تعداد یعنی پاکستان میں تقریباً تین چوتھائی اور ہندوستان میں دو تہائی لوگوں نے دونوں ملکوں میں امن قائم کرنے کے حتمی نہیں فیصلہ دیا۔ بقول ان اداروں کے دونوں ملکوں کے ان دو بڑے نیوز پیپرز نیٹ ورک نے امن کے لیے بنیادی مسائل جو دونوں ممالک کے درمیان ترجیحی نوعیت کے ہیں بآسانی اور فوری حل کئے جاسکتے ہیں، ان میں باہمی تجارت اور کاروبار، سرمایہ کاری، مالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ثقافتی وفود کے تبادلے، مذہبی اور طبی سیاحت کا تبادلہ تجارت کا آزادانہ سفر، ویزوں کا اجرائ، کھیلوں کے شعبے میں تعاون، موجودہ تجارتی راستوں کی نظرثانی، مارکیٹ سے الحاق، منقسم خاندانوں کا مسئلہ، قیدیوں کے مسائل اور قیام امن کے لیے ابتدائی ایجنڈا ہو سکتے ہیں۔
امن و سلامتی کا گلی محلے میں یا ملکوں کے درمیان ہونا وہاں کے رہنے والوں اور ہمسایوں و قریبی لوگوں کے لیے بہت ہی خوش کن اور خوبصورت بات ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے اور مختلف ممالک کے درمیان امن خراب ہونے کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں ان میں سرفہرست جب کوئی اپنے آپ کو بڑا جاننے یا سمجھنے لگ جائے اور ہمسایوں اور دوسرے لوگوں کے حقوق ادا کرنے سے نہ صرف انکاری ہو بلکہ ضد، ہٹ دھرمی اور بدمعاشی سے دوسروں کا استحصال کرنے لگے یا اس کی کوشش کرے جس سے دلوں میں نفرتیں، کدورتیں، بغض اور عناد جنم لیتے ہیں اور ایسی کیفیتیں جب ملکوں کے درمیانی ہوں تو یہ جنگوں کا پیش خیمہ یا امن کی تباہی کا راستہ بنتی ہیں۔
پاکستان و ہندوستان کے درمیان بھی اس طرح کے معاملات پچھلے باسٹھ سالوں سے چلے آرہے ہیں تاریخی طور پر اگر دیکھیں تو ہندوستان کی تقسیم سے قبل ایک ایٹمی پلانٹ انڈیا میں لگ چکا تھا جبکہ ایک ایٹمی پلانٹ بمبئی کی بندرگاہ پر موجود تھا جو پاکستان میں ہری پور کے علاقہ میں تجویز کیا گیا تھا پاکستان بننے کے بعد ہندوستان نے روک دیا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور جب پاکستانی افواج نے ہندوستانی قبضہ چھڑوانے کے لیے اقدامات کئے تو بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے کی یقین دہانیاں کروائیں۔ مگر وہ مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ملک تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔
امن کی آشا کے ایجنڈے میں جتنے موضوعات کو address کیا گیا ہے وہ تمام ہندوستانی favour کے ہیں جب کہ ان میں ایک بھی پوائنٹ ایسا نہیں جو پاکستان کی حمایت کا ہو یا اس سے پاکستان کی بہتری کا کوئی پہلو نکلتا ہو مثلاً سب سے پہلا نکتہ باہمی تجارت اور کاروبار کا ہے اگر ہم مشرف دور کو دیکھیں جس میں تقریباً انہی نکات کو لے کر تعلقات کو بہتر ہونے کی امید کی گئی۔ تجارت جو اس امن کی آشا کا سب سے پہلا نکتہ جو پچھلے دور میں بھی سب سے پہلا نکتہ تھا۔ دونوں ممالک میں تجارت کا توازن بھارت کے حق میں ہے۔ ماضی میں پاکستان نے ہر بھارتی شے کو پاکستان میں لانے کی اجازت دی جبکہ بھارت نے پاکستان سے درآمد میں ہمیشہ روڑے اٹکائے۔ ثقافتی وفود کے تبادلوں میں جو پچھلا تجربہ رہا اس میں ہندوستانی فلمیں تو پاکستانی سینماﺅں میں مسلسل نمایش پذیر ہیں۔ جبکہ کوئی بھی پاکستانی فلم کسی بھی ہندوستانی امپورٹر نے منگوانے کی کبھی جرات ہی نہیں کی۔ کیونکہ ہندوستان میں وشواہندو پریشاد، بال ٹھاکرے اور دوسرے کئی پاکستان دشمن تنظیمیں کبھی بھی ان فلموں یا ڈراموں کو ہندوستان میں نمایش کی اجازت نہ دیتے۔
حکومت کے مابین تعلقات کی بہتری اس وقت تک پایا تکمیل کو نہیں پہنچ سکتی جب تک دونوں ملکوں کے عوام بھی ایک دوسرے کی آزادی و خود مختاری اور عزت نفس کو مکمل طور سے تسلیم نہ کریں۔ ہندوستانی عوام پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں سوچ اور خیالات کے پچھلے چند مواقع پر جو تجربات ہوئے وہ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جنوری 2006ءمیں حج کے موقع پر مدینہ منورہ میں ایک ہندوستانی حاجی سے علیک سلیک ہوئی تو اس کا پہلا سوال یہ تھا کہ آپ کے حج کے لیے کتنے پیسے خرچ ہوئے۔ اس سال پاکستان سے حج کا خرچہ ایک لاکھ پانچ ہزار روپے تھا۔ یہ بتانے پر ان صاحب نے فوراً اپنی حکومت کی تعریف شروع کی کہ ہندوستانی حکومت مسلمانوں کو Subsides حج کرواتی ہے جو کہ بانوے ہزار ہے اور پاکستانی حکومت اس میں منافع کماتی ہے۔ جب ان صاحب کو تجزیہ کر کے بتایا کہ پاکستانی روپیہ کی ویلیو کے حساب سے ان کا حج ایک لاکھ انتیس ہزار روپے میں ہے تو وہ بہت جز بز ہوئے۔ یہ تجربہ دسمبر 2006ءاور دسمبر 2007ءمیں بھی ہوا۔ اس کے ساتھ ہی اجمیر سے دہلی تک ٹرین کے سفر میں دو سکھوں نے یہ معلوم ہونے پر ہم تین پاکستانی بھی سفر کر رہے ہیں تو ان سکھوں نے باقاعدہ پاکستانیوں کو گالی دی۔ جس ملک میں عوام کے جذبات پاکستان کے بارے میں اس طرح کے ہوں جن میں یقینا انڈین میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ انڈین میڈیا کوئی معمولی سے معمولی بات یا واقعہ جس سے پاکستانی دشمنی کا پہلو نکلتا ہو اس کو اچھالنے کا موقع ضائع نہیں کرتا۔ جبکہ ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اس طرح کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ بمبئی میں تاج محل کاواقعہ ہی لیا جائے تو اس واقعہ کے تھوڑی ہی دیر بعد پورا ہندوستانی میڈیا چاچا عبدالرحمن نامی پاکستانی اس کی کراچی کی رہائش کا پورا پتہ بار بار رٹ رہا تھا جبکہ اس پتے کا کراچی میں کوئی وجود ثابت نہ ہوا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں