فوج۔ جمہوریت

فضل حسین اعوان ـ 7 جولائی ، 2010
فوجی طاقت سے جو ممالک وجود میں آتے ہیں ان میں بھی فوج کو حکمرانی کا اختیار اور حق نہیں ہوتا۔قیامِ پاکستان میں تو فوج کا قطعاً کوئی کردار نہیں رہا۔ البتہ چند مہم جو قسم کے جرنیلوں کی اقتدار کی حوس اور نا اہلی سے قائداعظم کا پاکستان ٹوٹ ضرورگیا۔قیامِ پاکستان کے بعد 62 سال میں آدھا سے زائدعرصہ جرنیلوں نے بندوق کے زور پر حکومتیں الٹا کر حکمرانی کی۔
آج صدر وزیراعظم اور دیگر بہت سے سیاستدان اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہنے کا سبق دے رہے ہیں۔ اور اسی ہدایت اور مشورے پر خود کاربند نظر نہیں آتے۔ معاملات واقعتا ہر ادارے کے اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے ہی احسن طریقے سے چل سکتے ہیں۔ہر ادارے کا دائرہ آئین میں مقرر کردیا گیا ہے۔ مقتدر حلقے اپنا دائرہ اختیار لا محدود، عدلیہ اور فوج سمیت دیگر کو طوطے کے پنجرے میں دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ کہاجاتا ہے عدلیہ کے پاس یہ اختیار نہیں، وہ اختیار نہیں۔ سوئس کیسز کی دستاویزات تک رسائی ہماری لاشوں سے گزر کر ہوگی، عدلیہ دیکھ لے ہم کیسے جیتے ہیں۔ عوام دستیوں کو لانا چاہتے ہیں تو تم کیا کر لوگے....گویا آج عدلیہ کے ساتھ یکطرفہ محاذ گرم کردیا گیا ہے۔فوج کے ساتھ محاذ آرائی بظاہر نظر نہیں آتی۔ لیکن اندر سے اب بھی فوج میں سیاسی عمل دخل کی کوشش کی جارہی ہے۔کیری لوگر بل میں فوج کی ترقیوں کا اختیار حکومت کو سونپنے کی شق بھی شامل ہے۔ جو مبینہ طورپر امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر حُسین حقانی نے اپنے رسوخ سے بل میں شامل کرائی تھی۔جسے فوج نے مسترد کردیا ۔ آئی ایس آئی کوبھی حکومت نے وزارتِ داخلہ کے تحت لانے کا نوٹیفکیشن جاری کرکے واپس لے لیا تھا۔ ایک دور میں بیرونِ ملک اخبارات میں ROGUE---ARMY کے اشتہارات بھی شائع کرائے گئے۔ جہاں حکومتوں اور حکمرانوں کو پاک فوج کی تضحیک اور تذلیل کا کوئی حق نہیں وہیں فوج سمیت کسی بھی ادارے کو اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے حکومتی اور سیاسی معاملات میں بھی مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔ حکومت، جمہوریت، فوج، عدلیہ اور دیگر ادارے اسی صورت مضبوط ہوسکتے اور رہ سکتے ہیں، جب سب آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ ایک دوسرے کونیچا دکھانے سے گریز کریں۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے دشمن ظالم اور ذلیل ہے اس کے مقابلے کیلئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔
سیاسی معاملات میں ہر دور میں جرنیلوں کی مداخلت رہی ہے۔اس کی وجہ کمزور جمہوریت اور سیاسی قوتوں کا اپنے مفادات کیلئے طالع آزمائی کے خواہش مند جرنیلوں کے منقارِز پر آنا تھا۔ مضبوط جمہوریتوں، مضبوط سیاسی اداروں اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی مضبوط سیاسی شخصیات کے حامل ممالک میں معاملات یوں نہیں بگڑتے جیسے ہمارے ہاں بگڑتے رہتے ہیں۔سیاسی شخصیات کو مضبوط ان کے ملک کا آئین اور قانون ہی بناتا ہے۔ بشرطِ کہ یہ شخصیات اپنے ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر قومی و ملکی مفادات کو ترجیح دیں۔
جنگِ عظیم دوم کا امریکی ہیرو جنرل میک آرتھر، جس نے جاپانیوں سے ہتھیار ڈلوائے، جنگ کوریا میں اقوامِ متحدہ کے دستوں کی کمان کی۔ میک آرتھر چین کی کوریا میں مداخلت روکنے کیلئے جاپان کی طرح چین پر بھی ایٹم بم پھینکنا چاہتا تھا۔اس نے صدر ٹرومین کی پالیسیوں پر تنقید کی اور چین کو اپنی طرف سے الٹی میٹم دیدیا کہ وہ کوریا سے فوجیں نکالے یا حملے کیلئے تیار رہے۔ صدر ہیری ٹرومین نے سیاسی معاملات میں مداخلت پر جنرل میک آرتھر کو کمان سے فارغ کردیا تھا۔جنرل میکرنن نے افغانستان میں اتحادی فوجوں کے کمانڈر کی حیثیت سے بیان دیا کہ افغان وار فوجی طاقت سے نہیں جیتی جا سکتی۔ عوام کے دل جیتنے کی ضرورت ہے۔ اس بیان کے بعد ان کوبھی 11مئی2009ءکو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ میکرسٹل کولایا گیا تھا۔ میک کرسٹل کی برطرفی تازہ معاملہ ہے ان کو بھی سیاسی معاملات میں مداخلت اور سیاسی و عسکری قیادت کی تضحیک پرعہدے سے ہٹایا گیا۔1996 میں بنگلہ دیشی آرمی چیف جنرل ابو صالح نسیم کو صدر کے احکامات نہ ماننے پر گرفتار کرکے ان کا کورٹ مارشل کردیا گیا تھا۔ انڈین نیول چیف ایڈمرل وشنوبگھ وت سنگھ نے حکومت کی طرف سے وائس ایڈمرل ہریندر سنگھ کو ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف مقرر کرنے پر احتجاج کیا اور فیصلہ ماننے سے انکار کردیا جس پر 30 دسمبر 1998 کو بگھ وت سنگھ کو برطرف کردیا گیا۔ اب بھارتی عدالت نے آرمی چیف کو بھی ایک کیس میں طلب کرلیا ہے۔
جن ممالک میں جرنیلوں کی سبکدوشی ہوئی وہاں جمہوریت کا بال تک بیکا نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں معمولی رنجش اور بہانہ ملتے ہی جمہوریت کا تیا پانچا کردیاجاتا ہے۔ اس کی بڑی اور واحد وجہ،سیاستدانوں کے مابین اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار، آپس کی دشمنیاں اور کچھ راندہ درگاہ سیاستدانوں کی طرف سے چور دروازے سے اقتدار کی دیوی کے چرنوں میں سجدہ ریز ہونے کی بے پایاں خواہش ہے جو جمہوریت کو مضبوط نہیں ہونے دیتی۔ آج بد قسمتی سے ملک بہت سے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔حکمرانوں نے مصالحت اور مفاہمت کے بجائے کئی اداروں کے ساتھ محاذ کھولے ہوئے ہیں آج پھر کچھ حلقے فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست دان اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ مل کر اعلانیہ عہد کریں وہ فوج کا آلہ کار نہیں بنیں گے جس سے جمہوریت ختم ہوجائے۔ حکمران معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائیں تو آمریت کے تسلط کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔(ختم شد)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں