عسکریت پسندوں سے نمٹنے کا دانشمندانہ طریقہ

Different ـ 7 جولائی ، 2009
تحریر:عمران خان
عسکریت پسندی اور طالبان کا ایشو حال ہی میں اس طرح پیش کیا گیا کہ "جو ہمارے ساتھ ہیں یامخالف" کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے جس سے مفہوم یہ نکلتا ہے کہ یا تو کوئی سوات اور فاٹا میںفوجی آپریشن کا حامی ہے یا طالبان کا طرفدار ہے۔ جس طرح "بش جوائس " نے مسلم دنیا میں ابتری پیدا کی، انتشار اور انتہاء پسندی کو فروغ دیا اسی طرح پاکستانی متبادل ، نے بھی اصل ایشوسے توجہ ہٹا کر نت نئے مسائل کو جنم دیا ۔ جہاں تک عسکریت پسندی سے نمٹنے کاتعلق ہے اس بارے پاکستان میں مکمل اتفاق رائے موجود ہے کہ اسے کچل کر ریاست کی رٹ قائم ہونی چاہئے۔ اگر اختلافات ہے تو اس بات پر ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لئے کونسا طریقہ اپنایاجائے۔ کیا عسکریت پسندی اور محاربت کی بنیادی وجوہ جاننے کو کوشش کی جانی چاہئے اور پھر اس مسئلہ کے حل کے لئے حکمت عملی اپنائی جائے جس میں مذاکرات کا عمل بھی شامل ہو، نیز ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جو پچھڑے ہوئے اور محروم طبقات کے دکھوں کا مداوا کریں اور عوام کو نظام میںحصہ دار بنائیں ؟ یا اس مسئلہ کے حل کے لئے بلاامتیاز فوجی آپریشن پر تکیہ کیاجائے اور بنیادی وجوہ کو دور نہ کیا جائے ، یہ یقینا تباہی کا راستہ ہے۔
امریکہ میںپاکستانی کمیونٹی کی طر ف سے شوکت خانم ہسپتال کے لئے چندہ جمع کرنے کی مہم کے ضمن میںبلائی گئی میٹنگز میںسینیٹر جان کیری اور کانگریس کے رکن گیری ایکمن سے حال ہی میں میری ملاقات ہوئی جو ہمارے خطے کے حوالے سے اہم شخصیات ہیں اور وہاں اثرو رسوخ رکھتی ہیں۔ مجھے اس بات پر حیرانی ہوئی کہ وہ دونوں موجودہ افغان پالیسی سے مطمئن نہ تھے اور اس پالیسی پر نظرثانی کے لئے آمادہ نظر آئے۔ انہیں اس امر کا احساس ہے کہ بش کی فوج کشی کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور اب نئے آپشنزپر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ حوصلہ افزا بات ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ کے وہ عناصر جو اس خطے کے بارے میں ایک قابل عمل متبادل حل تلاش کرنا چاہتے ہیں اور ان میں اوباما ایڈمنسٹریشن کے ہم خیال ممبران بھی شامل ہیں ان سے رابطوں کاسلسلہ بڑھایا جائے ۔ اس ضمن میں مذاکرات کاعمل ماہرین پر مشتمل وفد بھیج کر شروع کیا جاسکتا ہے۔ جنہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان بارے فہم اور ادراک ہے۔ ایک تجزیہ نگار کے مطابق مقامی پاکستانی انفارمرزنہ ہوں کیونکہ وہ تو وہی باتیں کریںگے جو امریکی سنناچاہیںگے۔ میںسمجھتا ہوں کہ افغانستان سے امریکیوں کے انخلاء بارے حکمت عملی کے حق میںمضبوط دلائل پیش کئے جا سکتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اوبامہ ایڈمنسٹریشن کی توجہ ذیل میں درج نکات کی طر ف مبذول کرائی جا سکتی ہے۔
افغانستان پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے امریکہ 60 بلین ڈالر خر چ کر رہا ہے اور جیسے جیسے عسکریت پسندوں کی کاروائیوں میںاضافہ ہوگا امریکی فوج میں اضافہ ہوگا اور اخراجات بڑھتے چلے جائیںگے کیونکہ محض زیادہ فوجی بھیجنے سے حالات میںتبدیلی ممکن نظر نہیں آتی۔ پچھلے آٹھ برسوں کے تجربے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جس قدر جنگ طوالت اختیار کرے گی انتہاء پسندوں کے اقتدار میں آنے کے امکانات زیادہ ہوںگے، نیز مسلم نوجوانوں میں انتہاء پسندی کے رجحانات میں اضافہ کا باعث بنے گی۔پچھلے چند برسوں سے افغانستان میںصورتحال طالبان کے حق میں جا رہی ہے جبکہ نیٹو اور امریکی فوجوں کے خلاف گئی ہے ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان میںتمام جماعتوں اور گروپوں کو ایک میز پر بٹھا کر ایک اتفاق رائے کی حکومت بنائی جائے اس سے قبل کہ صورتحال مزید خراب ہوجائے۔ پاکستان اس سلسلے میں ممدومعاون کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حکومت کویہ احساس کیوں نہیں کہ ایک نئی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ موجودہ پالیسی طرز عمل کو تو پاگل پن ہی قرار دیا جاسکتاہے۔ آئن سٹائن نے اس کی تعریف یوں بتائی ہے کہ ایک چیز یا عمل کو بار بار دہرایا جائے اور اس سے ایک مختلف نتیجہ کی امید کی جائے تویہ ممکن نہیں ۔ بہرکیف اس سوال کا سیدھا اورسادہ جواب یہ ہے کہ پاکستان کی قیادت پاکستانیوں کے خون کے ضیاع(فوج اور بے گناہ شہریوں )کی پالیسی کو جاری و ساری رکھنے پر تلی ہوئی ہے ، اس کا مطمع نظر صرف ڈالر اور امریکی حمایت ہے ۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ خراب حکمرانی اور بدعنوانی ، کرپشن (جو پچھلے تین برسوں میں چار سو فیصد بڑھ چکی ہے)، نیز اپنی نااہلی کوچھپانے کے لئے اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سہارا لے رکھا ہے۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں