عوام آئندہ انتخابات میں کس کو ووٹ دیں گے؟
ـ 7 فروری ، 2012
پروفیسرسیداسرار بخاری
پاکستان بھی یہی، اس کے لوگ بھی یہی، سیاستدان بھی یہی، اب تک جتنی بھی حکومتیں قائم ہوئیں تمام اچھائی سے برائی کی جانب رواں رہیں۔ یہ سفر اتنے ذوق شوق سے جاری رہا کہ آج اگرچہ ایک جمہوری حکومت کا دور چل رہا ہے لیکن بدقسمتی سے جمہوریت سے سائبان کا کام لیا گیا ہے اور اپنے لئے حکمرانوں نے چھاﺅں کا بندوبست کیا جبکہ عوام مسائل کی کڑکتی دھوپ میں جھلس رہے ہیں اور اب آخری دنوں میں تو وہ گویا جل رہے ہیں۔ لوگوں کو اپنی معمول کی سادہ سی زندگی گزارنے کے حوالے سے اس قابل ہی نہیں چھوڑا گیا کہ وہ کسی بھی پارٹی، سیاستدان اور لیڈر پر پورا اعتماد کر سکیں۔ اب اس حکومت کی مدت تو قریب الاختتام ہے لوگ چار سالوں میں پکی فصل کی مانند اتنے گاہ دئیے گئے ہیں کہ دانے حکمران لے گئے ہیں اور بھوسہ عوام الناس کے لئے چھوڑ دیا گیا۔ اس حکومت نے بیڈ گورننس کو اس کے عروج تک پہنچایا اور یوں وہ چال بے ڈھبی جو شروع ہوئی تھی بندہ مفلوج کی طرح لڑکھڑانے لگی مگر حکمرانوں نے اس بیڈ گورننس سے اتنا ناجائز فائدہ اٹھایا کہ گویا حکمران خود ہی عوام بن گئے اور اپنے لئے وہ کچھ کیا کہ ان کی زندگی جنت اور لوگوں کے دن جہنم بن گئے۔ اب ان حالات میں جبکہ ہر شخص ہر جماعت سے راضی نہیں، اکثر آزمائے ہوئے ہیں اور جو پارٹی نہیں آزمائی گئی اس میں بھی آزمائے ہوئے سیاستدانوں کا ایک جمِ غفیر شامل ہو گیا ہے اور حالت یہ ہے
ابھی تک آدمی صید زبونِ شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے
کہئے سارا چھابا آپ کے سامنے ہے، اب اس میں سے آپ کیا کیا چنیں گے اور کیا کیا رد کریں گے۔ سچ تلخ ہے مگر سچ ہے کہ ان گلی سڑی چیزوں میں کس کو چنیں گے جو اجڑے چمن میں بہار لے آئے۔ مشکل یہ ہے کہ ہم کسی ایک کی جانب اشارہ کرنے کے قابل نہیں اور صورت یہ ہے کہ
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے
تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
اب اس ”تو“ کو کہاں ڈھونڈیں، جس کی تلاش میں ساری قوم ہے۔ البتہ ایک دنیوی انسانی فارمولا ہے کہ کم برے کو چن کر اسے سیدھی راہ پر ڈالا جائے اور قوم مجموعی طور پر اسے ان پالیسیوں پر چلائے جو نظریہ پاکستان، خود مختاری، آزادی اور گڈ گورننس پر مبنی ہوں وگرنہ اسے چن کر چن دیا جائے کہ اب اس کے سوا چارہ نہیں رہا۔ ہماری 80 فیصد آبادی دیہاتوں میں آباد ہے اور اس کی اکثریت چودھریوں، وڈیروں، سرداروں، جاگیرداروں کے تابع ہے جو ان سے ووٹ حاصل کرکے بدحالی و محرومی کے حوالے کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر کسی گاﺅں کا چودھری یا وڈیرہ اپنے گاﺅں ہی کو سنبھال لیتا اور فنڈز کو اپنی ذات کے بجائے اپنے علاقے ہی کو ماڈل گاﺅں بنا دیتا تو بھی یہ ملک آگے بڑھتا لیکن آگے تو کرپشن کا قلزم ہے کہ جس سے یہ لیڈران، حکمران، سیاستدان الغرض یہ سارے ہیچمدان ظلم کے قلمدان لئے، خوب شاد کام ہوتے ہیں اور ملک کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں جو بدلے میں قرضے، معاوضے، تحفے دیتے ہیں۔ یہ قوم کے لئے کوئی کام کرتے تو آج چار سال گزرنے کے بعد کوئی ڈیم، کوئی توانائی کا پراجیکٹ ہی بن چکا ہوتا البتہ اپنی تجوریوں کو بھرتے رہے۔ آنے والی ہمیشہ کی زندگی تو انہوں نے اپنے لئے جہنم بنا دی مگر اس دنیا میں قوم کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور لوگ بھوک ننگ کے باعث اپنی زندگی کی قدر ہی کھو بیٹھے ہیں۔ اس لئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اگر ان ستائے ہوئے محروم لوگوں کو اپنے ہی ہم جنسوں میں سے قائد مل جائے یا یہ خود اسے سامنے لے آئیں تو انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور یہ پاک سرزمین آلائشوں سے پاک کی جا سکتی ہے۔ اکثر قارئین یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ لکھنے والے کوئی حل کوئی واضح راستہ نہیں بتاتے۔ اکثر کو تو پتہ نہیں ہوتا وہ لاپتہ کو پتہ لکھتے ہیں لیکن سبھی ایسے نہیں ہوتے وہ اپنی مجبوریوں کے باوجود بین السطور سیدھا راستہ، آسان حل اور علاج مرض بتا دیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں شاید جو کچھ کر سکتے ہیں وہ ان پڑھ ہیں اور جو کچھ نہیں کر سکتے اور حکمرانوں کے نقشِ قدم پر ارم ڈھونڈتے ہیں وہ پڑھے لکھے ہیں۔ اب ایک سی ایس پی افسر کتنا پڑھا لکھا ہوتا ہے لیکن وہ بھی اپنے دفتر کو سائلین کے لئے عرصہ محشر بنا دیتا ہے۔ اب جو صورتحال عوام کے سامنے 2013ءمیں حتماً آنے والی ہے اس میں منعقدہ انتخابات میں حصہ لینے والوں میں سرخرو، سیاہ رو سب ہوں گے۔ لوگ باگ اب اتنے ہوشیار ہو گئے ہیں کہ وہ ان کو ووٹ نہیں دیں گے جنہوں نے انہیں 64 برس ناکوں چنے چبوائے، سیدھے منہ کھانے نہ دئیے بلکہ ہر کہ و مہ کو علم ہے کہ کون سا کتنا حرام خور ہے۔ کون کتنا نااہل ہے اور کون قوم کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کرنا چاہتا۔ اقتدار میں اگر ایسے لوگ آنے کی کوشش کریں جو اپنے لئے نہیں غریب عام آدمی کے لئے کچھ کرنا چاہیں تو ان کے چہرے بھی پہچانے جا سکتے ہیں۔ جو افراد 64 سال قوم کی ننگی پیٹھ پر مہنگائی، بدامنی، لوڈشیڈنگ، بے روزگاری اور دیگر مسائل کے کوڑے برساتے رہے۔ کیا اب ان کے یا ان کی اولاد کے چہرے وہ نہیں پہچان پائیں گے۔ انتخابات سے پہلے ہی اتنا وقت مل جاتا ہے کہ ووٹر اپنی سوچ سمجھ سے کام لے کر کوئی اچھا فیصلہ کرکے دل کے لاک اپ میں رکھ دیتا ہے اور عین موقع پر نشانے پر تیر پھینکتا ہے۔ پاکستانی قوم کے سامنے جو حاضر سٹاک ہے اسی میں سے انتخاب اگرچہ مشکل ہے تاہم ہم بھی ہیں وہی، سیاستدان بھی وہی، چہرے بھی وہی، کارکردگیاں بھی عیاں، انہی میں سے جس کے دامن پر کم داغ ہوں اسے ووٹ دے دیں۔ میں اپنی مثال دیتا ہوں کہ میں نے جس ایم این اے کو ووٹ دیا تھا اس نے چار سال تک فنڈز کے باوجود ہمارے حلقے کی سڑکیں بنائیں اور نہ سوئی گیس کالونی کے آخر تک پہنچائی، ظاہر ہے آئندہ اسے ووٹ نہیں دوں گا۔ پارٹی کا انتخاب بھی آسان نہیں اس پارٹی کو ووٹ دیں جس سے خیر کی توقع ہو اس کو نہ دیں جس کے امیدوار کافی ہوں۔ اس طرح اچھی مگر کم امیدواروں والی پارٹی بھی اکثریتی سیاسی جماعت بن جائے گی۔ موجودہ حکمرانوں نے اپنا سیاسی مستقبل تو خراب کیا ہی لوگ دوسروں کے بارے بھی بدظن ہو گئے۔ بہرصورت انتخابات اپنے وقت پر اور موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے پر منعقد کئے جائیں تاکہ جمہوریت کا تسلسل کم از کم برقرار ہے۔ اہل سیاست حکومت کو دیانتداری سے چلائیں، اور جملہ اقسام کے ملازمین صدر کی اطاعت بجا لائیں کہ انہوں نے اس کا حلف اٹھایا ہوتا ہے۔ جمہوریت کو اکثر افراد کا بے جا استحقاق مجروح کرتا ہے اور اس بات میں فرق نہیں کیا جاتا کہ جو لوگ حکومت کے مختلف محکموں میں کام کرتے ہیں چاہے وہ کتنے ہی اونچے گریڈ کے ہوں سرکاری ملازم کہلاتے ہیں اور جنہیں حکمران کہا جاتا ہے وہ قوم کے خادم ہوتے ہیں۔ لیکن یہ کیسی خدمت ہے کہ خدمتگار قارون کا خزانہ رکھتا ہے اور مخدوم (عام آدمی) پھوٹی کوڑی کا محتاج کر دیا گیا ہے۔ گویا ہمارے ہاں لفظوں کی حرمت بھی باقی نہ رہی احترام آدمیت سے تو کب کے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اب یہ سیاسی جماعتوں پر ہے کہ وہ اول تو ملک میں دو پارٹیاں بنائیں تاکہ لوگوں کو اپنی قیادت چننے میں آسانی ہو اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر ہر سیاسی جماعت ایسا انداز اختیار کرے کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ وہ جمہوری چلن اختیار کرے، کسی ایک فرد پر قیادت کو ٹھہرانہ دے بلکہ قیادت بدلتی رہنی چاہئے۔ اسی طرح سیاسی کارکنوں کو ان کا مقام ملنا چاہئے یہ نہ ہو کہ وہ اپنی قیادت سے مل نہ سکے کچھ کہہ بھی نہ سکے۔ ہر جماعت کی ایک شوریٰ ہو جو زیادہ بہتر قیادت کا چناﺅ کرے۔ اگر قیادت گردش میں نہ ہو گی تو کسی ایک خاندان میں رک جائے گی اور یہیں سے طبقاتی و موروثی فتنہ سر اٹھائے گا اور سیاست و قیادت جب چند خاندانوں کی ملکیت ٹھہر جائے گی تو جمہوریت کا نام ہو گا ملوکیت کا کام ہو گا۔ ہم یہاں دو باتیں جو پاکستان کے حوالے سے ضروری ہیں کہیں گے ایک یہ کہ قائداعظم کی مسلم لیگ بحال ہو، اس کے لئے لیگی اتحاد ضروری ہے۔ جسے اس لئے اختیار نہیں کیا جاتا کہ کہیں زمام ایک خاندان کے ہاتھوں میں نہ رہے۔ دوسری بات کشمیر کے حوالے سے ہے۔ یہ اب طے کر لینا چاہئے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کو بخشیش کرنا ہے یا حاصل کرنا ہے۔ جب اقوام متحدہ یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ کشمیر کو حق خودارادیت دیا جائے گا اور نہرو نے اس پر دستخط کر دئیے تو پھر کیوں قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ 64 برس اگر عملدرآمد نہیں ہوا تو کیا اب ہو جائے گا؟ ہرگز نہ ہو گا۔ اس لئے حرف آخر یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے جہاد کیا جائے کیونکہ ہماری شہ رگ بھارت کے قبضے میں ہے اور قائد اس کو آزاد دیکھنے کی حسرت لئے اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ اب یہ ہمارے وجود کے زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے۔ ہمارے دریا کشمیر سے نکلتے ہیں اور ان دریاﺅں پر بھارت اب بلاشرکت غیرے قابض ہو چکا ہے کیونکہ اس نے ان پر 62 ڈیم بنا لئے ہیں اور یہ امکان واضح ہے کہ اگر ہم نے اب بھارت کو کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہ دی تو یہ پاک سرزمین ریگستان میں بدل جائے گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں