دو گز زمیں

فضل حسین اعوان ـ 7 فروری ، 2010
بہادر شاہ ظفر 1526ءمیں قائم ہونے والی مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار تھے۔ یہ سلطنت مغلوں کو پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی گئی تھی۔ ظہیر الدین بابر اور جانشینوں نے قوت بازو سے پورا برصغیر تسخیر کیا تھا۔ اورنگ عالمگیر کے دور آخر تک مغلیہ سلطنت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی رہی۔ 3 مارچ 1703ءکو ان کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ سلطنت مغلیہ محمد شاہ رنگیلا جیسے عیاس فرمانروا سے ہوتی ہوئی تن آسان بہادر شاہ ظفر تک پہنچ کر 1857ءمیں ختم ہو گئی۔ 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد جنرل نکلسن نے اپنی فوج کے ساتھ چار ماہ تک دلی کا محاصرہ کئے رکھا۔ جنرل نکلسن تو مقابلے میں مارا گیا تاہم انگریز اور سکھ فوجوں نے شہر پر قبضہ کر لیا۔ اس دوران شاہی خاندان کے کئی افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ بہادر شاہ ظفر سمیت بہت سے گرفتار ہو ئے۔ بہادر شاہ ظفر کو رنگون قید کردیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ سلامت سے قید کے دوران کسی نے پوچھا ”آپ محل سے فرار کیوں نہ ہوئے“ بادشاہ کا جواب تھا ” ہم بھی بچ کر نکل گئے ہوتے لیکن ہمیں جوتا پہنانے والا خادم موجود نہیں تھا“ ۔۔۔۔باقی زندگی انہوں نے قید میں حقہ پیتے اور شاعری کرتے گزاری۔ البتہ ان کی شاعری کمال کی ہے۔ یہ غزل ان کی حسرتوں کی منہ بولتی داستان ہے۔
لگتا نہیں ہے جی مرا ا±جڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
ب±لب±ل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں
کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں
ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں
ع±مرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاو¿ں سوئیں گے ک±نجِ مزار میں
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
دوگز زمیں کی حسرت بہادر شاہ کو ہی نہیںاور بھی بڑے بڑے” بادشاہوں“ کو رہی۔ بہادر شاہ ظفر کے پیشرو انگریزوں کو مراعات دیتے رہے ۔نتیجے میں وہ ہندوستان پر قابض ہوئے تو تمام احسانات بھلا دئیے۔
آج کے اکثر امریکیوں کے اجداد اپنے” کمالات اور حالات“ کی وجہ سے یورپ بدر کئے گئے تھے۔ یوں ہر معاملے میں انگریزوں سے ایک دو ہاتھ آگے نظر آتے ہیں۔ یہ کسی کو بھی اس سے کام لینے کے بعد استعمال شدہ ٹشو کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ فلپائن کا مارکوس شہنشاہ ایران امریکہ کے پروردہ تھے ۔ان کی اپنے وطن کی مٹی میں مٹی ہو جانے کی بے پایاں خواہش تھی۔ لیکن امریکہ نے ان کے لئے کوئی کردار ادا نہ کیا دونوں اپنے وطن میں دو گز زمیں کی حسرت ہے چل بسے۔ جنرل ضیاءالحق کا انجام سامنے ہے۔ بہت سے حلقے ان کے قتل میں امریکہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان کے نام سے بنی تربت میں کون دفن ہے خدا بہتر جانتا ہے۔ جنرل مشرف کو امریکہ کی بندہ پروری پر بڑا ناز تھا۔ کہتے تھے” جب چاہتا ہوں صدر بش کو فون کر لیتا ہوں“۔ اب پوری دنیا میں ”لور لور“ پھر رہے ہیں۔ پیر صاحب پاکستان آنے کا نام نہیں لیتے۔ چک شہزاد میں بہت بڑا محل تعمیر کرایا۔ اس میں رہنے کا ایک دن بھی موقع نہیں ملا ان کےلئے یہ محل شداد کی جنت ثابت ہوا۔ ان کو دو گز زمیں کہاں ملتی ہے کچھ پتہ نہیں۔ تاہم آج ہی کسی مرید کے حوالے سے خبر چھپی ہے کہ پیر صاحب اپریل میں واپس آنے کا پروگرام بنا رہے ہیں واپسی کی خبریں پہلے بھی چھپ چکی ہیں ممکن ہے یہ گپ ہی ہو۔
ہمارے حکمران امریکہ کی جنگ بڑے جوش و خروش سے لڑ رہے ہیں ۔ امریکی نوازشات اور عنایات کو اپنی ذات کیلئے نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہیں۔ ان کو بھی راندہ درگاہ ٹھہرنے والوں کی طرح امریکی دوستی کا زعم ہے۔ خود کوشاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کرتے ہیں۔ برملا اعتراف کیا گیا ہے ”دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 8 سال میں نیٹو کی ہلاکتوں کی تعداد 1582 پاک فوج کے 2273 افسر اور جوان کی ایک سال میں شہیدگئے۔ پاکستان کے 173 انٹیلی جنس افسر جاں بحق ہوئے۔ اتحادیوں کے صرف 11مرے۔ ہمارے شہدا میں ایک تھری سٹار‘ دوٹو سٹار اور 5 ون سٹار جنرل شامل ہیں“
نیٹو کے بہت کم تعداد میں مارے جانے والے تو صلیبی جنگ لڑتے ہوئے مارے گئے۔ ہمارے کثیر تعداد میں کس مقصد کےلئے شہید کرائے گئے؟.... بہت سے۔ بہت سے پاکستانیوں کا جواب ہے ڈالروں کےلئے! جنرل کیانی کی بطور آرمی چیف مدت ملازمت 8 نو ماہ رہتی ہے۔ جاتے ہوئے ملک اور فوج پر ایک احسان کر جائیں۔ اپنی ہی فوج جس کے وہ کمانڈر ہیں اس کو لاحاصل اور فضول جنگ میں قربان ہونے سے بچا کر‘ اصل دشمن کے مقابل لاکھڑا کریں۔ حکمران امریکہ کی تاریخ پڑھیں اور پیشرو¶ں کے انجام سے سبق حاصل کریں۔ سابق کا لاحقہ لگتے ہی امریکیوں کی نظر میں اہمیت زیرو ہو جاتی ہے۔ امریکی دو گز زمیں دلانے کے بھی روادار نہیں رہتے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں