” افغانستان میں امریکہ کے جاسوس کتے بھی ناکام “
ڈاکٹر اختر شمار ـ 7 فروری ، 2010
ڈاکٹر اختر شمار
افغانستان مےں امرےکہ اپنی آخری سانسےں لے رہا ہے،شاےد ےہی سبب ہے کہ جنگ کے ساتھ ساتھ اب درپردہ طالبان سے مذاکرات بھی ہونے لگے ہےں۔طالبان ہےں کہ ہر محاذ پر امرےکہ کو ” ناکوں چنے چبوا“ رہے ہےں،اتحادی افواج طالبان کی بارودی سرنگوں سے سخت پرےشان ہےں۔اِن بارودی سرنگوں کو سونگھنے اور کھوجنے کے لئے امرےکہ نے اب کتوں سے مدد لےنی شروع کر دی ہے۔دلچسپ بات ےہ ہے کہ ا مرےکہ جس طرح اکےلا کہےں بھی چڑھائی نہےں کرتابلکہ اتحادی افواج کی صورت مےں ” شب خون“ مارتا ہے بالکل اُسی طرح،افغانستان مےں بارودی سرنگوں کے کھوج کے لئے بھی اپنے امرےکی کتّے استعمال کرنے کی بجائے جرمنی اور بلجےم کے جاسوس کتوں سے کام لے رہا ہے،گوےا ان بارودی سرنگوں کو سونگھتے ہوئے جرمنی کے ”کتے“ موت کی گھاٹ اتر رہے ہےں۔ایک خبر کے مطابق، اس وقت اتحادی فوجوں کی امداد کے لیے جرمنی کے تقریباً ۰۵ کتّے مختلف مقامات پر اپنی ذمہ دارےاں سر انجام دے رہے ہیں جبکہ ۰۲ کتے اضافی رکھے گئے ہیں تا کہ ہلاک یا زخمی ہو نے والے کتوں کی جگہ لے سکیں ۔ خبر کے مطابق اس سال ان جاسوس کتوں کی تعداد ۹۱۲ ہو جائے گی ۔ افغانسان میں امریکی پراجیکٹ ” کے نائن “ (k-9) اور جنوبی افغانستان میں جاسوسی کتوں کی فراہمی کے ٹھیکیدار نِک گائیڈس (Nick . Guidas) کے مطابق افغانستان کے مخدوش حالات، ماحول او ر خوراک کی قّلت کے سبب جاسوس کتے اپنی بہترین صلاحتےوں کا مظاہرہ کرنے سے قاصرہیں ۔ جاسوس کتوں کے لیے خصوصی خوراک سمندری راستے سے پاکستان لائی جاتی ہے پھر ٹرکوں کے ذریعے اسے افغانستان منتقل کےا جاتا ہے ۔ ایسے میں یہ ٹرک خود کش حملوں اور بموں کی زد میں بھی آتے ہیں سواب یہ سلسلہ صرف فوجیوں کی خوراک اور دیگر سامان تک محدود ہے ۔سوٹھیکیدا کو تشویش ہے کہ کتوں کی خوراک کی فراہمی ماند پڑنے سے بارودی سرنگیں سونگھنے والے کتے متاثر ہو رہے ہیں ۔۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق جاسوس کتوں کی تربےت پر ہر سال ہزاروں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں ۔ صرف ان کی خوراک اور دیکھ بھال پر سالانہ تقرےباً۰۱ ہزار ڈالر خرچ ہو تے ہےں ۔ کتوں کی تربےت بچپن سے شروع کر دی جاتی ہے ۔ اےک پّلا تقرےباً اڑھائی برس کی تربےت کے بعد بارودی سرنگیں سونگھنے کے لیے تےار ہوتا ہے یعنی ڈھائی سال کی ٹرےننگ کے بعد کتوں کو بارودی سرنگیں سونگھنے کے مشن پر بھیجا جاتا ہے ۔۔۔۔ کسی دور میں افغانستان میں سمگلنگ کے لیے گدھے استعمال ہو تے تھے ، آج امریکیوں نے طالبان کی بچھائی بارودی سرنگوں سے نمٹنے کے لیے کتوں کی مدد لینی شروع کی ہوئی ہے ۔۔۔ بعض جرمن کتوں کو تو” پیراشوٹ“ کے ذرےعے شورش زدہ علاقوں میں اتارا گےا ان کتوں کے چہروں پر آکسیجن ماسک لگائے گئے اور انہیں ۵۲ ہزار فٹ کی بلندی سے پےراشوٹ کے ذرےعے نیچے پھینکا گےا ان کتوں کے سروں میں چھپے نہاےت چھوٹے کیمروں کے ذرےعے طالبان کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے کی کوشش کی جاتی رہی مگر یہ منصوبہ ناکام ہو گےا ۔ اب تو جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں امریکہ کی جانب سے کتوں کو افغانستان بھیجے جانے کے خلاف احتجاج کرنے لگی ہیں ۔ کیا امریکی پاکستان میں کتوں کی مدد سے کام نہیں لے سکتے ،کتوں کے سروں میں چھپے کیمروں کے ذرےعے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے ۔۔۔ اور پھر ہمارے شہروں میں بارودی سرنگوں کا کوئی خطرہ بھی نہیں اور یہاں تو امریکیوں کو رحمن ملک جیسا دوست بھی میسر ہے جو تاحال ”بلیک واٹر“ کی موجودگی کے ثبوت مانگ رہا ہے ۔۔ آپ امریکوں پر کتنی پابندی لگا سکتے ہیں ۔ اگر امریکہ نے اسلام آباد میں بھی جاسوس کتوں کی مدد لینی شروع کر دی اور کتوں کی تعداد بڑھنے لگی تو ان کے سروں کے کیمروں کو آپ کہاں تک کنٹرول کر سکیں گے ۔ جو لوگ کتوں کے سروں پر کیمرے رکھ سکتے ہیں وہ آپ کے”اہم رازوں“ تک پہنچنے میں کتنی دےر لگا سکتے ہیں ؟؟ یہ غور کرنے کی بات ہے ! امریکی” کُت خانے“ سے دوری ہی میں فلاح ہے ۔۔ ورنہ جگ میں ہماری” کتےاکتےا “ہو جائے گی ۔۔۔ہمارے دشمن اور عالمی مےڈےا پہلے ہی پاکستان کو ناکام رےاست بنانے کی جدوجہد مےں مصروف ہےں۔سو ہمےں امرےکہ ہی نہےں ان کے کتوں پر بھی کڑی نظر رکھنی ہو گی،کےا خےال ہے آپ کا؟۔۔۔۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں