مظہرِ نورِ خدا

فضل حسین اعوان ـ 5 فروری ، 2010
ہم ظاہرِی آنکھوں سے دیکھنے والوں کی دنیا الگ ، دل کی آنکھ سے دیکھنے والوں کی الگ ہے۔صوفیا کی زندگی کا تھوڑا سا حصہ دنیاداروں کیلئے، باقی اپنی دنیا کیلئے وقف اور مختص ہوتا ہے۔ ان کی ایک نظرِالتفات کسی گنہ گارپر بھی پڑ جائے تو اس کی خارزار زندگی چمنستان اور گلستان بن جاتی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کو علامہ اقبال مردِ مومن قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں....ع
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
صوفیا فیض کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ چشمے اور ندیاں الگ الگ ہوسکتی ہیں منبع وہی مدینتہ النبی روضہ رسول اور ذات اقدس ہے جن کے بارے میں ہمارا ایمان ہے بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ہر مسلمان بلاشبہ نورالدین زنگی کے خواب پر یقین رکھتا ہے جن کو حضور نے نشاندہی کی تھی کہ کچھ لوگ جسد مبارک سرنگ کے ذریعے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بالآخر پکڑے گئے اس کے بعد روضہ رسول کے گرد سیسہ پلائی دیواریں کھڑی کردی گئیں۔
یہ 1974ءکی بات ہے، 75 سالہ بزرگ نے اپنے عقیدت مندوں کو بتایا:”پانی پت سے ایک صاحب حج پر جا رہے تھے محلے دار نے رسولِ خدا کے نام پیغام دیا”یارسول اللہ آپ کے در پر حاضر ہونے کی آرزو ہے لیکن وہیں ایسے لوگ بھی ہیں“.... آگے کچھ گستاخانہ الفاظ تھے۔ پیامبر نے من و عن پیغام روضہ رسول پر کھڑے ہو کر پہنچا دیا۔ اسی رات اس نے خواب میں دیکھا ایک محفل آراستہ ہے رسول کریم تشریف فرما ہیں صحابہ کرام موجود ہیں، حضور نے سب کے سامنے پیغام رکھا اور پوچھا ایسے گستاخ کا کیا علاج ہے۔ اسی مجلس میں ایک جن بھی موجود ہے جس کی بھنویں اس کے گھٹنوں تک تھیں اس نے بھنویں اوپر اٹھائیں اور عرض کی یا رسول اللہ قتل کے سوا اس کی اور کوئی سزا نہیں ہوسکتی۔ اس اثناءمیں حضرت علیؓ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا یہ کام میں کروں گا۔ اجازت ملنے پر آپ نے تلوار اٹھائی اور پلک جھپکتے میں اس کے شہر جا کر اس کا سر تن سے جدا کیا اور اسے اٹھا کر ایک گڑھے میں پھینک کر ٹھوکرسے اوپر مٹی ڈال دی۔ پیغام لے جانیوالے کی آنکھ کھلی تو وہ خوفزدہ تو تھا ہی فوراً اپنا خواب ڈائری میں نوٹ کرلیا۔ کہانی سنانے والے بزرگ کے بقول وہ ڈائری انہوں نے خود پڑھی تھی۔ حاجی صاحب واپس آئے سب سے ملے۔ محلے دار موصوف کا پوچھا تو بتایا گیا چند روز قبل قتل ہوگئے دھڑ موجود تھا سر نہ مل سکا۔ حاجی صاحب نے ڈائری نکالی قتل اور خواب کی ایک ہی تاریخ تھی ڈائری سب کے سامنے رکھی اور لوگوں کو اس گڑھے پر لے گئے جس میں مولا مشکل کشا کو سر پھینکتے دیکھا تھا۔ سروہاں سے مل گیا۔معین الدین چشیؒ اپنے شیخ عثمان ہارونیؒ کے ہمراہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ آپؒ نے آقاﷺ کے حضور باادب سلام پیش کیا ”السلام علیکم یا رسول اللہ“ ندا آئی ”وعلیکم السلام یا الولی الہند“ آپؒ کے شیخ سمجھ گئے کہ معین کو ہندوستان میں داعی کا منصب سونپ دیا گیا ہے۔ معین الدین چشیؒ نے حکم کی تعمیل بجالاتے ہوئے اجمیر کی جانب سفر کیا۔ طویل مسافت کے دوران لاہور میں مخدوم علی ہجویریؒ کی درگاہ پر قیام فرمایا اور انکی چالیس روزہ عبادت میں اللہ تعالیٰ نے شیخ علی ہجویریؒ کی روحانی کیفیات، مشاہدات و تجربات سے فیضیاب کیا جس پر آپؒ نے مخدوم علی ہجویریؒ کیلئے یہ شعر پڑھا....
گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
ان کی دنیا کوئی اور ہے۔ ایک صاحب 12 سال تک داتا صاحب کے مزار پر گھنٹوں تلاوت کرتا رہا۔ ایک دن ایک فنکارہ کو دعا کرتے دیکھا دوسرے دن وہ دیگیں چڑھا رہی تھی۔ اگلے دن ایک اور دنیا دار کو دعا کرتے دیکھا چند روز بعد وہ چڑھاوا چڑھا رہا تھا۔ ریا کار زاہد کو غصہ آیا مزار کے باہر گیا ایک تانگے والے سے چابک لیا اور واپس آ کر مزار پربرسانے لگا اور کہا میں 12 سال سے روزانہ آتا ہوں۔ میری خبر نہیں لی۔دوسری طرف ان پر نوازشات کہ ِادھر دعا کی اُدھر قبول ہو گئی۔ یہ کہہ کر گھر کی راہ لی۔ مزار سے باہر نکل رہا تھا۔ ایک سفید پوش بزرگ نے پوچھا کیوں بھئی کیا ہوا؟۔ بزرگ کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بزرگ کا جواب تھا۔ جب تم نے مانگا ہی کچھ نہیں تو نہ ملنے کا گلا کیسا؟۔ ساتھ ہی انہوں نے دوسری طرف منہ کرکے کمر سے قمیض اٹھا دی، کمر پر چابک کے پانچ نشان موجود تھے۔۔۔۔ داتا صاحب جائیں آج بھی رحمتوں کے چشمے رواں ہیں ۔
مزاروں، درباروں اور غلامی رسول پر کسی مخصوص مسلک کا اجارہ نہیں، سب کو فیض ملتا ہے۔ ان کوبھی جو بظاہر اعتراف نہیں کرتے۔ بلھے شاہ ناچ گا رہے تھے۔ جذب میں تھے۔ ایک عقیدت مند نے کہا حضورﷺ کی زیارت کراﺅ۔ کہا آگے بڑھو۔ اس نے حضور کو دیکھا۔ آپﷺ نے ہاتھ ملایا تو بڑے پیار، عقیدت اور احترام سے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے تھامے مسجد چلا گیا ۔مولوی صاحب نے دیکھتے ہی کہا :بدعتی خود اُدھر منہ نہیں کرتا تمہارا ہاتھ ملوادیا۔۔۔ مجلسیں سجتی ہیں زیارتیں ہوتی ہیں،بلاامتیاز مسلک مشائخ ان محفلوں میں جاتے ہیں کچھ ظاہر کرتے ہیں کچھ ظاہر نہیں کرتے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں