بدلتے عالمی تناظر میں پاکستان کے کردار کا جائزہ
کرنل (ر) اکرام اللہ ـ 4 فروری ، 2010
سلطنتوں کا زوال تاریخ کے مطابق بتدریج واقع ہوتا ہے اور اس حقیقت میں اب کوئی شک نہیں کہ موجودہ صدی کے وسط تک امریکی عروج کا ستارہ سو سالہ مدت پوری کر کے ایک نئے عالمی آرڈر کو جنم دے گا جس کے نتیجہ میں اکیسویں صدی ایشیاءکی صدی کہلانے کی ایک مضبوط امیدوار ہو گی۔ امریکہ آنے والی اس تاریخی حقیقت کو ابھی سے بھانپتے ہوئے اپنی ہر شعبے کی سٹریٹجی کو مستقبل کے تقاضوں سے ہمکنار کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یورپ، افریقہ، مڈل ایسٹ، روس، سنٹر ایشیاءاور پاکستان کے گردوپیش کے علاقوں یعنی سعودی عرب، ترکی، ایران کی ریاستیں افغانستان اور بھارت ان سب علاقوں میں تمام سٹریٹجک پالیسیوں میں نظرثانی کرتے ہوئے ہر علاقے کے لئے نئی حکمت عملی زیر غور ہے۔ چنانچہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ایف پاک سٹریٹجی بھی اس تازہ ترین رویو (Rivew) سے محفوظ نہیں رہ سکیں اور حال ہی میں برسلز اور لندن میں ہونے والی مغربی طاقتوں کی کانفرنسیں آنے والی عالمی سطح کی نئی منصوبہ بندیوں کا پیش خیمہ ہیں جس میں امریکہ اور یورپ عالمی بالادستی کے لئے آخری ہاتھ پاو¿ں مارنے کی بازی لگا رہے ہیں۔ قدرت کے کھیل ملاحظہ فرمایئے کہ مملکت خداداد پاکستان جس کو اہل مغرب نے گزشتہ نصف صدی کے دوران اپنا تختہ مشق بنا رکھا تھا اور جسے 1971ء کی عالمی سازشوں کے تحت دولخت کرنے کے بعد اب دوبارہ اسے طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے اس کی نیوکلیئر صلاحیتوں سے محروم کرنے کے درپے تھے اور دہشت گردی کی جنگ میں Do More کے تقاضے کر کے نئی حکمت عملی کی طرف آ رہے ہیں ۔ پاکستان کی بھرپور مدد کے بغیر نہ افغانستان کی جنگ جیتی جا سکتی ہے جو دراصل وہ پہلے ہی ہار چکے ہیں اور نہ ہی دہشت گردی کی جنگ کا کامیابی سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جس میں ایک لاکھ نیٹو فوج کو اب تیس ہزار مزید امریکی فوج بھیجنے کے باوجود اگلے سال اکتوبر میں پسپائی کی منصوبہ بندی کو آخری شکل دی جا رہی ہے اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ بظاہر اٹھارہ ماہ کے بعد افغانستان سے واپسی کا آغاز کرنے کے بعد باعزت واپسی کی کوئی حتمی تاریخ طے کرنا مشکل ہے اس درمیانی مدت کا تخیمنہ مغربی حلقے پانچ سال لگاتے ہیں اور صدر حامد کرزئی اگلے پندرہ سال کے لئے اور امریکی فوجوں کی چھتری افغانستان میں بحالی امن کے لئے ضروری خیال کرتے ہیں۔ ”کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک؟“ یہ کیسا سوال ہے جس کا کسی کے پاس جواب نہیں اور صرف ایک حقیقت سے کسی اپنے پرائے کو انکار نہیں کہ افغانستان میں امن کی منزل کی طرف جانے والا ہر راستہ پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے۔ چنانچہ یہ نئی حقیقت آشکارہ ہونے پر امریکہ اور عالمی طاقتیں پاکستان کے نئے تاریخی کردار کے بارے میں سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کیونکہ بھارت عرصہ سے افغانستان میں اپنا مقصد پورا کرنے میں مصروف کار رہا ہے لیکن اپنے ماضی کے امریکہ اور بھارت کے حسن سلوک کے اب تک جو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے اس کے پیش نظر پاکستان ماضی کی غلطیاں دھرانے کے لئے تیار نہیں ہے تاریخ کے اس نئے اور نازک موڑ پر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی قیادت اپنے نئے سٹریٹجک رول کا ادراک رکھتے ہوئے اپنے کارڈ صحیح انداز میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ بین الاقوامی تناظر میں خطے کے بدلتے ہوئے خدوخال ہر روزنمایاں ہو رہے ہیں جن سے ایک بات صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ افغانستان کے حل کی چابی اسلام آباد منتقل کرنے پر مجبور ہو رہی ہے اس کے ساتھ ہی بھارت کو پاکستان پر اپنی بالادستی کے خواب بھول کر جامع مذاکرات کی طرف پیش قدمی کرنے کے سوا اب کوئی چارہ نہیں رہا کیونکہ دو ہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی قسم کا تصادم امریکہ اور یورپ کے اپنے مفادات کے لئے تباہ کن ہو گا۔ (جاری ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں