کیا صرف عوام کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟
ـ 3 جنوری ، 2011
فوزیہ بشیر (ایڈووکیٹ)
25 سیٹوں کی حامل ایم کیو ایم کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فضل الرحمن اور ان کے حامیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ ن‘ ق یا کوئی اور سیاسی پارٹی یا سیاست دان ان میں سے کسی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان تمام سیاسی پارٹیوں اور پارلیمانی ممبران و سیاست دانوں کو عوام کے استحصال کا سرٹیفیکیٹ خود عوام نے دیا ہے اس مقصد کے لئے 29 دسمبر 2010ء کی چند خبریں ہی ملاحظہ فرما لیں۔
٭ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بہاولپور فورٹ عباس میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا غریب جیلوں میں اور ڈاکو اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔
٭2010ء نے مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے اشیاء خوردنی و پٹرولیم مصنوعات و بجلی اور گیس کی قیمتیں کئی سو گنا بڑھیں۔
٭ ارکان پارلیمنٹ کی جعلی ڈگریاں ثابت ہونے کے باوجود ابھی تک ان کے خلاف کوئی واضح قانونی کارروائی نہ کی گئی۔
٭ ن لیگ کی فرح دیبا جعلی ڈگری ثابت ہونے کے باوجود ابھی تک MPA ہیں۔
٭ 2010ء کا سال حسب معمول خواتین کے لئے کوئی اچھا پیغام نہ لایا، رواں سال میں صرف پنجاب میں 720 خواتین قتل، 202 جنسی تشدد اور 124 گینگ ریپ کا شکار ہوئیں، 340 نے خودکشی کی اور سینکڑوں ایسی خواتین کے ساتھ جرائم جو ریکارڈ پر موجود نہیں ہوئے۔
٭ حکومت تمام دعوؤں کے باوجود عورتوں کی Up Life کے لئے کوئی پراجیکٹ نہ دے سکی۔
٭ بے شمار مراعات کے باوجود 2010ء میں بھی تھانہ کلچر تبدیل نہ ہو سکا تمام ملک میں پولیس تشدد کے بڑے بڑے واقعات سامنے آئے۔
٭ 2010ء میں لاہور ہائی کورٹ میں سب سے زیادہ درخواستیں دائر ہوئیں جن میں سے سب سے زیادہ پولیس کے خلاف تھیں۔
٭ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے نظام زندگی مفلوج و متعدد شہروں میں مظاہرے۔
٭ رواں سال تنسیخ نکاح اور طلاق کے مقدمات میں اضافہ ہوا۔
٭ شرح طلاق بڑھنے کی وجہ سے گارڈین کیسزز میں بے شمار اضافہ ہوا۔
٭رواں مالی سال میں عوامی حکومت نے اپنی عوام کش پالیسیوں کی وجہ سے عوام کا جینا محال کر دیا۔
مذکورہ چند خبروں کے پس منظر میں وطن عزیز کی یتیم و مسکین، لاوارث مجبور اور لاچار عوام کا نہ تو حکمرانوں و سیاست دانوں و بیورو کریٹس، جاگیرداروں، صنعت کاروں و سرمایہ داروں کسی نے بھی کبھی نہیں سوچا۔ یہ تمام لوگ ہر وقت اپنے اور ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ میں لگے رہتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کو کسی جگہ کسی مقام کسی فورم پر نظرانداز نہیں کرسکتے ہاں یہ سب مل کر نظرانداز کرتے ہیں تو صرف اور صرف عوام کو جو کہ وطن عزیز پاکستان کے حقیقی وارثان ہیں۔ دولت و اقتدار اور اختیار کے نشے میں دُھت تمام خودغرض اور مفاد پرست یہ نہ بھولیں صدا بادشاہی صرف اللہ کی ہے اور اس قطعہ عرض پر ہمیشہ راج خلق خدا ہی کرے گی۔ عوام کو اس فانی دنیا پر نظرانداز تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس دنیا میں کئے گئے اعمال کے حساب کتاب سے کوئی انسان آخرت میں بچ نہ پائے گا۔ آخرت کا وہ دن جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی یہاں تک کہ ’’ماں بیٹے کی اور بیٹا ماں کا نہ ہوگا‘‘ خدا ہم سب کو زندگی میں ہدایت دے (آمین)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں