الیکشن سے فرار.... میاں صاحب ایسا نہ کریں

فضل حسین اعوان ـ 3 فروری ، 2010
وقتی مفادات کے تناظر میں کئے گئے فیصلے بعض اوقات انتہائی نقصان دہ حتیٰ کہ جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔ اسکی بہت سی مثالیں ہیں جن میں اہم ترین تو میاں نوازشریف کا پرویز مشرف کو میرٹ سے ہٹ کر آرمی چیف بنانا تھا‘ وجہ یہ بنائی اور بتائی گئی کہ اسکا ”اگا پچھا“ نہیں‘ یعنی کوئی سیاسی پس منظر نہیں۔ پھر وہی نوازشریف کے ہاتھوں کا تراشا ہوا صنم ان کو لے ڈوبا لیکن جان بچ گئی۔ اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی ایسی ہی غلطی ان کو تختہ دار تک کھینچ کر لے گئی تھی۔ پرویز مشرف نے جن پتوں پر تکیہ کیا وہی انہیں بگولہ‘ آندھی اور طوفان بن کر اڑا لے گئے۔ 1985ءکے انتخابات کا پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کیا جو اس کی قیادت کیلئے پچھتاوا بن گیا۔ نوازشریف صاحب بھی 2008ءکے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر‘ کرکے واپس لیتے رہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی بات مانی ہوتی اور خود پیپلز پارٹی کو بھی بائیکاٹ پر قائل کرلیتے تو آج شاید زرداری صاحب اور شریف برادران اندر‘ پرویز مشرف صدر‘ پرویز الٰہی وزیراعظم اور شیخ رشید احمد اسمبلی کی رنگین گلیوں میں رانجھا بنے پھر رہے ہوتے۔ 2008ءکے انتخابات میں نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے تو لاہور میں جشن کا سماں تھا۔ عدالت نے اس حلقے سے الیکشن موخر کیا تو ایک طوفان برپا ہوگیا۔ پھر معاملہ نااہلی سے ہوتا ہوا گورنر راج تک پہنچا تو مسلم لیگ (ن) قریہ قریہ کوچہ کوچہ گرجتی‘ برستی اور کڑکتی نظر آئی۔ عدلیہ نے نااہلی‘ اہلیت اور گورنر راج عوامی راج میں بدلا تو متوالے لڈیاں ڈالتے اور متوالیاں ٹھمکے لگاتی نظر آئیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں بے نظیر بھٹو کے بعد صرف میاں محمد نوازشریف ہی واحد بڑے قد کے سیاستدان ہیں۔ ان کی سیاست سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ان کے سیاسی قامت کا ہر کوئی قائل ہے۔ محب وطن حلقے ان کو پارلیمنٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ ان کی پارلیمنٹ میں اشد ضرورت ہے۔ جب ضمنی انتخابات کا اعلان ہوا تو پنجاب حکومت نے امن و امان کا بہانہ بناکر الیکشن ملتوی کرالئے۔ تجزیہ نگاروں کی رائے تھی کہ نوازشریف الیکشن نہیں لڑنا چاہتے اس لئے پنجاب حکومت نے الیکشن ملتوی کرائے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے تو مسلم لیگ (ن) میاں محمد نوازشریف کے انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے آئیں بائیں شائیں کرتی رہی‘ بالآخر فیصلہ صادر فرما دیا گیا کہ نوازشریف این اے 123 سے الیکشن نہیں لڑیں گے۔ ترجمان مسلم لیگ (ن) سنیٹر پرویز رشید نے میاں محمد نوازشریف کی خواہش کو اپنے الفاظ کا لبادہ پہناتے ہوئے فرمایا کہ ”آمریت کیخلاف مزاحمت کرنیوالا کوئی کارکن اس حلقے سے الیکشن لڑے“ الیکشن میں حصہ نہ لینے کا یہ خوبصورت اور نشاط انگیز جواز ہے تو وزیراعلیٰ پنجاب بھی آمریت کیخلاف خم ٹھونک کر کھڑے رہنے والے کسی کارکن کو بنا دیں۔
کیا مسلم لیگ (ن) نے مانسہرہ این اے 21 سے شکست کو حرزِ جاں بنا لیا ہے جہاں سے فیض محمد خان مرحوم کی سیٹ سے ٹکٹ ان کی بیٹی کو دینے کا اعلان کرکے کیپٹن (ر) صفدر کے بھائی حاجی طاہر علی کو دیدی گئی۔ بعض سرویز نے میاں محمد نوازشریف کو مقبولیت کی معراج پر دکھایا تھا اور اس کو انہوں نے سچ بھی جان لیا اور سمجھ لیا کہ لوگ ووٹ جھولیوں میں ڈال کر مقبولیت کے قدموں میں ڈھیر کردینگے۔ نتیجہ سامنے ہے.... ایسی ہی سستی اور لاپروائی کا مظاہرہ راولپنڈی این اے 55 میں کیا گیا تو تحریک انصاف کا امیدوار جیت سکتا ہے۔ شیخ رشید اس سیٹ کو اپنی لال پری سمجھتے ہیں اور ان کی لال حویلی بھی اس حلقے میں ہے تو لال مسجد بھی ساتھ ہی موجود ہے۔ ووٹروں کو آج بھی لال مسجد سے شعلے لپکتے دکھائی اور جلتی معصوم بچیوں کی آہ و بکا سنائی دے رہی ہے۔ توبہ کے دروازے یقیناً کھلے ہیں لیکن کچھ جرائم ناقابل معافی بھی ہیں۔ لال مسجد میں معصوم بچیوں کا قتل اور اس پر حاکمِ وطن کا ساتھ بھی شاید ایسا ہی ناقابل معافی جرم ہے.... یہاں بھی اور شاید وہاں بھی....!
نوازشریف این اے 123 سے الیکشن لڑتے ہیں تو جیت یقینی ہے بلکہ مسلم لیگ (ن) کا کوئی بھی امیدوار یہاں سے جیت جائیگا۔ نوازشریف نہ جانے کس غلط فہمی یا خوش فہمی میں اس حلقے سے الیکشن نہیں لڑ رہے۔ ہماری سیاست معجزوں اور انہونیوں سے بھری پڑی ہے جہاں سیاست پلٹنے اور سیاستدانوں کے ضمیر بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ ضروری نہیں کہ پی پی پی اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکے تاہم اس کا مدت پوری کرنا بھی یقینی نہیں۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ موجودہ حالات میں متبادل قیادت مسلم لیگ (ن) اور متبادل قائد میاں محمد نوازشریف ہیں۔ بھٹو بڑے لیڈر تھے‘ انہوں نے اصولوں کے نام پر قوم سے ایک بڑا لیڈر چھین لیا۔ نوازشریف نے قوم کیلئے ایک بڑا لیڈر بچالیا۔ اب اس بڑے لیڈر کو ضائع نہ کریں۔ الیکشن میں حصہ لیں اور پارلیمنٹ میں جاکر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے قوم کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں۔ ضامنوں کی خواہشات سے زیادہ ملکی وقومی مفادات اہم ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں