میچ فکسنگ : مشکوک ویڈیو کی تحقیقات کی جائے
محمد مصدق ـ 2 ستمبر ، 2010
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جب ورلڈ کپ حاصل کیا تھا تو اس کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر ٹیم کو کمزور بنانے اور پاکستانی کرکٹ کو دیوار کے ساتھ لگانے کی سازشیں شروع ہو گئیں جس کی وجہ سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بہت زیادہ نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ انڈیا نے سازش کر کے پاکستان میں انٹرنیشنل ٹیموں کا داخلہ ممنوعہ کر دیا ہے۔ بہانہ یہ کیا جاتا ہے کہ سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہوا تھا اس لئے پاکستان میں کوئی غیر ملکی کرکٹ ٹیم محفوظ نہیں ہے جبکہ دوسری طرف ممبئی میں دہشت گردی کے وقت انگلینڈ کی ٹیم بھارت کا دورہ کر رہی تھی اور وہ فوراً واپس چلی گئی تھی لیکن بھارتی قیادت نے برطانیہ جا کر ان کے پاوں پکڑ لئے کہ ہماری عزت کا سوال ہے آئندہ سے کوئی کرکٹ ٹیم بھارت آتے ہوئے ہچکچائے گی اس لئے آپ اپنی کرکٹ ٹیم واپس بھیج دیں اور برطانیہ نے کرکٹ ٹیم کو واپس بھجوا دیا تھا۔
اب انتہائی حیرت کی بات ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دوبارہ سازش کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ایک اصلی یا جعلی وڈیو (ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے) کی بنیاد پر ایک شخص مظہر مجید نے الزام لگایا ہے کہ اس نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی میچ فکسنگ کے لئے کئی بار راضی کیا اور کیش بھی دیا سب سے حیرت بات ہے کہ آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اپنے پریس ریلیز میں مظہر مجید پر الزام لگایا ہے کہ اس نے جواءکرانے والی متعدد کمپنیوں کے ساتھ فراڈ کیا۔ آئی سی سی کی پریس ریلیز میں کسی جگہ پاکستان کا نام نہیں ہے لیکن ہمارے میڈیا نے برٹش میڈیا سے بڑھ کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جبکہ برطانوی عدالت نے مظہر مجید کو ایک طرح سے باعزت بری کرنے کے مترادف کوئی فرد جرم لگائے بغیر رہا کر دیا ہے۔
اب مظہر مجید کی رہائی بہت سے سوالات اٹھاتی ہے اور اس بات کا سب بڑا ثبوت ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت ہونے سے پہلے صرف ایک مشکوک ویڈیو فلم پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کو مجرم قرار دینے کے بعد ان کے لئے انتہائی سنگین سزائیں بھی تجویز کر دی ہیں اور منظم طریقے سے الیکٹرانک میڈیا نے عوامی جذبات بھڑکایا ہے جو انصاف اور صحافت دونوں کے خلاف ہے۔ صحافت کا اسلامی اصول نمبر ایک تو یہ حدیث ہے کہ کسی شخص کو جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات دوسروں کو بتاتا پھرے۔ سوات میں جعلی ویڈیو کی وجہ سے پاکستانی کی کتنی بدنامی ہوئی تھی لیکن اب ثابت ہو گیا ہے کہ کوڑے کھانے والی لڑکی نے اداکاری کی تھی۔
پاکستان کے وزیر داخلہ سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ تو روکی نہیں جاتی لیکن بغیر کوئی جرم ثابت ہوئے ایف آئی اے کے ایکسٹرا ڈائریکٹر جنرل کی نگرانی میں ایک تحقیقاتی ٹیم لندن بھجوانے کا انتظام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف برطانیہ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پاس کوئی ماہر قانون بھی نہیں ہے کس بنیاد پر سکاٹ لینڈ یارڈ نے پاکستانی کھلاڑیوں کے کمرے میں چھاپہ مارا اور ان کے ٹیلی فون، کرنسی اور لیپ ٹاپ وغیرہ قبضے میں کئے۔ برطانیہ میں پاکستانی قونصل جنرل واجد شمس الحق بھی تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں جب برطانیہ کی عدالت نے میچ فکسنگ کرانے میں ملوث مظہر مجید کو چھوڑ دیا تو پھر اس سے کیا ثابت ہوتا ہے کہ بظاہر یہ بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے خلاف ایک سازش ہے اور برطانیہ میں ان کی ٹیم کو ہرانے سزا بھی ہے کیونکہ برٹش ٹیم کے کپتان کو جرات کیسے ہوئی کہ وہ بقیہ میچ نہ کھیلنے کا عندیہ دے جبکہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوا ہے۔ اب تو لندن پولیس نے بھی پاکستانی کرکٹرز کی میچ فکسنگ کے بارے میں مظہر مجید کی ویڈیو کو وقت اور تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے مشکوک قرار دیدیا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ لندن میں کسی اچھی سراغ رساں کمپنی کی خدمات حاصل کرے اور مشکوک ویڈیو کی تحقیقات کرائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں