کھلاڑی‘ مداری اور جواری!
توفیق بٹ ـ 2 ستمبر ، 2010
آج کے نوائے وقت میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں قومی کرکٹ ٹیم کے بعض کھلاڑیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں یہ کس مالی پوزیشن کے حامل تھے اور آج کس مقام پر کھڑے ہیں۔ ماضی میں رہنے کیلئے جسے چھت میسر نہ تھی آج کروڑوں روپے کے بنگلے کا مالک ہے۔ جس کے پاس ڈھنگ کی موٹر سائیکل نہیں ہوا کرتی تھی آج ایسی ایس امپورٹڈ گاڑیوں میں گھومتا ہے جیسے اس کا تعلق ’’شاہی خاندان‘‘ سے ہو۔ اس کے باوجود ان کی ہوس ختم نہیں ہوتی تو یہ ان کی بدقسمتی ہے ورنہ ان کیلئے مقام شکر ہے جس معاشرے میں لوگوں کو کھانے کیلئے ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی وہاں ان کے پاس وہ سب کچھ ہے جس کا انہوں نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا اور جس کے حصول کیلئے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ اصل میں ان بے چاروں کا قصور بھی نہیں۔ وہ بھی ایک ایسے ’’اجتماعی کلچر‘‘ کا شکار ہیں جس کے مطابق کسی کنگلے پر قدرت مہربان ہو جائے تو وہ اوقات سے باہر ہو جاتی ہے۔ اس کا خیال ہوتا ہے یہ سب کچھ اس نے اپنی محنت کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے۔ اس بے وقوف کو کون سمجھائے مگر سب کچھ محنت کے بل بوتے پر حاصل ہوتا تو اکبری گیٹ لاہور کا ستر سالہ وہ مزدور بھی راتوں رات امیر کبیر ہو جاتا جو اپنی بوڑھی کمر پر منوں وزن لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاتا ہے تو راستہ میں کئی مقامات پر اسے اپنی سانسیں اکھڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ اس سے زیادہ محنت کون کرتا ہے؟ ہمارے ’’ماڈل کھلاڑی‘‘ اس حقیقت کو سمجھنے کی کوششیں کر لیں۔
کل کے کنگلے کھلاڑی جائز ناجائز طریقوں سے مال و زر اکٹھا کرتے ہوئے یقیناً اس سوچ کا شکار ہوں گے کل کہیں ان کے بدتر حالات واپس نہ لوٹ آئیں لہٰذا جتنا مال سمیٹا جا سکتا ہے سمیٹ لیں۔ افسوس کہ ان کے ایمان بہت کمزور ہیں۔ یہ اس حقیقت سے ناآشنا ہیں کہ جس نے دیا ہے وہ چھین بھی سکتا ہے اور میرے خیال میں ان کے ’’حالیہ کارنامے‘‘ کے باعث اس کا وقت اب قریب آن پہنچا ہے۔ اس ملک نے انہیں جو عزت دی وہ انہیں راس نہیں آسکی۔ اللہ کرے ان پر جو الزام لگا ہے غلط ثابت ہو جائے‘ سارے شواہد سارے حقائق تبدیل ہو کر رہ جائیں ورنہ ان جیسی صلاحیتیں رکھنے والے حکمران انہیں شاید معاف کر دیں پاکستان کے وہ سترہ کروڑ عوام کبھی معاف نہیں کریں گے جن کے دل ان کی ’’ماڈلانہ حرکتوں‘‘ سے پہلے ہی بہت دکھے ہوئے تھے اور رہی سہی کسر میچ فکسنگ کے الزام نے پوری کر دی۔ اپنے ایک گذشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کرکٹ کو جو وقار عمران خان جیسے کھلاڑیوں نے بخشا اب اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لالچ ہوس حرص اور طمع سے پاک تھا۔ کھلاڑیوں میں صرف ایک ہی جذبہ ہوتا تھا کہ ملک و قوم کا نام روشن کریں اس جذبہ عظیم کے تحت کرکٹ کے میدان میں پاکستان کی دنیا میں ایسی شناخت قائم ہوئی جو کسی بڑے بڑے سے کم نہ تھی۔ بدقسمتی سے آج کرکٹ مداریوں‘ جواریوں اور بعض ایسے ایکٹر کھلاڑیوں کے نرغے میں ہے جن کا دین دھرم صرف اور صرف پیسہ ہے۔ ہمیں وہ زمانہ بھی یاد ہے جب کھلاڑیوں کو فکر ہوتی تھی کسی سستی کاہلی نااہلی حتیٰ کہ قسمت کی خرابی کے باعث بھی میچ ہار گئے تو لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟ آج کھلاڑی جائز ناجائز طریقوں سے میچ ہار کر آتے ہیں تو بھی ان کی گردنیں اکڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ یہ شاید اس پیسے کا خمار ہوتا ہے جو اتنا انہیں جیت کر نہیں ملتا جتنا ہار کر مل جاتا ہے!
ہم تو بارہا دعاگو ہیں ان پر لگے ہوئے الزامات غلط ثابت ہو جائیں۔ ویسے درست بھی ثابت ہو گئے تو انہیں کونسی شرمندگی ہوتی ہے؟ ایسے اعمال پر وطن عزیز کے حکمران‘ اس کے کچھ جرنیل‘ جج‘ جرنلسٹ اور عوام شرمندہ نہیں ہوتے تو کھلاڑی کیوں ہوں گے؟ اپنی صفائی میں سو دلیلیں یہ بھی ڈھونڈ لیں گے۔ ممکن ہے یہ عرض کریں ہم تو میچ فکسنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی کمائی سے سیلاب زدگان کی مدد کرنا چاہتے تھے اور حکمران اور ان جیسی ’’قوم‘‘ اپنے پیارے کھلاڑیوں کا یہ عذر نہ صرف دل و جان سے قبول کر لے بلکہ اس ’’جذبہ عظیم‘‘ پر انہیں کسی بڑے ’’قومی اعزاز‘‘ سے بھی نواز دیا جائے کہ اب بہت سی شخصیات میں ’’قومی اعزاز‘‘ کی ریوڑیاں ایسی خدمات کے عوض ہی بانٹی جاتی ہیں۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ کچھ پاکستانی اب دنیا میں اس انداز سے ’’مقبول‘‘ ہوتے جا رہے ہیں کہ ان پر غلط الزام بھی لگے تو درست ہی معلوم ہوتا ہے۔ جیسے جھوٹے کا المیہ یہ ہوتا ہے اس کے سچ پر بھی کوئی یقین کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں