کیا ہے؟ کیا نہیں ہے؟

خالد احمد ـ 2 ستمبر ، 2010
لہٰذا کسی بات کا سمجھ میں آجانا‘ اس کی ’مکمل تفہیم‘ کا ’اشاریہ‘ یا ’انڈیکس‘ نہیں ہوتا‘ بلکہ بات کی تفہیم کا نکتہ آغاز ضرور ہوا کرتا ہے! اگر یہ بات سمجھ میں آجائے تو تمام باتیں اپنی گتھیاں آپ کھول دیتی ہیں اور گمراہ کشا سوالات واضح ہونا شروع کر دیتے ہیں!
اگر یہ بات سمجھ لی جائے تو ہم یہ بات بھی جان جاتے ہیں کہ ’مکمل اتفاق‘ عموماً کسی نہ کسی ’یک نکاتی ہدف‘ پر ہوا کرتا ہے اور یہ دو لفظ اس ایجنڈے کے آغاز کا ’روایتی جملہ‘ ہو کر بھی ایک ’مضبوط اشاریہ‘ ضرور بن جاتے ہیں!
معاملات الجھانے کیلئے صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کی ’ذات‘ ہدف بنائی جانے لگی تو ہم نے ان کے ’اعمال‘ پر انگشت نمائی کی تو ’یک نکاتی دانش ور‘ نے ہمیں ٹوک دیا تو ہم نے کہا ’سیاسی عامل بابا جی! آپ ان کی جگہ بیٹھ کر انہی ’اعمال‘ اور ’وظائف‘ پر مبنی ’چلہ‘ تو نہیں کاٹنا چاہتے؟ ایک قہقہہ پڑا اور وہ ہمیں کاٹ دوڑنے کا پروگرام ملتوی کرنے پر مجبور ہو گئے! بات آئی گئی ہو گئی!
جناب پرویز ’مشرف کے بعد کے حالات‘ کچھ یوں ہیں کہ امریکہ اب ہماری بات سن بھی رہا ہے اور سمجھ بھی رہا ہے۔ مگر وہ ابھی تک ہماری بات کے تمام پہلوؤں سے متفق نہیں! کیونکہ وہ ’پاکستانی تزویراتی حکمت عملی‘ اور اس خطے کیلئے اپنی ’تزویراتی حکمت عملی‘ میں مطابقت‘ نہیں پا رہا! کیونکہ اسے طویل عرصے سے ہمارا جداگانہ طرز کلام الجھائے رہا ہے!
ہم ’ہر بات‘ جلدی جلدی ’اکھڑی اکھڑی‘ پولی پھولی سانسوں کے ساتھ کرنے کے عادی ہیں اور وہ ہماری بات سنے بغیر ہمارے لئے ایک جذبہ ترمیم بیدار کر لینے کی عادت اپنا چکے ہیں اور وہ 780 بلین ڈالر کا تیل نقد و نقد پھونک دینے والی قوم کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر صرف ایک ارب 86 کروڑ ڈالر کی رقم رکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور ہم ’قومی وقار‘ بچ جانے پر خدا کا شکر ادا کرتے لوٹ آتے ہیں!
یاد رہے کہ ہم نے یہ ایک ارب 86 کروڑ ڈالر ہی امریکی تزویراتی حکمت عملی ’مکمل اتفاق‘ کے عوض حاصل کیا ہے! اور یہ ’مکمل اتفاق‘ بھی ہم سب نے آپس میں ’مکمل اتفاق‘ کے میدان میں سرعام منعقد ہوئی تھی! ’پاکستان میں جمہوریت‘ اس امدادی پروگرام کی ’امریکی شرط‘ کے طور پر گذشتہ ڈھائی برس سے برداشت ہو رہی ہے! لہٰذا ابھی ’مارشل لا جیسے اقدامات‘ ’مڈٹرم انتخابات‘ کی مخالفت کی گراں بار ذمہ داری پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے‘ جبکہ مارشل لا جیسے اقدامات کی مخالفت کا بوجھ پاکستان مسلم لیگ نون کے مضبوط کاندھوں پر لاد دیا ہے! (جاری)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں