چارہ گری سے گریز؟

سعید آسی ـ 2 جون ، 2009
انہوں نے تو بڑی معصومیت کے ساتھ کہہ دیا کہ بونیر کا علاقہ اب کلیئر ہے‘ اس لئے وہاں سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین اپریشن اب اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے گھروں کو واپس جانا ہی ہے‘ آپ نہ بھی کہیں تو ایک نہ ایک دن وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے کہ گھر تو انکے اپنے ہیں۔ کوئی خوشی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتا‘ مگر جس نے درد دیا ہے‘ وہ اس درد کی دوا دیئے بغیر ہی انہیں کہہ رہے ہیں کہ اب افاقہ ہو جائیگا…؎
جنیاں میرے تن نوں لگیاں
تینوں اک لگے تے جاناں
یہ اپنے ہی وطن میں بے وطن ہونے والے‘ یہ اپنے ہی گھر میں بے گھر ہونے والے‘ ڈرون حملوں سے فوجی اپریشن تک اپنی تباہی کے جو مناظر اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں‘ اپنے گھر بار‘ کاروبار لٹا چکے ہیں‘ اپنے بچوں کا مستقبل تاریک کر چکے ہیں‘ اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں‘ اپنی آرزئوں‘ تمنائوں کا خون کر چکے ہیں اور نہیں جانتے کہ ابھی ان کے ساتھ کیا بیتنی ہے۔ مستقبل میں ان کے علاقے کا نقشہ کیا بننا ہے‘ کیا وہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے محض اس اطمینان سے مطمئن ہو جائیں گے کہ اب آپ کا علاقہ کلیئر ہے‘ گھروں کو لوٹ جائو…؎
ایسا نہ ہو کہ درد بنے دردِ لادوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
ابھی تو ان بے خانماں برباد گھرانوں کے حوصلے کی آزمائش شروع ہونی ہے‘ جو سکون کی زندگی بسر کرتے تھے‘ بیٹھے بٹھائے اپنے بارونق علاقے‘ خوشحال گھرانوں‘ بھرے پُرے گھروں‘ مستحکم کاروبار‘ لہلاتے کھتیوں‘ کھڑی پکی فصلوں اور تابناک مستقبل کی امنگوں کو تج کر نقل مکانی پر مجبور کئے گئے‘ اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے اور گھر کاروبار سمیت سب کچھ تباہ و برباد ہوا پائیں گے تو انکے دلوں پر کیا بیتے گی؟ ’’معصوم‘‘ رحمٰن ملک کو یقیناً اس درد کا احساس نہیں ہو سکتا‘ ورنہ وہ اتنی آسانی سے یہ دعوت نہ دیتے کہ بونیر والے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔
ان حکومتی حکمت اور تقدیر کے ماروں کے ساتھ نقل مکانی کے عمل کے دوران کیا کچھ نہیں ہوا‘ کسی کی خواتین بچھڑ گئیں‘ کسی کے بچے‘ تپتی دھوپ‘ جھلستی زمین پر بھوکے پیاسے کئی گھنٹوں اور کئی دنوں کا دشوار گزار سفر طے کرکے یہ لوگ مردان‘ نوشہرہ‘ پشاور اور قرب و جوار کے دیگر علاقوں میں پہنچے تو اکثر کو کھلے آسمان تلے راتیں بسر کرنا پڑیں‘ کیمپوں کا اہتمام عالمی میڈیا سے حکومت کی توجہ مبذول کرانے پر کئی روز بعد ممکن ہوا اور یہ کیمپ بھی اتنے ناکافی تھے کہ نقل مکانی کرنے والے تمام لوگ ان میں سما نہیں سکتے تھے۔ پھر ان کی اپنی تہذیب و اقدار جن میں خواتین کی بے پردگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مگر اپنے ہی وطن میں جبراً بے وطن ہونے والے ان شہریوں کی خواتین کو راشن پانی کے حصول کی خاطر مجبوراً بے پردہ ہونا پڑا جن کیلئے پردے کا انتظام تو کجا‘ ٹائلٹ تک کی سہولت نہیں تھی۔ پھر خوراک و ادویات کی قلت چلچلاتی دھوپ اور حبس میں بغیر پنکھے کے زندگی گزارنے کا کرب ان مجبور انسانوں کے حصہ میں ہی آیا جو بیمار پڑے تو فوری طبی امداد نہ مل سکی‘ طبی امداد ملی تو جان بچانے والی ادویات دستیاب نہ ہوئیں‘ پینے کے صاف پانی کے قطرے قطرے کو ترستے رہے‘ روز جیتے‘ روز مرتے رہے‘ ان پر مسلط کردہ حالات میں جنم لینے والی کرب کی ایسی داستانیں فضائوں میں بکھر چکی ہیں کہ انہیں سن کر کلیجہ پھٹ جائے۔ راتوں کی نیند اور دن کا سکون حرام ہو جائے۔ رحمٰن ملک کو کیا خبر کہ ان مجبور دکھی انسانوں پر کیا بیت گئی ہے اور اب جب وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے اور ان کی تباہی کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے‘ اپنی فصلیں اجڑی ہوئی پائیں گے اور ان سے اٹھنے والی بارود کی بدبو انکے دل و دماغ کو جکڑے گی اور در و دیوار پر جمے ہوئے انسانی خون کے چھینٹوں پر ان کی نظر پڑے گی تو وہ کس نئے کرب کا شکار ہوں گے‘ اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس پر بیت رہی ہو۔ نقل مکانی کا غم‘ ہجرت کی زندگی کے دکھ اور اب اپنی آباد بستیوں‘ ہنستے بستے گھروں کو اجڑا ہوا اور ویران پا کر وہ جس نئے غم اور صدمے سے دوچار ہوں گے‘ ان تمام غموں کا مجموعہ انہیں صبر کا درس دے گا یا ایسے ہی ردعمل کے اظہار کا؟ لازماً ان کے ذہنوں میں نفرتوں کی فصل ہی کاشت ہو گی اور اس فصل کا پھل بندوق‘ بارود کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا اس لئے جناب اتنی معصومیت کے ساتھ بے خانماں برباد گھرانوں کو اپنے گھروں کو واپس لوٹ جانے کا نہ کہیں‘ پہلے ان کے برباد علاقوں اور گھروں کو رہنے کے قابل بنالیں‘ ان کی اجڑی ہوئی فصلوں‘ لٹے ہوئے کاروبار کی تلافی کرلیں‘ ان کے زخمی زخمی دلوں پر پھاہے رکھ لیں‘ انہیں مستقبل کے تحفظ کی ضمانت دے لیں‘ پھر انہیں عزت و احترام کے ساتھ خود ان کے گھروں میں چھوڑ کر آئیں‘ ورنہ ردعمل میں ان کے دلوں میں پیدا ہونے والی نفرتوں کی آگ سب کچھ بھسم کر دیگی۔ آپ نے بارود بویا ہے تو اس سے محبت والی فصل تو نہیں کاٹی جا سکے گی اس لئے بارود کی فصل پکنے کی نوبت نہ آنے دیں‘ پہلے تدبر نہیں ہو پایا تو اب ہی کوئی حکمت کرلیں۔ چارہ گری سے گریز کرو گے تو بے چارگی بڑھائو گے اور بے چارگی…؟ انجام خود سوچ لیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں